لاہور (نامہ نگار) گرین ٹائون کے علاقہ میں درندہ صفت شخص نے دوسری جماعت کے 6 سالہ طالبعلم کو زیادتی کے بعد مسجد کی چھت پر پھانسی دیکر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ماں لخت جگر کی موت کا سن کر صدمے سے نیم بیہوش ہوگئی جبکہ علاقے میں غم و غصے کی لہر پھیل گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ گرین ٹائون سیکٹر ڈی ٹو کے رہائشی رنگ ساز یاسین کا 6 سالہ بیٹا معین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا اور مقامی سکول گرین ٹائون میں دوسری جماعت کا طا لبعلم تھا۔ جمعرات کے روز وہ ٹیوشن پڑھنے گیا لیکن شام تک واپس گھر نہ آیا۔ جس پر لواحقین کو تشویش ہوئی اور اسکی تلاش شروع کردی لیکن اس کا کوئی سراغ نہ ملا جس کے بعد اس کا والد یاسین اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ مقامی تھانے چلا گیا۔ پولیس نے یاسین کی درخواست پر نامعلوم افراد کے خلاف بچے کے اغواء کا مقدمہ درج کرلیا۔ گذشتہ صبح مقامی المقرم مسجد میں صفائی کیلئے ایک شخص آیا تو اس نے دیکھا کہ معین کی نیم برہنہ لاش مسجد کی بالائی منزل پر ایک لوہے کی گرل کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی۔ صفائی والے شخص نے فوری طور پر مسجد کمیٹی کے صدر کو اطلاع دی جس پر پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی اور نعش کو نیچے اتار کر اسکی شناخت کیلئے مساجد میں اعلانات کروائے اور یاسین سے رابطہ کیا جب یاسین اور اسکی بیوی نے بچے کی نعش کو دیکھا تو والدین غم سے نڈھال ہوگئے اور تھانہ میں ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اس موقع پر دلخراش مناظر دیکھنے کو آئے پولیس نے بچے کی نعش پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے بھجوا دی اور تفتیش کا دائرہ وسیع کردیا تاہم اس سلسلہ میں انچارج انویسٹی گیشن نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ بچے کو زیادتی کے بعد ہی گلے میں پھندا دیکر بے دردی سے قتل کیا گیا کیس کے سلسلہ میں امام مسجد سمیت 5 افراد کو حراست میں لے لیا۔ مقتول کے والد یاسین نے بتایا کہ اسکی کسی سے دشمنی وغیرہ نہیں۔ آن لائن کے مطابق مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ مسجد کی چھت کے جس کمرے سے بچے کی نعش ملی اس کی چابی صرف امام مسجد کے پاس ہوتی ہے۔ دریں اثنا وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے گرین ٹائون میں زیادتی کے بعد 5 سالہ بچے کے قتل کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے رپورٹ طلب کر لی اور ہدایت کی کہ واقعہ میں ملوث ملزموں کو فی الفور گرفتار کیا جائے اور متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی ہر قیمت پر یقینی بنائی جائے۔
Friday, January 2, 2015
2015کا پہلا عجوبہ‘بکری نے انسانی بچے کو جنم دیدی
میسور ہندوستان کے شیر میسور ٹیپوسلطان کا میسور ایک بارپھر شہ سرخیوں میں آیا ہے اس بار جومعاملہ سامنے آیا ہے جسے پڑھ کر سب سے پہلے اس پر یقین نہیں کیاجاسکتا ،کرناٹک کے میسور ضلع میں ایک بکری نے انسان کے بچوں کی شکل والے بچے کو جنم دیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق ایس ڈی کوٹے تعلقہ کے چھوٹے سے گاؤں سولا پور میں بھاسکر نام کے شخص کی بکر ی نے دوبچوں کو جنم دیا ۔بچوں کو دیکھ کر بھاسکر کی آنکھیں اورچہرہ حیران کن رہا۔بچے کے اس بچے کے دوہاتھ ،سر آنکھ اور منہ کیساتھ اسکی جسمانی ساخت انسانی بچے جسی ہے ،صرف ان بچوں کے کان اورپاؤں ہی بکریوں کی طرح ہیں ۔یہ خبرجنگل کی آگ کی طرح پورے علاقہ میں پھیل ئی اور لوگ بکری کے اس نایاب بچے کو دیکھنے کیلئے جمع ہوگئے لیکن بعض اطلاعات کے مطابق بچوں کی موت ہوگئی ہے ۔ڈاکٹر بھی اس عجیب بچے کی پیدائش سے متعلق معلومات حاصل کرنے لگے ہیں ۔ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ کسی مورثی عوارض(Gentetic Disordersکی شکایت کی وجہ سے ہوتا ہے ۔اس خرابی کی شکایت میں بچے کے جسم میں ضرورت سے زیادہ سیل بھر جاتے ہیں ۔ان بچوں کے جسم کو محفوظ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا اور میسورمیں انکے جسم کی نمائش بھی لگائی جائیگی
فیصل آباد: قومی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی تجمل باجوہ ٹریفک حادثہ میں جاں بحق
فیصل آباد: قومی کبڈی ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی 28 سالہ تجمل باجوہ ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ نماز جنازہ کے بعد سپردخاک کردیا گیا۔ متوفی دو بچوں کا باپ تھا۔ 15روز قبل خدا نے بیٹے کی خوشی سے نوازا تھا۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ ڈجکوٹ کے نواحی علاقے چک 275 ر۔ب کالا کے رہائشی پاکستان کبڈی ٹیم کے مایہ ناز کھلاڑی تجمل باجوہ ضروری کام کے سلسلے میں موٹر سائیکل پر جا رہے تھے کہ ٹائر پھٹنے سے موٹر سائیکل مخالف سمت سے آنے والے موٹر سائیکل سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں تجمل باجوہ شدید زخمی ہوگئے جس کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ جن کو گذشتہ شام چار بجے نماز جنازہ کے بعد سپردخاک کردیا گیا۔ نماز جنازہ میں ملک بھر سے کبڈی کے کھلاڑیوں کے علاوہ لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ائرفورس کے چاک و چوبند دستے نے مرحوم کو سلامی دی۔ یاد رہے تجمل باجوہ ائرفورس کی جانب سے کھیلتے تھے۔ وہ قومی کبڈی ٹیم کی جانب سے بھارت، کینیڈا، انگلینڈ، ایران سمیت کئی ممالک کا دورہ کرچکے ہیں۔ علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ کبڈی ایسوسی ایشن فیصل آباد کے جنرل سیکرٹری رانا عمران اور ڈویژنل کبڈی ایسوسی ایشن فیصل آباد کے صدر چودھری جاوید کمال، پرویز اقبال کمال، محبوب عالم سندھو اور مبصر کبڈی طیب گیلانی نے تجمل باجوہ کی موت کو بڑا حادثہ قرار دیا ہے۔ سابق کمشنر طاہر حسین نے بھی نوجوان کھلاڑی کی موت پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا تجمل باجوہ ملک کا قیمتی سرمایہ تھا۔ دکھ کی اس گھڑی میں ڈسٹرکٹ کبڈی ایسوسی ایشن مرحوم کے لواحقین کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ قومی کبڈی ٹیم کے کھلاڑی اور بیسٹ سٹاپر تجمل باجوہ ایشین گیمز میں پاکستان ٹیم کے کپتان رہے۔ 2014ء میں ہونیوالی انڈو پاک پنجاب گیمز اور بیچ کبڈی میں بھی شر یک ہوئے۔ تجمل باجوہ کبڈی ورلڈ کپ کیلئے سپورٹس بورڈ پنجاب کی جانب سے لگائے گئے تربیتی کیمپ میں بھی شریک رہے مگر کندھے میں تکلیف کے باعث کبڈی ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرسکے۔ ڈائریکٹر جنرل سپورٹس پنجاب عثمان انور نے تجمل باجوہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ دریں اثناء قومی کبڈی ٹیم کے کوچ غلام عباس بٹ، سرور بٹ ، کبڈی ٹیم کے منیجر وقاص اکبر، کپتان شفیق چشتی اور کبڈی کے کھلاڑیوں نے بھی تجمل باجوہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کبڈی فیڈریشن کے صدر چودھری شجاعت حسین اور سیکرٹری رانا محمد سرور نے تجمل باجوہ کی ٹریفک حادثہ میں ہلاکت پر خاندان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
یہ خبر پڑھنے کے بعد آپ اےٹی ـ ایم سے پیسے نکلواتے ہنسیں گے
نیویارک (نیوز ڈیسک)آپ یقینا اس بات سے اتفاق کریں گے کہ جب اے ٹی ایم مشین میں سے چرخیوں کے گھومنے جیسی آواز آتی ہے تو ہمارا دل خوشی سے باغ باغ ہو جاتا ہے کیونکہ یہ اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ رقم باہر آنے کو ہے۔
لیکن کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ یہ آواز مکمل طور پر مصنوعی ہوتی ہے جو مشین میں نصب ایک سپیکر سے نکلتی ہے اور یہ کہ مشین کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں گھوم رہی ہوتی کہ جس سے یہ آواز پیدا ہو۔
ویب سائٹ Humans Inventکے اس انکشاف کے بعد بھی اکثر لوگوں کو اپنے سالوں پرانے خیال کو بدلنا مشکل محسوس ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتے رہے ہیں کہ مشین کی چر خیاں اور پھرکیاں گھوم گھوم کران کی رقم باہر لا رہی ہیں۔
ان لوگوں کو مائل کرنے کے لیے کچھ مزید دلچشپ مثالیں بھی دی گئی ہیں ۔مثلاً
آپکے موبائل فون کے کیمرے کو استعمال کرنے سے کلک کی آواز آتی ہے ۔اب بھلا اس میں کونسے مکینکل آلات ہوتے ہیں۔
لوگوں کو قدرتی گیس کی موجودگی سے خبردار کرنے کے لیے اس میں ناگوار بو شامل کی جاتی ہے ۔
بہت کم آواز والے انجنوں سے راہ گیروں کو خبردار کرنے کے لیے انجن کی مصنوعی آواز استعمال کی جاتی ہے ۔
اے ٹی ایم کی مصنوعی آواز کا انکشاف اتنا حیرت انگیز ہے کہ بعض ملازمین جو ان مشینوں پر کام کرتے ہیں انہیں بھی یقین نہیں آ رہا۔
لیکن کیا آپ اس بات پر یقین کریں گے کہ یہ آواز مکمل طور پر مصنوعی ہوتی ہے جو مشین میں نصب ایک سپیکر سے نکلتی ہے اور یہ کہ مشین کے اندر کوئی ایسی چیز نہیں گھوم رہی ہوتی کہ جس سے یہ آواز پیدا ہو۔
