Thursday, March 26, 2015

ہانگ کانگ کی مچھلی منڈی اور مولانا کا تفریحی دورہ

میں تین دن سے مسلسل کوشش کر رہا تھا کہ جس بلڈنگ میں قیام پذیر ہوں اس کے آخری سرے کو دیکھ سکوں یا کم ازکم پوری بلڈنگ کو ہی دیکھ سکوں، مگر مسلسل ناکام ہو رہا تھا۔ باہر نکل کر جب بھی اوپر منہ اٹھا کے اسے دیکھنے کی کوشش کی ناکامی ہوئی۔ بلڈنگ اس طرح تعمیر ہوئی ہے کہ نیچے کھڑے ہوں تو اوپر سے پوری نظر نہیں آتی۔ تھوڑی دور جا کر دیکھنے کی کوشش بھی اس لیے ناکام ہو گئی کہ درمیان میں دوسری اونچی اونچی عمارتیں حائل ہو گئیں۔ لیکن آج اپنی بلڈنگ کو دیکھنے کی حسرت پوری ہوئی۔ ہانگ کانگ کے ساحل پرکھڑے ہو کر 'لوکون‘ کی طرف دیکھ رہے تھے کہ قیصر نے بتایا کہ وہ سامنے آئی سی سی ٹاور ہے۔۔۔۔۔ ہانگ کانگ کی بلند ترین عمارت‘ اور دائیں طرف ایک سرخی مائل عمارت نظر آ رہی ہے،اسی ٹاور میں آپ لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ یہ عمارت آئی سی سی ٹاورکے مقابلے میں بچہ لگ رہی تھی۔
میں گزشتہ تین دن سے اس کی مختصر سی بالکونی میں سے باہر جھانکتا ہوں تو بائیں ہاتھ نیچے ایک سکول پر نظر پڑتی ہے۔ صبح جب میں اٹھتا ہوں تو اس پر نظر ڈالتا ہوں۔ آج پہلا دن تھا کہ اس میں بچے نظر آئے۔ کل اور پرسوں یعنی ہفتہ اور اتوارکوچھٹی تھی۔ یہ ''سرایلس کدوری سیکنڈری سکول‘‘ ہے۔ یہ سکول آٹھ منزلہ ہے مگر اٹھاون منزلہ ٹاورکے سامنے چوزہ سا لگتا ہے۔ اس سکول کو روزانہ دیکھنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر اسی سکول میں پڑھتے رہے۔ عزیز بھٹی شہید 1928ء میں ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے۔ صرف چودہ سال کی عمر میں جاپان کی شاہی بحری فوج میں بھرتی ہوئے۔ تب ہانگ کانگ پر جاپان کا قبضہ تھا۔ 1947ء یعنی قیام پاکستان تک رائل انڈین ایئرفورس میں بطورکارپول فرائض ادا کیے اور پاکستان بننے کے بعد پاکستان آرمی میں آ گئے۔ 1965ء میں سینتیس سال کی عمر میں شہید ہوئے اور پاکستان فوج میں بہادری کا اعلیٰ ترین اعزاز ''نشان حیدر‘‘ کا اعزاز پایا۔ برکی کے محاذ پر شہید ہونے والے میجر عزیز بھٹی یہ اعزاز حاصل کرنے والے تیسرے پاکستانی فوجی تھے۔
آج 23 مارچ کی تقریب تھی جس کا اہتمام پاکستانی قونصلیٹ ہانگ کانگ نے کیا تھا۔ تقریب ہانگ کانگ میری ٹائم میوزیم کے ہال میں تھی۔ پتا چلاکہ ہانگ کانگ میں یہ تقریب کئی عشروں کے بعد ہو رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف پاکستانی تنظیموں نے بھی تعاون کیا تھا۔ میں اور عباس تابش مشاعرے کے سلسلے میں ہانگ کانگ آئے ہوئے ہیں جس کا اہتمام بزم سخن ہانگ کانگ نے کیا ہے ۔ بزم سخن کے صدر گلزار حسین ساگر اور نائب صدر محمد لیاقت نے ادب کی ترویج کا بیڑہ اٹھارکھا ہے۔ گلزار حسین ساگر نے یہاں ایک لائبریری بھی بنا رکھی ہے جس میں سات ہزار کے لگ بھگ اردو کتابیں ہیں۔ محمد لیاقت ہانگ کانگ میں سرکاری طور پر تسلیم شدہ پاکستانی تنظیم اسلامک ویلفیئر یونین کا صدر ہے اور پاکستانی کمیونٹی اورادبی سرگرمیوں کے حوالے سے خاصا متحرک ہے۔ بزم سخن اس سے قبل بھی مشاعرے کروا چکی ہے اور اس حوالے سے جناب انور مسعود اور امجد اسلام امجد بھی ہانگ کانگ میں پاکستانی کمیونٹی کو اپنے شعروں سے مستفیدکر چکے ہیں۔