ویب سائٹ Humans Inventکے اس انکشاف کے بعد بھی اکثر لوگوں کو اپنے سالوں پرانے خیال کو بدلنا مشکل محسوس ہوا ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے یہی سمجھتے رہے ہیں کہ مشین کی چر خیاں اور پھرکیاں گھوم گھوم کران کی رقم باہر لا رہی ہیں۔
ان لوگوں کو مائل کرنے کے لیے کچھ مزید دلچشپ مثالیں بھی دی گئی ہیں ۔مثلاً
آپکے موبائل فون کے کیمرے کو استعمال کرنے سے کلک کی آواز آتی ہے ۔اب بھلا اس میں کونسے مکینکل آلات ہوتے ہیں۔
لوگوں کو قدرتی گیس کی موجودگی سے خبردار کرنے کے لیے اس میں ناگوار بو شامل کی جاتی ہے ۔
بہت کم آواز والے انجنوں سے راہ گیروں کو خبردار کرنے کے لیے انجن کی مصنوعی آواز استعمال کی جاتی ہے ۔
اے ٹی ایم کی مصنوعی آواز کا انکشاف اتنا حیرت انگیز ہے کہ بعض ملازمین جو ان مشینوں پر کام کرتے ہیں انہیں بھی یقین نہیں آ رہا۔
Thursday, January 1, 2015
اغوا کیس: لکھوی کا 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ‘ نظربندی ختم کرنیکا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج
چہل قدمی کریں اور صحت مند رہیں
صبح کی سیر ہو یا شام کی دونوں ہی فائدہ مند ہیں۔لیکن طب کے ماہرین کے مطابق صبح کی سیر کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے کیونکہ اس وقت ہوا میں آلودگی نہیں ہوتی جو پھیپڑوں کے لئے مفید ہے۔جب بھی وقت ملے چہل قدمی ضرور کرنی چایئیے۔آپ نے سن رکھا ہو گا کہ حرکت سے ہی برکت ہے۔بالکل جناب یہ سچ ہے وہی لوگ کامیاب رہتے ہیں جو حرکت میں رہتے ہیں جو بیٹھ گیا وہ پیچھے رہ گیا۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا جسم چاک و چوبند رہے تو پھر چہل قدمی کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنا لیں۔چہل قدمی کے ساتھ ساتھ ورزش کی بھی بہت اہمیت ہے لیکن جو لوگ کسی بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے ورزش کرنے سے قاصر ہوں وہ اپنی طاقت کے مطابق چہل قدمی ضرور کریں اس سے آپ کا جسم صحت مند رہے گا اور آپ کئی بیماریوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
اگر آپ روزانہ وقت کی کمی کی وجہ سے چہل قدمی نہیں کر سکتے تو ہفتہ میں تین بار ضرور کریں۔اگر آپ کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے اور آپ نے کھبی بھی وازش نہ کی ہو تو جناب آج سے کرنی شروع کر دیں دن بدن فرق آپ خود محسوس کریں گے یقیناً آپ پہلے سے زیادہ چوک و چوبند ہو جائیں گے۔چہل قدمی سے آپ کی جسمانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے آج کل اگر بازار جانا ہو تو لوگ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں بہتر ہے کہ اگر بازار آپ کی رہائش سے نذدیک ہے تو پیدل ہی ضروریات زندگی کی اشیاء خریدیں۔اگر گھر کے نذدیک کوئی پارک ہے تو اس میں روزانہ چیل قدمی کریں ورنہ اپنے گھر کی گلی میں ہی چہل قدمی کر لیں۔مقصد تو چلنا ہے۔
ہر گھر بوڑھے افراد ہوتے ہیں یقیناً آپ نے دیکھا ہو گا کہ ان کے چہرے پر جھریاں،دانتوں سے محروم ہوتے ہیں اس کے علاوہ انھیں بھولنے کی بیماری بھی ہوتی ہے ۔لیکن آپ ان تمام باتوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اگر آپ ابھی اپنے آپ میں تبدیلی کر لیں تو بڑھاپا دیر سے ہی آئے گا۔اپنے جسم کو حرکت میں رکھیں اور صحت مند رہیں۔آپ کے گھر جو افراد بوڑھے ہیں اگر و اپنا کوئی چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں تو خدارا ان کو کرنے دیا کریں تا کہ جسمانی حرکت ہوتی رہے یہاں ہم ان کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے انھیں صرف آرام کا مشورہ دیتے ہیں جو ان کیلئے مزید زحمت بن جاتا ہے۔ان کے لئے بھی چہل قدمی بہت ضروری ہے۔ہمارے نوجوان جو صحت مند ہیں ان کو ہر قسم کے کھیل کھیلنے چایئیں۔ہر فرد کو تقریباً روزانہ تیس منٹ تک تیز تیز چہل قدمی کرنی چاہیئے۔آپ کی ہڈیوں اور عضلات کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک تو کیلشیم ہے اور دوسری ورزش سے آپ اپنی ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ورزش اور چہل قدمی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ آپ کی خوراک متوازن ہو۔اس میں گوشت، مچھلی، انڈہ، سبزیاں اور دالیں شامل ہوں ۔امید کرتا ہوں کہ آج کا کالم بھی آپ کو پسند آیا ہو گا۔میرا مقصدآپ کو بتانا اور جگانا ہے باقی کام آپ کا ہی ہے ۔آجکل بھی بہت سے نوجوان موٹاپے کا شکار ہیں جو قبل از وقت دل کے مریض بن جاتے ہیں یا پھر فالج کا شکار ہو جاتے اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔اسی لئے دوستو آج سے ہی اپنی زندگی کو بدلیں اور روزانہ تیس منٹ کی چہل قدمی کریں۔خدا آپ سب کو صحت و تندرستی دے (آمین)۔
اگر آپ روزانہ وقت کی کمی کی وجہ سے چہل قدمی نہیں کر سکتے تو ہفتہ میں تین بار ضرور کریں۔اگر آپ کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے اور آپ نے کھبی بھی وازش نہ کی ہو تو جناب آج سے کرنی شروع کر دیں دن بدن فرق آپ خود محسوس کریں گے یقیناً آپ پہلے سے زیادہ چوک و چوبند ہو جائیں گے۔چہل قدمی سے آپ کی جسمانی قوت میں اضافہ ہوتا ہے آج کل اگر بازار جانا ہو تو لوگ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہیں بہتر ہے کہ اگر بازار آپ کی رہائش سے نذدیک ہے تو پیدل ہی ضروریات زندگی کی اشیاء خریدیں۔اگر گھر کے نذدیک کوئی پارک ہے تو اس میں روزانہ چیل قدمی کریں ورنہ اپنے گھر کی گلی میں ہی چہل قدمی کر لیں۔مقصد تو چلنا ہے۔
ہر گھر بوڑھے افراد ہوتے ہیں یقیناً آپ نے دیکھا ہو گا کہ ان کے چہرے پر جھریاں،دانتوں سے محروم ہوتے ہیں اس کے علاوہ انھیں بھولنے کی بیماری بھی ہوتی ہے ۔لیکن آپ ان تمام باتوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔اگر آپ ابھی اپنے آپ میں تبدیلی کر لیں تو بڑھاپا دیر سے ہی آئے گا۔اپنے جسم کو حرکت میں رکھیں اور صحت مند رہیں۔آپ کے گھر جو افراد بوڑھے ہیں اگر و اپنا کوئی چھوٹا موٹا کام کرتے ہیں تو خدارا ان کو کرنے دیا کریں تا کہ جسمانی حرکت ہوتی رہے یہاں ہم ان کو کوئی کام نہیں کرنے دیتے انھیں صرف آرام کا مشورہ دیتے ہیں جو ان کیلئے مزید زحمت بن جاتا ہے۔ان کے لئے بھی چہل قدمی بہت ضروری ہے۔ہمارے نوجوان جو صحت مند ہیں ان کو ہر قسم کے کھیل کھیلنے چایئیں۔ہر فرد کو تقریباً روزانہ تیس منٹ تک تیز تیز چہل قدمی کرنی چاہیئے۔آپ کی ہڈیوں اور عضلات کے لئے دو چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ایک تو کیلشیم ہے اور دوسری ورزش سے آپ اپنی ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
ورزش اور چہل قدمی کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ آپ کی خوراک متوازن ہو۔اس میں گوشت، مچھلی، انڈہ، سبزیاں اور دالیں شامل ہوں ۔امید کرتا ہوں کہ آج کا کالم بھی آپ کو پسند آیا ہو گا۔میرا مقصدآپ کو بتانا اور جگانا ہے باقی کام آپ کا ہی ہے ۔آجکل بھی بہت سے نوجوان موٹاپے کا شکار ہیں جو قبل از وقت دل کے مریض بن جاتے ہیں یا پھر فالج کا شکار ہو جاتے اور موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔اسی لئے دوستو آج سے ہی اپنی زندگی کو بدلیں اور روزانہ تیس منٹ کی چہل قدمی کریں۔خدا آپ سب کو صحت و تندرستی دے (آمین)۔
گاجر کے فائدے
گاجر سبزی ہے لیکن پھل کے طور پر بھی کھائی جاتی ہے۔یہ زمین میں جڑ کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ گاجر کا مزاج گرم تر ہوتا ہے ۔سردیوں میں گاجر پاکستان میں ہر جگہ دستیاب ہوتی ہے۔لیکن لوگوں کو اس کے فوائد کا کچھ زیادہ پتا نہیں۔اسی لئے میں آج کا مضمون منتخب کیا ہے تاکہ آپ لوگ گاجریں کھا کر اﷲ تعالیٰ کی اس نعمت سے بھر پور فائدہ اٹھا سکیں۔گاجریں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک دیسی گاجر اور دوسری ولائتی گاجر۔دیسی گاجریں رنگت کے لحاظ سے سیاہ سرخی مائل اور بینگنی رنگ کی ہوتی ہیں جبکہ ولائتی گاجریں خوشنما سرخی مائل رنگ کی ہوتی ہیں۔
گاجروں میں چونا،فاسفورس،معدنی نمکیات،فولاد اور وٹامن Aکی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔اس میں وٹامن Aکا ایک جزو کیروٹین بھی پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ وٹامن B,Eاور وٹامنH بھی پائے جاتے ہیں۔ویسے تو اس کو کچا کھانا بھی پسند کیا جاتا ہے اور سلاد کے طور پر بھی ذائقہ دار ہے۔اس کے علاوہ گاجروں کو پکا کر بھی کھایا جاتا ہے۔اس کا حلوہ اور مربہ بڑے شوق سے سب کھاتے ہیں ۔اس کے علاوہ گاجر کا اچار بھی بڑا دل موہ لینے ولا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گاجروں کا جوس بھی بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
اب ہم گاجر کے طبعی لحاظ سے بھی فائدے دیکھتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان فوائد کے پڑھنے کے بعد بہت سارے لوگ گاجریں ضرور کھانا شروع کر دیں گے۔یہ سستی بھی ہیں لیکن فوائد میں کئی پھلوں سے بہتر ہیں اسی لئے اسکو غریبوں کا سیب بھی کہا جاتا ہے۔اگر آج کا مضمون پسند آئے تو LIKEکرنا نہ بھولئے گا۔اسطرح مجھ میں لکھنے کا اور جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
گاجروں میں چونا،فاسفورس،معدنی نمکیات،فولاد اور وٹامن Aکی وافر مقدار پائی جاتی ہے۔اس میں وٹامن Aکا ایک جزو کیروٹین بھی پایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ وٹامن B,Eاور وٹامنH بھی پائے جاتے ہیں۔ویسے تو اس کو کچا کھانا بھی پسند کیا جاتا ہے اور سلاد کے طور پر بھی ذائقہ دار ہے۔اس کے علاوہ گاجروں کو پکا کر بھی کھایا جاتا ہے۔اس کا حلوہ اور مربہ بڑے شوق سے سب کھاتے ہیں ۔اس کے علاوہ گاجر کا اچار بھی بڑا دل موہ لینے ولا ہوتا ہے۔اس کے علاوہ گاجروں کا جوس بھی بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔
اب ہم گاجر کے طبعی لحاظ سے بھی فائدے دیکھتے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ ان فوائد کے پڑھنے کے بعد بہت سارے لوگ گاجریں ضرور کھانا شروع کر دیں گے۔یہ سستی بھی ہیں لیکن فوائد میں کئی پھلوں سے بہتر ہیں اسی لئے اسکو غریبوں کا سیب بھی کہا جاتا ہے۔اگر آج کا مضمون پسند آئے تو LIKEکرنا نہ بھولئے گا۔اسطرح مجھ میں لکھنے کا اور جذبہ پیدا ہوتا ہے ۔
گاجر کے طبعی فائدہ
٭ضعف بصارت ہے
٭کھانسی،دمہ اور سینے کے درد میں مفید ہے
٭گردے اور مثانہ کی پتھری میں کھانا فائدے مند ہے۔اس کے کھانے سے پتھری ٹوٹ کر نکل جاتی ہے۔
٭جگر کے لئے بھی مفید ہے
٭جسم اور دماغ کو طاقت دیتی ہے۔
٭گاجر کھانے سے پیشاب کھل کر آتا ہے۔
٭گاجر کا حلوہ دل کے مریض کے لئے فائدہ مند ہے۔
٭منی کو گاڑھا کرتی ہے۔
٭قبض کشا ہے
٭پانی کی کمی کو دور کرتی ہے
٭اسہال میں گاجر کھانا پانی کی کمی کو پورا کرتا ہے۔
٭آنتوں کو سوزش سے محفوظ رکھتی ہے۔
٭پیٹ کے کیڑے خارج کرنے میں مفید ہے۔
٭گاجر کا مربہ دل،جگر اور معدے کو طاقت بخشتا ہے۔
٭گاجر کا جوس پینا بینائی کے لئے اچھا ہے
٭گاجر کا جوس ناخنوں،ہڈیوں اور بالوں کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔
٭گاجر رنگت بھی نکھارتی ہے۔اس کا جوس روزانہ پینے سے چہرے کی پیلاہٹ دور ہو جاتی ہے۔
٭گاجر کا جوس خون کو صاف کرتا ہے۔
ادرک اور اس کے فائدے
قارئین آپ کے لئے ایک اور سبزی کے فائدے لیکر حاضر ہوں آج ہم طبعی لحاظ سے بھی ادرک کے فوائد سے روشناس ہوں گے۔ادرک ایک سبزی ہے اور اس کو مختلف سبزیوں،دالوں اور گوشت کے پکوانوں میں ڈالا جاتا ہے تاکہ اس کا بہترین مصالحہ تیار ہو اور کھانے لذیز بنیں۔خاص طور پر ایسی سبزیوں میں اس کا ڈالنا ضروری ہوتا ہے جو بادی ہوں جیسے آلو یا گوبھی وغیرہ۔یہ سبزی کھانوں میں لذت پیدا کرنے کے علاوہ مختلف بیماریوں میں بھی مفید ہے جن کا ذکر میں آگے جا کر کروں گا۔یہ تازہ ہی استعمال میں لائی جاتی ہے۔اس کو اگر خشک کر لیا جائے تو یہ سونٹھ بن جاتی ہے اور اسی نام سے مارکیٹ میں فروخت بھی ہوتی ہے۔اس میں وٹامن سی کی مقدار بھی موجود ہوتی ہے اور تاثیر کے لحاظ سے گرم خشک ہے۔
اب ذرا طبعی فائدے دیکھتے ہیں ۔
٭ ادرک کھانوں کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ہر کھانے کے بعد ایک چھوٹا سا ٹکٹرا کھا لیا کریں۔
٭پیٹ درد ،اپھارہ اور پیٹ میں گیس کو خارج کرنے میں مدد کرتی ہے۔
٭بلغم جاری کرتی ہے۔
٭جگر کو تقویت دیتی ہے۔
٭گرم تاثیر ہونے کی وجہ سے یہ جسمانی دردوں کے لئے ذریعہ نجات ہے۔
٭معدے اور انتڑیوں کے جملہ امراض میں فائدہ مند ہے۔جن میں خاص طور پر انٹڑیوں کی سوزش ہے ۔
٭دماغی امراض میں مفید ہے۔
٭ایسے خواتین و حضرات جن کو بھوک نہ لگتہ ہو وہ ادرک کا استعمال کریں کیونکہ ادراک بھوک لگاتی ہے۔
٭سردیوں میں اگر کھانسی ہو جائے تو ادراک کے رس کو شہد میں ملا کر لیں ۔آرام آئے گا۔
٭ادرک گردوں اور مثانے میں طاقت پیدا کرتی ہے۔
٭متلی،قے اور بد ہضمی کے لئے کھانا فائدہ مند ہے۔
٭یرقان اور بواسیر کے لئے اس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
٭اس میں شامل میگنیشیم اور زنک ہمارے خون کے سرکولیشن کو نارمل رکھتا ہے۔اس لئے سر درد اور مائگرین میں مدد گار ہے۔
٭نذلہ،زکام اور بخار میں اس کی یخنی بنا کر پی لیں۔یا پھر اس کا رس چائے میں شامل کر کے لے لیں۔
٭ایک تحقیق کے مطابق ادراک کینسر کے بڑھنے کی رفتار کو کم کر دیتے ہیں۔
٭گھبراہٹ اور بے چینی جیسے مسائل میں بھی ادرک کا استعمال مفید رہتا ہے۔
٭کمر کے نچلے حصے میں اگر درد ہو تو اس سے افاقہ ہو جاتا ہے۔
٭عورتوں کے مخصوص ایام میں دردوں کو کم کرنے میں مفید ہے۔
٭ادرک خون میں شکر کی سطح کوکنٹرول میں رکھتا ہے اور اس کو بڑھنے نہیں دیتا اس لئے شوگر کے مریضوں کے لئے ادرک بہت مفید شے ہے۔
نوٹ۔ادرک کا استعمال ضرورت سے زیادہ نہ کریں۔اور ایسے خواتین و حضرات جو خون پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال کر رہے ہوں وہ اپنے ڈاکر کے مشورے سے ادرک کا استعمال کریں۔
اب ذرا طبعی فائدے دیکھتے ہیں ۔
٭ ادرک کھانوں کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔ہر کھانے کے بعد ایک چھوٹا سا ٹکٹرا کھا لیا کریں۔
٭پیٹ درد ،اپھارہ اور پیٹ میں گیس کو خارج کرنے میں مدد کرتی ہے۔
٭بلغم جاری کرتی ہے۔
٭جگر کو تقویت دیتی ہے۔
٭گرم تاثیر ہونے کی وجہ سے یہ جسمانی دردوں کے لئے ذریعہ نجات ہے۔
٭معدے اور انتڑیوں کے جملہ امراض میں فائدہ مند ہے۔جن میں خاص طور پر انٹڑیوں کی سوزش ہے ۔
٭دماغی امراض میں مفید ہے۔
٭ایسے خواتین و حضرات جن کو بھوک نہ لگتہ ہو وہ ادرک کا استعمال کریں کیونکہ ادراک بھوک لگاتی ہے۔
٭سردیوں میں اگر کھانسی ہو جائے تو ادراک کے رس کو شہد میں ملا کر لیں ۔آرام آئے گا۔
٭ادرک گردوں اور مثانے میں طاقت پیدا کرتی ہے۔
٭متلی،قے اور بد ہضمی کے لئے کھانا فائدہ مند ہے۔
٭یرقان اور بواسیر کے لئے اس کا استعمال مفید ہوتا ہے۔
٭اس میں شامل میگنیشیم اور زنک ہمارے خون کے سرکولیشن کو نارمل رکھتا ہے۔اس لئے سر درد اور مائگرین میں مدد گار ہے۔
٭نذلہ،زکام اور بخار میں اس کی یخنی بنا کر پی لیں۔یا پھر اس کا رس چائے میں شامل کر کے لے لیں۔
٭ایک تحقیق کے مطابق ادراک کینسر کے بڑھنے کی رفتار کو کم کر دیتے ہیں۔
٭گھبراہٹ اور بے چینی جیسے مسائل میں بھی ادرک کا استعمال مفید رہتا ہے۔
٭کمر کے نچلے حصے میں اگر درد ہو تو اس سے افاقہ ہو جاتا ہے۔
٭عورتوں کے مخصوص ایام میں دردوں کو کم کرنے میں مفید ہے۔
٭ادرک خون میں شکر کی سطح کوکنٹرول میں رکھتا ہے اور اس کو بڑھنے نہیں دیتا اس لئے شوگر کے مریضوں کے لئے ادرک بہت مفید شے ہے۔
نوٹ۔ادرک کا استعمال ضرورت سے زیادہ نہ کریں۔اور ایسے خواتین و حضرات جو خون پتلا کرنے والی ادویات کا استعمال کر رہے ہوں وہ اپنے ڈاکر کے مشورے سے ادرک کا استعمال کریں۔
Wednesday, December 31, 2014
موٹاپے کا حیرت انگیز علاج
جس طرح کینسر جدید دور کا ایک خطرناک اور مہلک مرض ہے۔ اسی طرح موٹاپا بھی اس دور کا ایک لا علاج اور اگر لاعلاج نہیں تو عسیر العلاج مرض ضروری ہے۔ اس ضمن میں یورپ کے سلمنگ سنٹر جو کہ اب پاکستان کے تمام شہروں میں رواج پا چکے ہیں یہ سنٹر ورزشوں کے ساتھ ساتھ کھانے کی ادویات بھی استعمال کراتے ہیں جس سے انسان موٹاپے میں کم لیکن امراض کا گڑھ بن جاتا ہے۔ لیکن جب تک یہ طریقہ استعمال کرتا ہے تندرست رہتا ہے اور جب یہ طریقہ چھوڑ دیتا ہے بیماری پھر غالب ہو جاتی ہے۔
مشاہداتی زندگی میں ایسے مریض کو ایک نہیں ہزاروں کی تعداد میں دیکھنے کا موقع ملا ہے جو بہت زیادہ فربہ اور موٹے تھے۔ علاج کے طور پر ورزش اور کچھ کھانے کی ادویات استعمال کیں اور اس بات سے وہ خود حیران ہوئے اور ان کو دیکھنے والے بھی کہ جب انہوں نے وہ دوا استعمال کی تو لاجواب فائدہ نمودار ہوا لیکن کچھ عرصے بعد واپس اسی کیفیت میں آگئے۔ ذیل میں ایک ایسا کم خرچ اور سہل الحصول اور بالا نشین نسخہ پیش ہے امید ہے کہ آپ اس کی قدر فرمائیں گے۔
نسخہ
لاکھ عمدہ 50 گرام
زیرہ سیاہ 50 گرام
کلونجی 50 گرام
تمام ادویات کو کوٹ پیس کر سفوف تیار کریں اور بڑے سائز کے کیپسول بھرلیں دو سے ایک کیپسول ایک وقت میں پانی کے ہمراہ کھانے سے قبل دن میں دو بار استعمال کریں۔ انشاءاللہ یقینی فوائد نمودار ہوں گے ایک بہت ہی زیادہ موٹی خاتون نے جو کہ اب چلنے پھرنے سے بھی عاجز آچکی تھی۔ جب یہی نسخہ استعمال کیا چونکہ ہر علاج سے تنگ تھی اور لئے یہ نسخہ مستقل استعمال کیا اور استعمال کرنے کے بعد جب اپنا وزن کیا تو سترہ پاؤنڈ وزن صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے کے دوران کم ہوا۔ ۔ ۔ ۔ اور ساتھ “تین چیزیں“ استعمال نہ کی جائے۔ (کلونجی کے کرشمات)
یعنی چاول، چینی اور چکنائی یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو فربہ اور غیر ضروری موٹاپا دیتی ہیں۔