ہانگ کانگ میں مسلمانوں کی تعداد تین لاکھ کے لگ بھگ ہے‘ جس میں سے دو لاکھ کا تعلق صرف انڈونیشیا سے ہے۔ پاکستانیوں کی تعداد بیس ہزارکے قریب ہے۔ ہانگ کانگ میں پاکستانیوںکی مختلف تنظیمیں فعال ہیں۔ ان میں پاکستان ایسوسی ایشن ہانگ کانگ کے علاوہ حال ہی میں بننے والا پاکستان چیمبر آف کامرس ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی تاجر حضرات کی ایک اچھی کاوش ہے۔ اس تنظیم کا صدر نوجوان تاجر جاوید اقبال ہے۔گزشتہ سال بننے والی پاکستانی تاجروںکی اس نمائندہ تنظیم کا افتتاح ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو C.Y.Leung نے کیا تھا۔ آج قونصلیٹ کی جانب سے یوم پاکستان کے سلسلے میں ہونے والی تقریب کا مہمان خصوصی ہانگ کانگ کا سیکرٹری فنانس جوہن چانگ تھا۔ چھوٹی سی اس باوقار تقریب کا آغاز پاکستان کے قومی ترانے سے ہوا‘ جو قونصل جنرل پاکستان اور فنانشل سیکرٹری ہانگ کانگ کے مختصر سے خطاب کے بعد اختتام پذیر ہوگئی۔
مشاعرہ زور دار تھا اور رات گئے تک جاری رہا۔ مشاعرے کے بعدکھانے کی میز پر خوب گپ شپ ہوئی۔ پاکستان ایسوسی ایشن ہانگ کے سابق صدر شہزادہ سلیم کا تعلق ملتان سے ہے۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن چھوڑکر شپنگ کا اپنا بزنس کرنے والا شہزادہ سلیم ہانگ کانگ میں رہنے والے پاکستانیوں کے مسائل کے حوالے سے بہت متحرک ہے۔ تقریباً سات سال تک ایسوسی ایشن کا صدر رہنے کے بعد آج کل ذمہ داریوں سے فارغ ہے مگرکام سے فارغ نہیں ہے۔ ہم دونوں نے اتنی سرائیکی بولی کہ بقول شہزادہ سلیم ''دل کی حسرت پوری ہوگئی‘‘۔ میرے کچھ ٹھیٹھ سرائیکی الفاظ سن کر کہنے لگا، یہ لفظ کم از کم بارہ پندرہ سال بعد سننے نصیب ہوئے ہیں۔ مشاعرے کے بعد فراغت تھی لہٰذا دوستوں نے محفلیں لگانی شروع کردیں۔ ہانگ کانگ میں دنیا نیوز کے نمائندے طاہر اقبال چودھری نے ''بیٹرمنٹ یوتھ ایسوسی ایشن آف ہانگ کانگ‘‘ کے نوجوانوں کے ساتھ مکالمے کا اہتمام کیا۔ اس میں تنظیم کے سربراہ محمد عرفان کے علاوہ محمد ناصر‘ قیصر قیوم‘ حامد صدیقی‘ محمد امتیاز اور چاچا راجہ موجود تھے۔ پاکستانی قونصلیٹ میں پریس کونسلر علی نواز ملک نے دفتری اوقات کے بعد بھی بہت خیال رکھا۔ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے علی نوازکے بقول یہ اس کی جرنلزم سے محبت کا اظہار ہے نہ کہ سرکاری ڈیوٹی۔ مجھ سے اس کی محبت صحافت کے طفیل اور عباس تابش سے اس کی شاگردی کی وجہ سے تھی۔