پاکستان: دنیا کی سب سے بھاری مچھلی دریافت
صوبہ بلوچستان کے ضلع اورماڑا کے ایک سمندر سے ماہی گیروں نے ایسی مچھلی دریافت کی ہے جو اس سے قبل کبھی پاکستانی سمندروں میں نہیں دیکھی گئی- یہ مچھلی ماہی گیروں کی معمول کی سرگرمیوں کے دوران دریافت ہوئی
اس سن فش نامی مچھلی کا شمار دنیا کی سب سے بھاری مچھلیوں میں ہوتا ہے- اس مچھلی کی لمبائی 1.8 میٹر تھی جبکہ اس کا وزن تقریباً 450 کلو گرام تھا۔
ماہی گیروں نے مچھلی کے جال میں آنے کے 20 منٹ بعد ہی اس نایاب نسل کی افزائش کے لیے اسے واپس سمندر کے حوالے کر دیا۔۔۔
اس سن فش نامی مچھلی کا شمار دنیا کی سب سے بھاری مچھلیوں میں ہوتا ہے- اس مچھلی کی لمبائی 1.8 میٹر تھی جبکہ اس کا وزن تقریباً 450 کلو گرام تھا۔
ماہی گیروں نے مچھلی کے جال میں آنے کے 20 منٹ بعد ہی اس نایاب نسل کی افزائش کے لیے اسے واپس سمندر کے حوالے کر دیا۔۔۔
کیا آپ کو معلوم ہے انٹرنیٹ کو 14لوگ 7چابیوں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں
سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) دنیا کے تقریباً 200 ممالک میں پھیلے انٹرنیٹ کو روزانہ اربوں انسان استعمال کرتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس محیر العقول نیٹ ورک کا اصل کنٹرول کس کے پاس ہے۔ اخبار ”گارڈین“ کے صحافی جیمز بال کے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کو بھی کسی عام اثاثے کی طرح چابیوں سے محفوظ بنایا گیا ہے اور اس کا کنٹرول انہی ہاتھوں میں ہے جن میں اس کی چابیاں ہیں۔ یہ چابیاں کس کے پاس ہیں؟ دراصل ان کی ملکیت ایک ادارے کے پاس ہے جس کا نام ”انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز (ICANN) “ہے اور ادارے نے انٹرنیٹ کی سات چابیاں سات مختلف افراد کے حوالے کر رکھی ہیں۔ مزید سات افراد ان کے بیک اپ کے طور پر متعین کئے گئے ہیں اور یوں دنیا میں صرف 14 لوگ ایسے ہیں جن کے ہاتھ میں اربوں لوگوں کے زیر استعمال انٹرنیٹ ہے۔ اس ادارے کے ذمہ ویب سائٹوں کے ہندسی ایڈریس کو لفظی ایڈریس سے منسلک کرکے محفوظ ترین کمپیوٹروں پر حفاظت سے رکھنا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹوں کے ایڈریس سات مختلف جگہوں پر محفوظ کئے گئے ہیں اور ہر جگہ کی چابی ایک منتخب فرد کے پاس ہے۔ یہ افراد ہر سال ایک انتہائی خفیہ مقام پر ملاقات کرکے پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں اور پھر ساتوں کمپیوٹروں کےلئے سال بھر نئے پاس ورڈ استعمال ہوتے ہیں۔ خصوصی مقام پر کئی تالوں کے اندر رکھے گئے کمپیوٹروں کو خفیہ چابیوں کے بغیر کھولنا ممکن نہیں۔ انٹرنیٹ کو چابیوں کے ساتھ محفوظ بنانے کا عمل 2010ءسے جاری ہے
2025ء کی دنیا کی ایک جھلک سائنس نے دکھا دی
نیویارک (نیوز ڈیسک) پچھلی چند دہائیوں میں سائنس نے جس رفتار سے ترقی کی ہے وہ حیرت انگیز ہے اورامیدکی جاسکتی ہے کہ آنے والی دہائی میں یہ رفتار اس قدر تیز ہوگی کہ 2025ءمیں دنیا کی شکل بالکل تبدیل ہوچکی ہوگی۔ سائنسدانوں نے آج سے 10سال بعد کی دنیا کا نقشہ کچھ یوں پیش کیا ہے۔ -1 کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 2025ءتک نیورو سائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کرجائے گی کہ انسانی دماغ کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی اور قدرتی اور مصنوعی اعضاءکے امتزاج والے انسان وجود میں آجائیں گے جنہیں ہیومن 2.2 اور ہیومن 3.0 کا نام دیا جارہا ہے۔ -2 آنے والے 10 سال میں دنیا کے تقریباً 25 ممالک تیز رفتار ترین ملک میں مدغم ہوجائیں گے اور دنیا پر بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا غلبہ ہوگا۔ -3 دنیا کا مالی نظام موجود کرنسی کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرے گا اور عام افراد ملکی کی بجائے علاقائی اور بین الاقوامی سطح تک مالی نظام سے منسلک ہوجائیں گے۔ -4 دماغ کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ٹیکنالوجی حقیقی شکل اختیار کرلے گی اور لوگ اپنی یادداشت اور دماغی ساخت کو انٹرنیٹ پر محفوظ کرسکیں گے تاکہ جسمانی موت کے بعد بھی زندہ رہ سکیں۔ -5 حقیقی زندگی اور ورچوئل رئیلٹی گڈمڈ ہوجائیں گی، مثلاً آپ کسی ریسٹورنٹ میں جانے سے پہلے ان کے کھانوں کی خوشبو اور ذائقے کو اپنے کمپیوٹر کے ذریعے محسوس کرسکیں گے۔ -6 روبوٹ عام زندگی کا حصہ بناجائیں گے اور ان کا استعمال سرجری، سیکیورٹی اور کاروبار میں کیا جائے گا جبکہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کاریں بھی عام ہوجائیں گی۔ -7 کمپیوٹروں کی مصنوعی ذہانت اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ وہ ہماری پسند ناپسند سے آگاہ ہوجائیں گے اور اس کے مطابق میوزک، فلمیں اور معلومات خود ہی اکٹھی کرتے رہیں گے۔ -8 دس سال بعد انٹرنیٹ کی شکل بھی بدل چکی ہوگی اور کمپیوٹروں اور موبائل فونز کے علاوہ گاڑیاں، ٹی وی، فریج، سٹریٹ لائٹیں غرضیکہ ہر طرح کی مشینیں انٹرنیٹ سے منسلک ہوچکی ہوں گی۔
بھارتی فوج کی ورکنگ باﺅنڈری پر فائرنگ ،پاک فوج کی جوابی فائرنگ پر بھارتی بندوقیں خاموش
لاہور(مانیڑنگ ڈیسک)بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ورکنگ باﺅنڈری پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے ۔رینجرز ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی جانب ایک بار پھر شکر گڑھ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پاکستان رینجرز نے جوابی فائرنگ کی تو بھارتی بندوقیں خاموش ہو گئیں ۔ورکنگ باﺅنڈری پر بھارت کی جانب سے گزشتہ رات سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستانی رینجرز بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔
Tuesday, December 30, 2014
شہزادیاں
شہزادی تو شہزادی ہی ہوتی ہے، اب وہ محل میں پیدا ہو یا جھونپڑی میں۔ حسن محلوں کا محتاج ہر گز نہیں ورنہ تو حسین لڑکیاں صرف محلوں میں ہی پیدا ہوا کرتیں۔ شہزادی بھی پیدا ہو گئی، ایک معمولی گھرانے میں۔ اُس پورے محلے والوں نے اپنی زندگیوں کی قسم کھا کر کہا کہ اتنی حسین بچی زندگی بھر میں کبھی کہیں دیکھی نہ تھی، نہ جھونپڑیوں میں، نہ محلوں میں۔
جوان ہوتی گئی تو مانو کہ حسن کو چار چاند لگتے چلے گئے، اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ چار چاند پہلے سے بھی زیادہ غضب ڈھاتے جا رہے تھے۔ گھر والوں کا بس نہ چلتا تھا کہ اُسے دُنیا کی نظروں سے کہیں دور لے جائیں اور صرف پھولوں اور کلیوں کے بیچ اُس کی پرورش کریں، پر کہاں خواہشیں اور کہاں زمانے کے سرد و گرم۔ حقیقت اُن کا منہ چڑاتی رہی-
سفید رنگت، سفید ایال، اور سفید برف جیسی دُم، طاقتور تیز رفتار براق گھوڑا کان کھڑے کئے بگٹٹ بھاگتا ہوا، اور سوار مشاقی سے اُسے رانوں میں دبائے عبا کی اُڑان سے بے خبر صرف اور صرف اُسی پر نظریں جمائے قریب آتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی گھوڑا شہزادی کے قریب پہنچا سوار نے نیچے جھکتے ہوئے ایک ہاتھ اُس کی کمر میں ڈال دیا اور اُسے اُچک لیا، پھر بڑی احتیاط کے ساتھ گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔
ماں کے جھنجھوڑنے پر ہی وہ اُٹھی تھی اور بُرا سا منہ بنا کر انگڑائی لی تھی۔ ماں نے ایک دم اُسے اوڑھنی سے جیسے لپیٹ ہی دیا، شائد وہ خود کو ایسا کر کے اُس حقیقت سے آنکھیں چُرانا چاہتی تھی کہ بیٹی اب جوانی کی اُس حد میں داخل ہو چُکی ہے جہاں اب قابو سے باہر ہوئی کہ تب ہوئی۔
’’ ماں چھُٹی والے دن تو سو لینے دیا کرو‘‘ بیزاری سے اُٹھتے ہوئے شہزادی نے کہا تھا، اتنا اچھا سپنا جو دیکھ رہی تھی۔
’’ چلو جلدی سے کوٹھی میں جاؤ، اُن کے مہمان آنے والے ہیں ایک دو دن میں، کُچھ ہاتھ بٹاؤ، کتنے احسان ہیں ہم پر مسز شیرازی کے‘‘۔ اور یہ بات تھی بھی سچ کیونکہ شہزادی کے ابا کے ایک حادثہ کا شکار ہو جانے کے بعد وہ مسز شیرازی ہی تھیں جنہوں نے اس بے آسرا خاندان کو سہارا دیا تھا اور کوٹھی کے پیچھے بنے کوارٹر میں جو پائیں باغ کے کونے پر واقع تھا، وہاں ماں بیٹی اور نانی کو رہنے کی اجازت دے دی تھی کہ اب ان کے گھر میں کوئی بھی مرد زندہ نہیں بچا تھا۔
شہزادی نے جلدی جلدی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور کوٹھی کی جانب قدم بڑھائے، شہلا جو کہ مسز شیرازی کی بیٹی تھی اُسے دیکھتے ہی خوش ہو گئی، دیکھو شہزادی میں کیسی لگ رہی ہوں؟ عام شکل پر بھی عمدہ لباس زیب تن کر لیا جائے تو لڑکیاں شہزادی ہی لگتی ہیں۔ ’’ بالکُل شاہ ذادی لگ رہی ہیں‘‘ شہزادی نے کہا تھا۔ پھر شہلا نے ایک کے بعد ایک کوئی چھ سات جوڑے باری باری پہن کر اُسے دکھائے تھے اور پھر دو تین گھنٹوں میں ایک جوڑے پر اتفاق ہو ہی گیا جس میں شہلا زیادہ حسین لگ رہی تھی۔ کسی کام میں ہاتھ بٹانے کی نوبت ہی نہ آئی تھی کہ آتے ساتھ ہی شہلا نے گھیر لیا تھا۔ مسز شیرازی نے خاموشی سے سارے کام خدامہ سے کروا لیئے تھے۔
نانی کے ساتھ اُن کا ہاتھ پکڑ کر بازار میں چلتے وہ خوابوں کا شہزادہ اُسے نظر آ ہی گیا، وہی سفید براق گھوڑا اور اُس پر بیٹھا کڑیل جوان جو کسی بھی شاہ ذادے سے کم نہیں لگ رہا تھا، سیاہ گھنگھریالے، چھوٹے چھوٹے بال، کثرتی جسم مانو جس میں بجلیاں بھری ہوتی ہیں، صرف لباس پولیس کا پہنے ہوئے تھا۔ نگاہیں ملیں اور بہت کُچھ کہہ گئیں، نانی اس گُفتگُو سے بے خبر سبزی والے سے بھاؤ تاؤ کرتی رہیں۔
اُسے پتہ بھی نہ چلا تھا کہ وہ جوان اُس کا خاموشی سے پیچھا کرتا ہوا گھر تک آ گیا تھا، اور ایسا کرنے کیلئے نہ جانے کہاں چھوڑ آیا تھا گھوڑے کو۔ وہ تو نانی کو اندر چھوڑ کر شہلا سے ملنے جا رہی تھی جس کا پیغام اُسے ماں نے دیا تھا۔ ابھی وہ باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے نظر پڑی، وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ وردی میں ملبوس کھڑا تھا، مُسکُراہٹ کا تبادلہ ہوا ہی تھا کہ اُس کے کانوں میں شہلا کی آواز آئی جو اُس کا انتظار کرتے کرتے وہیں چلی آئی تھی، وہ اُسی جوڑے میں ملبوس تھی جسے اُن دونوں نے مل کر فائنل کیا تھا محمانوں کی آمد پر پہننے کو، سپاہی کو دیکھ کر شہلا ٹھٹھک گئی۔ وہ بھی کُچھ پریشان سا وہاں سے چلا گیا۔
’’ کیا ہوا شہلا ‘‘ شہزادی نے پوچھا تھا
’’ کُچھ نہیں، بس وہ مہمان یوں ہی تھے، ایسے ہی اتنی تیاری کی، یہی تمہیں بتانا تھا‘‘ اور شہزادی سمجھ گئی کہ آنے والا اُسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
دن پر دن گزرتے گئے شہزادی اُس بازار کے کئی چکر بھی لگا آئی پر وہ ملا نہیں، زندگی اپنی ڈگر پہ چلتی رہی۔
پھر ایک دن اُس نے سُنا کہ شہلا کی شادی طے ہو گئی ہے، سبھی گھر والوں کے ساتھ وہ بھی مبارکباد دینے گئی مسز شیرازی اور شہلا کو۔ وہاں پتہ چلا کہ جھٹ پٹ بیاہ کا معاملہ ہے ، کیونکہ دُلہا کے گھر والوں کو جلدی ہے۔ شہلا بے حد خوش تھی، ایسی کہ جیسے دُنیا جہاں کی دولت اُس نے پا لی ہو۔
پھر وہ دن بھی آ پہنچا کہ بارات آنے کا غُلغُلہ بُلند ہوا اور لڑکیاں شہزادی سمیت دُلہا کو دیکھنے بالکونی میں بھاگ کر کھڑی ہو گئیں، سبھی نے دُلہا کو دیکھتے ہی چیخیں ماری تھیں خوشی سے، لیکن شہزادی تو بیہوش ہی ہو گئی، اُسے جلدی سے وہاں سے اُٹھوا کر اُس کے گھر لے جایا گیا، جہاں نانی نے اُس کا سر گود میں رکھا اور پانی کے چھینٹے مارے، ماں گھبراہٹ میں کبھی پاؤں دباتیں اور کبھی سینے پر ہاتھ پھیرتیں۔ آخر اُسے ہوش آ ہی گیا
’’ کیا ہوا شہزادی تُمہیں؟ ‘‘ نانی نے فورا ہی سوال داغا تھا
’’ نانی مجھے شہزادی نہ کہا کریں، شہزادیاں صورت سے نہیں، بخت سے ہوتی ہیں‘‘ اُس نے کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
جوان ہوتی گئی تو مانو کہ حسن کو چار چاند لگتے چلے گئے، اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ چار چاند پہلے سے بھی زیادہ غضب ڈھاتے جا رہے تھے۔ گھر والوں کا بس نہ چلتا تھا کہ اُسے دُنیا کی نظروں سے کہیں دور لے جائیں اور صرف پھولوں اور کلیوں کے بیچ اُس کی پرورش کریں، پر کہاں خواہشیں اور کہاں زمانے کے سرد و گرم۔ حقیقت اُن کا منہ چڑاتی رہی-
سفید رنگت، سفید ایال، اور سفید برف جیسی دُم، طاقتور تیز رفتار براق گھوڑا کان کھڑے کئے بگٹٹ بھاگتا ہوا، اور سوار مشاقی سے اُسے رانوں میں دبائے عبا کی اُڑان سے بے خبر صرف اور صرف اُسی پر نظریں جمائے قریب آتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی گھوڑا شہزادی کے قریب پہنچا سوار نے نیچے جھکتے ہوئے ایک ہاتھ اُس کی کمر میں ڈال دیا اور اُسے اُچک لیا، پھر بڑی احتیاط کے ساتھ گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔
ماں کے جھنجھوڑنے پر ہی وہ اُٹھی تھی اور بُرا سا منہ بنا کر انگڑائی لی تھی۔ ماں نے ایک دم اُسے اوڑھنی سے جیسے لپیٹ ہی دیا، شائد وہ خود کو ایسا کر کے اُس حقیقت سے آنکھیں چُرانا چاہتی تھی کہ بیٹی اب جوانی کی اُس حد میں داخل ہو چُکی ہے جہاں اب قابو سے باہر ہوئی کہ تب ہوئی۔
’’ ماں چھُٹی والے دن تو سو لینے دیا کرو‘‘ بیزاری سے اُٹھتے ہوئے شہزادی نے کہا تھا، اتنا اچھا سپنا جو دیکھ رہی تھی۔
’’ چلو جلدی سے کوٹھی میں جاؤ، اُن کے مہمان آنے والے ہیں ایک دو دن میں، کُچھ ہاتھ بٹاؤ، کتنے احسان ہیں ہم پر مسز شیرازی کے‘‘۔ اور یہ بات تھی بھی سچ کیونکہ شہزادی کے ابا کے ایک حادثہ کا شکار ہو جانے کے بعد وہ مسز شیرازی ہی تھیں جنہوں نے اس بے آسرا خاندان کو سہارا دیا تھا اور کوٹھی کے پیچھے بنے کوارٹر میں جو پائیں باغ کے کونے پر واقع تھا، وہاں ماں بیٹی اور نانی کو رہنے کی اجازت دے دی تھی کہ اب ان کے گھر میں کوئی بھی مرد زندہ نہیں بچا تھا۔
شہزادی نے جلدی جلدی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور کوٹھی کی جانب قدم بڑھائے، شہلا جو کہ مسز شیرازی کی بیٹی تھی اُسے دیکھتے ہی خوش ہو گئی، دیکھو شہزادی میں کیسی لگ رہی ہوں؟ عام شکل پر بھی عمدہ لباس زیب تن کر لیا جائے تو لڑکیاں شہزادی ہی لگتی ہیں۔ ’’ بالکُل شاہ ذادی لگ رہی ہیں‘‘ شہزادی نے کہا تھا۔ پھر شہلا نے ایک کے بعد ایک کوئی چھ سات جوڑے باری باری پہن کر اُسے دکھائے تھے اور پھر دو تین گھنٹوں میں ایک جوڑے پر اتفاق ہو ہی گیا جس میں شہلا زیادہ حسین لگ رہی تھی۔ کسی کام میں ہاتھ بٹانے کی نوبت ہی نہ آئی تھی کہ آتے ساتھ ہی شہلا نے گھیر لیا تھا۔ مسز شیرازی نے خاموشی سے سارے کام خدامہ سے کروا لیئے تھے۔
نانی کے ساتھ اُن کا ہاتھ پکڑ کر بازار میں چلتے وہ خوابوں کا شہزادہ اُسے نظر آ ہی گیا، وہی سفید براق گھوڑا اور اُس پر بیٹھا کڑیل جوان جو کسی بھی شاہ ذادے سے کم نہیں لگ رہا تھا، سیاہ گھنگھریالے، چھوٹے چھوٹے بال، کثرتی جسم مانو جس میں بجلیاں بھری ہوتی ہیں، صرف لباس پولیس کا پہنے ہوئے تھا۔ نگاہیں ملیں اور بہت کُچھ کہہ گئیں، نانی اس گُفتگُو سے بے خبر سبزی والے سے بھاؤ تاؤ کرتی رہیں۔
اُسے پتہ بھی نہ چلا تھا کہ وہ جوان اُس کا خاموشی سے پیچھا کرتا ہوا گھر تک آ گیا تھا، اور ایسا کرنے کیلئے نہ جانے کہاں چھوڑ آیا تھا گھوڑے کو۔ وہ تو نانی کو اندر چھوڑ کر شہلا سے ملنے جا رہی تھی جس کا پیغام اُسے ماں نے دیا تھا۔ ابھی وہ باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے نظر پڑی، وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ وردی میں ملبوس کھڑا تھا، مُسکُراہٹ کا تبادلہ ہوا ہی تھا کہ اُس کے کانوں میں شہلا کی آواز آئی جو اُس کا انتظار کرتے کرتے وہیں چلی آئی تھی، وہ اُسی جوڑے میں ملبوس تھی جسے اُن دونوں نے مل کر فائنل کیا تھا محمانوں کی آمد پر پہننے کو، سپاہی کو دیکھ کر شہلا ٹھٹھک گئی۔ وہ بھی کُچھ پریشان سا وہاں سے چلا گیا۔
’’ کیا ہوا شہلا ‘‘ شہزادی نے پوچھا تھا
’’ کُچھ نہیں، بس وہ مہمان یوں ہی تھے، ایسے ہی اتنی تیاری کی، یہی تمہیں بتانا تھا‘‘ اور شہزادی سمجھ گئی کہ آنے والا اُسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
دن پر دن گزرتے گئے شہزادی اُس بازار کے کئی چکر بھی لگا آئی پر وہ ملا نہیں، زندگی اپنی ڈگر پہ چلتی رہی۔
پھر ایک دن اُس نے سُنا کہ شہلا کی شادی طے ہو گئی ہے، سبھی گھر والوں کے ساتھ وہ بھی مبارکباد دینے گئی مسز شیرازی اور شہلا کو۔ وہاں پتہ چلا کہ جھٹ پٹ بیاہ کا معاملہ ہے ، کیونکہ دُلہا کے گھر والوں کو جلدی ہے۔ شہلا بے حد خوش تھی، ایسی کہ جیسے دُنیا جہاں کی دولت اُس نے پا لی ہو۔
پھر وہ دن بھی آ پہنچا کہ بارات آنے کا غُلغُلہ بُلند ہوا اور لڑکیاں شہزادی سمیت دُلہا کو دیکھنے بالکونی میں بھاگ کر کھڑی ہو گئیں، سبھی نے دُلہا کو دیکھتے ہی چیخیں ماری تھیں خوشی سے، لیکن شہزادی تو بیہوش ہی ہو گئی، اُسے جلدی سے وہاں سے اُٹھوا کر اُس کے گھر لے جایا گیا، جہاں نانی نے اُس کا سر گود میں رکھا اور پانی کے چھینٹے مارے، ماں گھبراہٹ میں کبھی پاؤں دباتیں اور کبھی سینے پر ہاتھ پھیرتیں۔ آخر اُسے ہوش آ ہی گیا
’’ کیا ہوا شہزادی تُمہیں؟ ‘‘ نانی نے فورا ہی سوال داغا تھا
’’ نانی مجھے شہزادی نہ کہا کریں، شہزادیاں صورت سے نہیں، بخت سے ہوتی ہیں‘‘ اُس نے کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
تھوڑا سا دہی ذیابیطس سے محفوظ رکھ سکتا ہے: تحقیق
لندن
وسیع پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر روز دہی کا ایک چھوٹا سا حصہ کھانا ذیابیطس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک محققیقین نے بتایا کہ ہر روز 28گرام یعنی دن میں ایک بار دہی کے ایک چھوٹے پیالے میں ایک چوتھائی مقدار دہی کھانا شوگر کی بیماری پیدا ہونےکےخطرے کو تقریبا 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
‘جرنل بی ایم سی میڈیسن’ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ایک صحت مند غذا کے حصے کے طور پر دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گی ہے۔
یہ سائنسی شواہد ایک طویل دورانیے کے طبی جائزے کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ہیں جس میں محققین نے مطالعے میں 149000 صحت مند افراد کی میڈیکل ہسٹری اور طرز ِزندگی کا مطالعہ کیا ہے اور انہی اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر محققین کو دہی کا باقاعدگی سے استعمال اور ذیایطس ٹائپ 2 کے کم خطرے کے درمیان واضح تعلق نظر آیا ہے۔
محققین نے مطالعے کے آغاز سے اختتام تک شرکاء کی غذائی عادات کا ریکارڈ محفوظ کیا۔
مطالعے کےتمام شرکا تجزیہ شروع ہونے کے وقت ذیابیطس کے مریض نہیں تھے لیکن تحقیق کےاختتام تک 15,156 لوگوں میں یہ بیماری موجود تھی تاہم ان کی غذائی عادتوں کے تجزیہ سے پتا چلا کہ ان کی خوراک میں شامل تمام ڈیری مصنوعات کا ذیابیطس کےخطرے کی کمی پر کوئی کردار نہیں تھا۔
اس نتیجے کے بعد تجزیہ کاروں نے ڈیری مصنوعات دودھ، اسکیمڈ ملک، پنیر اور دہی کی انفرادی کھپت کے اثرات کو دائمی امراض کے خطرے مثلا ان کی عمر، بی ایم آئی (قد کے لحاظ سے وزن کی پیمائش) اور غذائی عوامل کے ساتھ ملا کر دیکھا تو پتا چلا کہ دودھ اور زیادہ چکنائی والی چیزوں مثلا پنیر کے انفرادی استعمال کا ذیابیطس کے خطرے کی کمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
محققین کے مطابق ذیابیطس سے بچاؤ کا تعلق صرف دہی کھانے کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
نتائج کی تصدیق کے لیے محققین نے ایک میٹا تجزیہ شروع کیا جس میں 2013 مارچ تک شائع ہونے والے مطالعوں کے اعداد و شمار اور مطالعے کےنتائج کو استعمال کرتے ہوئے ڈیری مصنوعات اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق جاننے کے لیے تحقیقات شروع کیں۔
محققین نے کہا کہ اس بار نتائج بہت واضح تھے یعنی لگ بھگ 5 لاکھ افراد کی روزمرہ کھانے پینے کی تفصیلات کا تجزیہ کرنے سے یہ واضح ہو گیا کہ ہر روز صرف 28 گرام دہی کھانے سے ذیابیطس بیماری پیدا ہونے کے خطرے کو 18 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔
معلوم ہوا کہ پچھلے مطالعوں میں بھی کیلشئیم، میگنیشیم اورڈیری مصنوعات سے حاصل ہونے والی چکنائی کے صحت مند اثرات کو ذیابیطس ٹاپ ٹو بیماری کے خطرے کی کم شرح کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا ۔
دہی دودھ کی ایک خمیر شدہ شکل ہے دہی کی سب سے بڑی خصوصیت صحت بخش بیکٹیریا کی وہ بہتات ہے جو اس میں پائی جاتی ہے یہ ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کو زہریلے اور خطرناک مواد سے پاک کرتا ہے۔
محققین نے کہا کہ دہی میں پایا جانے والا بیکٹیریا پروبائیوٹک کے استعمال کو معمول بنانے سے قوت ِمدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں میں فیٹی پروفائل اور اینٹی آکسیڈنٹ کی حیثیت کو بہتر بناتا ہے۔
مطالعے کے سنیئر محقق فرینک ہو نے کہا کہ ہمارے مطالعے میں زیادہ مقدار میں دہی کھانے کا ذیابیطس کے کم خطرے کے ساتھ گہرا تعلق ظاہر ہوا ہے لیکن ڈیری مصنوعات کی کل کھپت کے ساتھ ذی بیطس ٹائپ 2 سے تحفظ کے بارے میں شواہد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔
محقق پروفیسر فرینک ہو نے تجویز پیش کرتے ہوے کہا کہ، ”دہی کو ایک صحت مند غذائی پیٹرن میں شامل کر لینا چاہیئے”۔
دودھ سے دہی بنانے کا رواج لگ بھگ تیس ہزار سال قبل مسیح میں مصریوں کے زمانے میں رائج ہوا۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ دہی فراعنہ ِمصر کے دستر خوان پر دہی عمدہ غذا کے طور پر رکھا جاتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ دہی کو ‘یوگرٹ’ نام ترکیوں نے دیا تھا جس کے بعد سب سے زیادہ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ دہی وسط ایشیا کے لوگوں کی ایجاد ہے اور اس سلسلے میں ایک واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستانی شہنشاہ اکبر کے باورچی سوسوں کے بیج اور دار چینی سے دہی کے ذائقے کو دوبالا کرتے تھے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہی کا استعمال فرانسسی طبی تاریخ میں بھی پایا جاتا ہے حتٰی کے 1900 صدی روسی سلطنت، وسطی ایشیا، مغربی ایشیا، جنوب مغربی یورپ، مرکزی یورپ اور ہندوستان میں دہی کا استعمال عام ہو گیا تھا۔
وسیع پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر روز دہی کا ایک چھوٹا سا حصہ کھانا ذیابیطس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک محققیقین نے بتایا کہ ہر روز 28گرام یعنی دن میں ایک بار دہی کے ایک چھوٹے پیالے میں ایک چوتھائی مقدار دہی کھانا شوگر کی بیماری پیدا ہونےکےخطرے کو تقریبا 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔
‘جرنل بی ایم سی میڈیسن’ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ایک صحت مند غذا کے حصے کے طور پر دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گی ہے۔
یہ سائنسی شواہد ایک طویل دورانیے کے طبی جائزے کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ہیں جس میں محققین نے مطالعے میں 149000 صحت مند افراد کی میڈیکل ہسٹری اور طرز ِزندگی کا مطالعہ کیا ہے اور انہی اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر محققین کو دہی کا باقاعدگی سے استعمال اور ذیایطس ٹائپ 2 کے کم خطرے کے درمیان واضح تعلق نظر آیا ہے۔
محققین نے مطالعے کے آغاز سے اختتام تک شرکاء کی غذائی عادات کا ریکارڈ محفوظ کیا۔
مطالعے کےتمام شرکا تجزیہ شروع ہونے کے وقت ذیابیطس کے مریض نہیں تھے لیکن تحقیق کےاختتام تک 15,156 لوگوں میں یہ بیماری موجود تھی تاہم ان کی غذائی عادتوں کے تجزیہ سے پتا چلا کہ ان کی خوراک میں شامل تمام ڈیری مصنوعات کا ذیابیطس کےخطرے کی کمی پر کوئی کردار نہیں تھا۔
اس نتیجے کے بعد تجزیہ کاروں نے ڈیری مصنوعات دودھ، اسکیمڈ ملک، پنیر اور دہی کی انفرادی کھپت کے اثرات کو دائمی امراض کے خطرے مثلا ان کی عمر، بی ایم آئی (قد کے لحاظ سے وزن کی پیمائش) اور غذائی عوامل کے ساتھ ملا کر دیکھا تو پتا چلا کہ دودھ اور زیادہ چکنائی والی چیزوں مثلا پنیر کے انفرادی استعمال کا ذیابیطس کے خطرے کی کمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
محققین کے مطابق ذیابیطس سے بچاؤ کا تعلق صرف دہی کھانے کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔
نتائج کی تصدیق کے لیے محققین نے ایک میٹا تجزیہ شروع کیا جس میں 2013 مارچ تک شائع ہونے والے مطالعوں کے اعداد و شمار اور مطالعے کےنتائج کو استعمال کرتے ہوئے ڈیری مصنوعات اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق جاننے کے لیے تحقیقات شروع کیں۔
محققین نے کہا کہ اس بار نتائج بہت واضح تھے یعنی لگ بھگ 5 لاکھ افراد کی روزمرہ کھانے پینے کی تفصیلات کا تجزیہ کرنے سے یہ واضح ہو گیا کہ ہر روز صرف 28 گرام دہی کھانے سے ذیابیطس بیماری پیدا ہونے کے خطرے کو 18 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔
معلوم ہوا کہ پچھلے مطالعوں میں بھی کیلشئیم، میگنیشیم اورڈیری مصنوعات سے حاصل ہونے والی چکنائی کے صحت مند اثرات کو ذیابیطس ٹاپ ٹو بیماری کے خطرے کی کم شرح کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا ۔
دہی دودھ کی ایک خمیر شدہ شکل ہے دہی کی سب سے بڑی خصوصیت صحت بخش بیکٹیریا کی وہ بہتات ہے جو اس میں پائی جاتی ہے یہ ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کو زہریلے اور خطرناک مواد سے پاک کرتا ہے۔
محققین نے کہا کہ دہی میں پایا جانے والا بیکٹیریا پروبائیوٹک کے استعمال کو معمول بنانے سے قوت ِمدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں میں فیٹی پروفائل اور اینٹی آکسیڈنٹ کی حیثیت کو بہتر بناتا ہے۔
مطالعے کے سنیئر محقق فرینک ہو نے کہا کہ ہمارے مطالعے میں زیادہ مقدار میں دہی کھانے کا ذیابیطس کے کم خطرے کے ساتھ گہرا تعلق ظاہر ہوا ہے لیکن ڈیری مصنوعات کی کل کھپت کے ساتھ ذی بیطس ٹائپ 2 سے تحفظ کے بارے میں شواہد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔
محقق پروفیسر فرینک ہو نے تجویز پیش کرتے ہوے کہا کہ، ”دہی کو ایک صحت مند غذائی پیٹرن میں شامل کر لینا چاہیئے”۔
دودھ سے دہی بنانے کا رواج لگ بھگ تیس ہزار سال قبل مسیح میں مصریوں کے زمانے میں رائج ہوا۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ دہی فراعنہ ِمصر کے دستر خوان پر دہی عمدہ غذا کے طور پر رکھا جاتا تھا۔
کہا جاتا ہے کہ دہی کو ‘یوگرٹ’ نام ترکیوں نے دیا تھا جس کے بعد سب سے زیادہ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ دہی وسط ایشیا کے لوگوں کی ایجاد ہے اور اس سلسلے میں ایک واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستانی شہنشاہ اکبر کے باورچی سوسوں کے بیج اور دار چینی سے دہی کے ذائقے کو دوبالا کرتے تھے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہی کا استعمال فرانسسی طبی تاریخ میں بھی پایا جاتا ہے حتٰی کے 1900 صدی روسی سلطنت، وسطی ایشیا، مغربی ایشیا، جنوب مغربی یورپ، مرکزی یورپ اور ہندوستان میں دہی کا استعمال عام ہو گیا تھا۔
ناشتے سے پہلے 12 گھنٹے کا روزہ وزن کم کرتا ہے: تحقیق
لندن
ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے آدھے دن کا کھانا پینا اور باقی آدھے دن کا روزہ آپ کے وزن کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔
ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ ایسے لوگ جو ڈائٹنگ کرکے وزن گھٹانے کی امید کرتے ہیں انھیں چاہیےکہ وہ اپنے دن بھر کی کیلوریز کا حساب کتاب رکھنے کےساتھ ساتھ گھڑی کی سوئیوں پر بھی نظریں رکھا کریں کیونکہ شام ڈھلنے کے بعد کھانا وزن میں اضافہ کر سکتا ہے۔
امریکی محققین کے مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ ہر روز آدھے دن یا محدود گھنٹوں کے اندر کھانا ہمارے جسم میں چربی جلانے کے قدرتی نظام کو آن کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق سائنسی شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دن کے 12 گھنٹوں کے اندر کھانا پینا ختم کر لینا، مثلاً صبح 8 بجے سے شام 8 بجے کے درمیان کھانا اور باقی 12 گھنٹوں میں بھوکا رہنے کا جسمانی چربی پر بڑا اثر پڑتا ہے۔
‘سالک انسٹیٹیوٹ’ سے منسلک تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ساچی ڈینینڈا پانڈا کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق کا نتیجہ ان پچھلے مطالعوں کےنتائج کی توثیق کرتا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ رات میں دیر سے کھانا وزن میں اضافے کا ایک سبب ہے۔
مطالعے کی مصنف امینڈین چائے نے کہا ہے کہ ہمارے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے چوبیس گھنٹوں میں سے 12 گھنٹے کے لیے بھوکا رہنا وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ اسی طرح مطالعے میں یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ بارہ گھنٹے بھوکا رہنا کولیسٹرول، ذیابیطس اور موٹاپے سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔
چوہوں پر کئے جانے والے اس مطالعے میں سائنس دانوں نے 400 نارمل اور فربہ چوہوں پرتجربہ کیا ہے جنھیں مختلف اقسام کی ڈائیٹ محدود مدت تک کھلائی گئی تھی۔
نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایسے چوہے جنھیں زیادہ مرغن غذا دن کے 9 سے 12 گھنٹوں کے درمیان کھلائی گئی تھی وہ ان چوہوں کے مقابلے میں زیادہ چست اور دبلے ہوگئے جنھیں دن بھر آزادانہ کھانا کھانے کی اجازت تھی۔ جبکہ دونوں گروپ کی خوراک میں کیلیوریز کی تعداد یکساں تھی۔ تاہم یہ نتیجہ اس وقت بھی تبدیل نہیں ہوا جب محدود گھنٹوں میں کھانے والے چوہوں کے گروپ کو زیادہ میٹھی چیزیں کھلائی گئیں۔
اس تجربے میں جب محدود گھنٹوں میں کھانے والے چوہوں کو ہفتے کے آخری دو دن میں ان کی مرضی سے سب کچھ کھانے دیا گیا تو بھی ان چوہوں کے وزن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر رہا۔
پرفیسر پانڈا کے لیبارٹری کی معاون محقق چائے نے کہا کہ ان دنوں لوگوں کو سب سے زیادہ مشورہ صحت مند غذا کھانے کا دیا جاتا ہے لیکن بہت سے لوگ صحت مندا غذا تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا بغیر صحت مند غذا کے ساتھ بھی ایسے لوگ محدود گھنٹوں میں کھانے کی مشق سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔
پروفیسر چائے کے مطابق حقیقت یہ تھی کہ آدھے دن بھوکا رہنے کی ڈائیٹ کے اثرات ہر قسم کی خوراک کے ساتھ تھے۔ بلکہ تعجب کی بات یہ تھی کہ ہفتے کے آخری دو دنوں میں رات میں جی بھر کر کھانے کے باوجود اس فارمولا ڈائیٹ کے اثرات ضائع نہیں ہوئے۔ یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ پورے ہفتے میں صرف ویک اینڈ پر رات کا کھانا اتنا نقصان نہیں پہنچاتا لیکن ہر روز رات میں دیر سے کھانا جسم کے میٹا بولزم (جسم کے تحول) کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تجربے کے اگلے مرحلے میں جب فربہ چوہوں کو محدود مدت میں کھانے کا پابند کیا گیا تو انھوں نے چند ہی دن میں 5 فیصد وزن کم کر لیا اور مطالعے کے اختتام 38پر ہفتوں میں ان کا وزن 25 فیصد کم ہو گیا۔
سائنسی رسالے ‘ جرنل سیل میٹا بولزم’ میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتا چلاکہ صحت مند غذا کھانے والے چوہوں کےگروپ کا اگرچہ اس ڈائیٹ کی وجہ سے وزن کم نہیں ہوا لیکن ان کے پٹھوں کے وزن میں اضافہ ہوا۔ بقول پروفیسر پانڈا یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں تھی کہ نارمل ڈائیٹ کھانے والے چوہوں کا وزن کم نہیں ہوا تھا لیکن ان کی جسمانی ساخت پر اس کا اثر پڑا تھا۔
ورزش سے انسانی ’ڈی این اے‘ میں تبدیلی ممکن: تحقیق
واشنگٹن: سٹاک ہوم کے کیرولینسکا انسٹی ٹیوٹ سے منسلک سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ورزش سے نہ صرف صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلکہ اس سے انسان کا ڈی این اے بھی بدلا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے ماضی میں کئی تحقیقوں میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ مختلف ڈائیٹس اور کیمیکلز کی وجہ سے ہمارے جسم میں موجود جینز ہمارے جسم کو جو بائیو کیمیکل سگنلز بھیجتے اور وصول کرتے ہیں، ان میں فرق پڑسکتا ہے۔ لیکن، اس سے پہلے، اس عمل کا تعلق ورزش کرنے سے نہیں جوڑا گیا تھا۔
سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے ورزش کرنے والے 23 نوجوان اور صحتمند مرد و خواتین سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔
ان تمام افراد نے لگاتار تین ماہ تک ورزش کی۔ تین ماہ کے بعد، ان افراد سے اکٹھے کیے گئے ڈی این اے کا جائزہ لیا گیا تو اس میں تبدیلی نوٹ کی گئی۔
سائنسدانوں نے نوٹ کیا کہ انسانی جسم میں ورزش کی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بہت حد تک توانائی اور انسولین سے متعلق جینز سے براہ ِراست تعلق ظاہر ہوا۔
سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ روزانہ ورزش سے نہ صرف صحت بہتر ہوتی ہے، بلکہ انسان کے جینز میں بھی بہتری آتی ہے۔
اس سے پہلے ماضی میں کئی تحقیقوں میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ مختلف ڈائیٹس اور کیمیکلز کی وجہ سے ہمارے جسم میں موجود جینز ہمارے جسم کو جو بائیو کیمیکل سگنلز بھیجتے اور وصول کرتے ہیں، ان میں فرق پڑسکتا ہے۔ لیکن، اس سے پہلے، اس عمل کا تعلق ورزش کرنے سے نہیں جوڑا گیا تھا۔
سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے ورزش کرنے والے 23 نوجوان اور صحتمند مرد و خواتین سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔
ان تمام افراد نے لگاتار تین ماہ تک ورزش کی۔ تین ماہ کے بعد، ان افراد سے اکٹھے کیے گئے ڈی این اے کا جائزہ لیا گیا تو اس میں تبدیلی نوٹ کی گئی۔
سائنسدانوں نے نوٹ کیا کہ انسانی جسم میں ورزش کی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بہت حد تک توانائی اور انسولین سے متعلق جینز سے براہ ِراست تعلق ظاہر ہوا۔
سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ روزانہ ورزش سے نہ صرف صحت بہتر ہوتی ہے، بلکہ انسان کے جینز میں بھی بہتری آتی ہے۔
Monday, December 29, 2014
سعید اجمل کو پابندی کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیئے : شعیب اختر
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق پاکستانی بائؤلرشعیب اختر نے آئی سی سی کی جانب سے سعید اجمل پر پابندی لگائے جانے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں چاہیئے کہ وہ پابندی کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کریں۔اگر سعید اجمل اپنا یہ حق استعمال کرتے ہیں تو پوری امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔
نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شعیب اختر کا کہنا تھا سعید اجمل کے بولنگ ایکشن میں ان کی جسامت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ان کے جسم کی بناوٹ کے مطابق ان کا بولنگ ایکشن بالکل درست ہے ۔اگر وہ قانون کا سہارا لیتے ہیں اور میڈیکل ٹیسٹ کروا لیں تو وہ اس کیس کو با آسانی جیت سکتے ہیں ۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ سعید اجمل پاکستان کے بہترین باؤلرز میں سے ایک ہیں اور ورلڈ کپ 2015ء میں ان کی غیر موجودگی پاکستان کے لیے نقصان کا باعث ہے
تین شادیاں ناکام ہونے کے بعد سعودی شخص نے چوتھی شادی کے لیے عجیب و غریب شرط رکھ دی
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) بیٹی کے والدین کو عموماً لالچی اور زیادہ جہیز کے خواہشمند مردوں کی وجہ سے تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ایک سعودی شخص نے ہونے والے سسر کے سامنے ایسی شرط رکھ دی جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ اخبار ”الوطن“ کے مطابق صوبہ جازان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو ان کے ہونے والے داماد نے بتایا کہ ان کی واحد شرط یہ ہے کہ اگر کبھی دلہن طلاق لینے کافیصلہ کر ے تو پہلے وہ 5 لاکھ ریال ادا کرے گی اور پھر ہی اسے طلاق دی جائے گی۔
یہ شرط سن کر لڑکی کے والد سخت سیخ پا ہوئے لیکن لڑکی نے شادی کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے دولہے کی شرط کا پس منظر جاننے کے بعد رضامندی ظاہر کی۔ دولہے کا کہنا تھا کہ اس کی تین بیویاں اسے چھوڑ چکی تھیں اور اب وہ ایک پختہ تعلق استوار کرنا چاہتا تھا اور انتہائی سنجیدگی سے گھر بسانا چاہتا تھا اس لئے دلہن کیلئے یہ شرط رکھ دی تاکہ وہ طلاق لینے سے پہلے دس دفعہ سوچے۔ اطلاعات کے مطابق شادی باقاعدہ طور پر طے پا چکی ہے تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
Sunday, December 28, 2014
فاتح سندھ محمد بن قاسم کے قابلِ فخر کارنامے
محمد بن قاسم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں-کون کہہ سکتا تھا کہ 17 سال کا یہ نوجوان وہ کر جائے گا جو بڑے بڑے حکمران نہ کر سکے اور اس کا دور برصغیر کا ایک روشن باب بن جائے گا-محمد بن قاسم ایک عظیم عمیاد جنرل تھا جس نے صرف 17 سال کی عمر میں سندھ اور پنجاب کے وہ علاقے فتح کیے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع تھے اور اب سرزمینِ پاکستان کا حصہ ہیں- سندھ اور پنجاب کی فتح سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی حکومت کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور آج صوبہ سندھ بابِ اسلام کے نام سے پہچانا جاتا ہے-
محمد بن قاسم عرب کے شہر طائف میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے- طائف قبیلے کے Thaqafi قبیلے سے تعلق رکھنے والے قاسم بن یوسف٬ محمد بن قاسم کے والد تھے اور ان کا انتقال محمد بن قاسم کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا- ان کے بعد محمد بن قاسم کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان کی والدہ پر آن پڑی- عمیاد کے گورنر الحجاج ابن یوسف محمد بن قاسم کے چچا تھے- انہوں نے محمد بن قاسم کی جنگ اور نظامِ حکومت کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی- حجاج بن یوسف کی سرپرستی میں محمد بن قاسم کو فارس کا گورنر بنایا گیا اور وہ ایک بغاوت کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے
فاتحِ سندھ
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب مسلمان تاجروں کا Ceylon میں انتقال ہوگیا تھا اور Ceylon کے حکمران نے ان کی بیوہ عورتوں اور یتیموں کو سمندر کے راستے بغداد بھیج دیا تھا- Ceylon کے بادشاہ نے حجاج بن یوسف کے لیے بیش قیمت تحائف بھی بھجوائے- دیبل کی بندرگاہ پر ہندوں قزاقوں نے سمندری قافلے کو لوٹ لیا اور عورتوں کو بچوں سمیت قیدی بنا لیا- جب اس واقعے کی خبر حجاج بن یوسف کو ہوئی تو اس نے راجہ داہر سے مسلمان قیدیوں کو رہائی٬ لوٹے ہوئے مال کی واپسی اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا- راجہ داہر نے جواب دیا کہ بحری قزاقوں پر اس کا حکم نہیں چلتا- اس جواب کے حجاج نے سندھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا- حجاج بن یوسف کے پہلے دو بھیجے جانے والے لشکروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا- اس کے بعد حجاج بن یوسف نے فیصلہ کیا کہ راجہ داہر جو قزاقوں کی سرپرستی کر رہا تھا٬ پر جارحانہ حملہ کرے گا- اس حملے کی اصل وجہ راجہ داہر کی غیر منصفانہ پالیسیاں تھیں-
جب محمد بن قاسم نے دیبل پر حملہ کیا تو اس وقت راجہ داہر سندھ کے دارالحکومت الور (نواب شاہ) سے میں تھا جو کہ دیبل سے 500 کلومیٹر کی دوری پر تھا- دیبل اس وقت گورنر کی زیرِ سرپرستی تھا اور وہاں چار سے چھ ہزار راجپوت اور چند ہزار برہمن سپاہیوں کی ایک فوج موجود تھی- اور اسی وجہ سے راجہ داہر نے دفاع کے لیے اس جانب فوراً کوچ نہ کیا- ایک نوجوان حملہ آور اس وقت حجاج بن یوسف سے قریبی تعلق رکھے ہوئے تھا اور ہر چھوٹی بڑی بات میں مشورہ لیتا تھا-اس وقت رابطے کا انتہائی مؤثر طریقہ تھا کہ ہر تین دن میں خط لکھے جاتے تھے اور ہر سات دن میں ان کا جواب بھی موصول ہوجاتا تھا- لہٰذا حجاج بن یوسف اس معاملے کی بذاتِ خود نگرانی کر رہا تھا- دیبل کا محاصرہ کچھ دن تو جاری رہا لیکن پھر ایک جاسوس کی جانب سے محمد بن قاسم کو مندر پر قبضہ کرنے کا راستہ فراہم کیا گیا- عرب فوج نے سیڑھیاں لگا کر مندر میں داخل ہوگئی- اسلامی قوانین کے مطابق وہاں کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی گئی- اور اس کے بعد مندر کو توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی۔
محمد بن قاسم نے مسلمانوں کی رہائش کے لیے شہر میں 4 ہزار کوارٹر تعمیر کیے- محمد بن قاسم کی یہ تاریخی فتح مسلمانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے- مقبوضہ قلعہ اور شہر کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی گئی- ارور کے مقام پر محمد بن قاسم کے لشکر کا سامنا راجہ داہر کی فوج اور جٹوں سے ہوگیا- اس جنگ میں راجہ داہر مارا گیا اور اس کی فوج کو شکست ہوئی اور محمد بن قاسم نے سندھ باگ ڈور سنبھال لی۔
محمد بن قاسم کی طلسماتی شخصیت
محمد بن قاسم کی فوج اور انتظامی کامیابی پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے- محمد بن قاسم خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ایک قابل لیڈر تھا- ایک شیر٬ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ایک سیاستدان اور ایک قابل منتظم تھا- اس کی کم عمری٬ متاثر کن شخصیت٬ اس کی جرات مندی اور بہادری جس کے بل بوتے پر کئی فتوحات حاصل کیں- دشمنوں کے لیے فولاد اور دوستوں کے لیے نرم دل انسان تھا۔
ایک قابل جنرل
راجہ داہر کی فوج تکنیکی اور قائدانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے کمزور تھی- محمد بن قاسم 17 سال کا ایک بہادر اور قابل جنرل تھا- سندھ کی سرزمین پر عربوں کی فتح کا سہرا اس کی قائدانہ صلاحیتوں کے سر تھا- وہ ایک عظیم جنگجو اور ایک اچھا منتظم تھا- اس جنگ کے دوران جو مندر توڑے گئے وہ مذہبی جنونیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس لیے کیونکہ ہندوستان کا بیش قیمت مال و دولت وہاں ذخیرہ تھا۔
محمد بن قاسم نے سندھ کے باشندوں کے لیے مفاہمتی پالیسی اپنائی- برہمنوں کو اپنی مذہبی رسومات پوری کرنے کی آزادی تھی- سندھ کی عوام کو جان و مال کی حفاظت حاصل تھی بشرط کہ وہ اس کے بدلے ٹیکس ادا کریں گے
دور اندیش حکمران
محمد بن قاسم ایک دور اندیش حکمران اور سیاستدان تھا- اس نے فتح کے بعد سندھ کے موجودہ نظام کو خراب نہیں کیا- اس نے اندرونی معاملات کا نظام وہاں کے باشندوں پر چھوڑ دیا- داہر کے زمانے میں جن لوگوں نے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا وہ اس بات کی امید کر رہے تھے کہ اس زمین کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جاسکیں- محمد بن قاسم نے ان لوگوں پر مکمل اعتماد کیا اور انہیں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز کیا۔
المناک موت
محمد بن قاسم کی زندگی کا دردناک اختتام 715 میں ہوا- خلیفہ سلیمان اور حجاج بن یوسف کے درمیان دشمنی تھی- محمد بن قاسم اس دشمنی کا شکار ہوگیا- حجاج کا داماد ہونے کے ناطے اس کو سنگین نتائج بھگتنے پڑے- محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے میسوپوٹامیا میں قید کردیا گیا تھا جہاں اس پر کیے جانے والا تشدد اس کی موت کا باعث بن گیا-بالآخر مسلمانوں کی تاریخ کا یہ عظیم ہیرو دنیا سے رخصت ہوگیا۔-
Ads
Amazing Info
- A Child has 4 Hands and 4 Feet
- Amazing And Magical Places in The World
- Chenab River and Chenab Park
- Clock Tower Faisalabad Pakistan
- Discover the World's Largest Bird
- Faisal Masjid Islamabad Pakistan
- Greatest Tower in The World
- If The Amount Of Oxygen May Be Doubled Then ?
- If The Oxygen Go From Earth Only Five Minutes Then ?
- Married Life is to Keep his Wife's Car on the Track
- Mazar-e-Quaid Karachi
- Online Fraud in The Name of Jobaz
- Pak Urdu Instaler FREE Download
- Pakistan's Most Beautiful Areas
- Pakistani Historical Places
- The Importance of Water in Human Life
- The World's Largest Cemetery
- Top Ten Rich Man in Pakistan
- Two Twin Brothers Became a Father a Day
- Your Lost Laptop & Mobile Phone