پاکستانی کمیونٹی ملکی حالات سے بڑی پریشان تھی۔ ویسے تو دیار غیر میں ہر پاکستانی پاکستان کے بارے میں فکرمند نظر آتا ہے مگر ہانگ کانگ میں مقیم پاکستانی جب پاکستان اور ہانگ کانگ کا موازنہ کرتے ہیں تو ساتھ ہی یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ آخر پاکستان میں کس چیز کی کمی ہے؟ ہانگ کانگ میں کوئی فصل پیدا نہیں ہوتی، گیس نہیں ہے، تیل نہیں ہے، کوئی خام مال نہیں ہے حتیٰ کہ پانی تک نہیں ہے؛ پینے کا پانی کنٹینروں میں چین سے آتا ہے، گائے اور بکرے کے گوشت سے لے کر پیاز‘ ٹماٹر‘ سبزیاں اور دھنیا تک درآمد ہوتا ہے لیکن ایک سیکنڈ کے لیے بجلی نہیں جاتی۔ زرمبادلہ کے ذخائر تین سو پچیس ارب ڈالر ہیں جو بھارت کے برابر ہیں۔ ہانگ کانگ اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کے حوالے سے دنیا میں دسویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان اڑسٹھویں نمبر پر۔ رقبے کے اعتبار سے پاکستان دنیا بھر میں چونتیسویں نمبر پر ہے جبکہ ہانگ کانگ ایک سو تراسیویں نمبر پر ہے۔ آبادی کے اعتبار سے پاکستان دنیا میں چھٹے نمبر پر جبکہ ہانگ کانگ سوویں نمبر پر ہے۔ گنجان ترین آبادی کے لحاظ سے ہانگ کانگ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، یہاں فی مربع کلو میٹر آبادی 6400 کے لگ بھگ ہے جبکہ پاکستان اس سلسلے میں پہلے دس ممالک میں شامل نہیں ہے۔ جی ڈی پی کے اعتبار سے ہانگ کانگ دنیا میں چالیسویں اور پاکستان چھیالیسویں نمبر پر ہے۔ 73 لاکھ آبادی والے ہانگ کانگ کا جی ڈی پی 274 ارب ڈالر جبکہ اٹھارہ کروڑ والے پاکستان کا جی ڈی پی 225 ارب ڈالر ہے۔ ہانگ کانگ میں ہر پانچواں شخص خط غربت سے نیچے زندگی بسر کر رہا ہے مگر یہاں خط غربت سے مراد ہے کہ جو شخص3275ہانگ کانگ ڈالر فی مہینہ کماتا ہے ۔ اس حساب سے اس کی روزانہ آمدنی پاکستانی غریب کی دو امریکی ڈالر فی یوم کے مقابلے میں چودہ امریکی ڈالر فی یوم بنتی ہے۔
باقی باتیں چھوڑیں، ہانگ کانگ میں ایک اردو محاورے کا دھڑن تختہ ہوتے دیکھا۔ ہم افراتفری‘ ہنگامہ خیزی‘ بدتہذیبی اور گالم گلوچ ٹائپ والی صورت حال پر ایک اردو محاورہ سنتے تھے کہ فلاں جگہ مچھلی منڈی بنی ہوئی تھی۔ اس محاورے کا سب سے مناسب استعمال ہمیشہ اسمبلی وغیرہ کی اندرونی صورت حال پر ہوتے دیکھاکہ فلاں ممبر نے یہ کہا اور پھر اسمبلی مچھلی منڈی کا منظر پیش کرنے لگی یا فلاں ممبر نے فلاں پارٹی کے لیڈر کے بارے میں ریمارکس دیے تو اسمبلی مچھلی منڈی بن گئی۔ ہانگ کانگ میں مچھلی منڈی دیکھی۔ اتنی صفائی‘ ترتیب‘ تہذیب‘ نظم و ضبط اور خاموشی دیکھی کہ عشروں سے سنا ہوا محاورہ ''مچھلی منڈی بننا‘‘ ذہن میں بالکل تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ مچھلی منڈی میں کھڑے ہوکر دعاکی کہ اللہ میاں! ہماری اسمبلیوںکو ہانگ کانگ جیسی مچھلی منڈی بنا دے۔ قارئین سے درخواست ہے کہ وہ اس دعا پر صبح صبح آمین کہیں، کیا پتا ہماری سنی جائے۔
جاتے جاتے یاد آیا، کل کولون کے ساحل پر ''ریونیو آف سٹارز‘‘ کے ایک بنچ پر مولانا فضل الرحمن کو بیٹھے ''سمندر‘‘ کا نظارہ کرتے دیکھا۔ چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے کے بعد انہیں ہانگ کانگ کے تین روزہ غیر سرکاری دورے کے دوسرے روز عوامی مصروفیات میں غلطاں دیکھ کر ازحد خوشی ہوئی۔ سینیٹ کی ڈپٹی چیئرمینی لے اڑنے کے بعد یہ تفریحی دورہ ان کا حق بنتا تھا۔
مکمل تحریر >>

دہشت گرد اپنی قبر خود کھود رہے ہیں!

جموں کے کٹھوا اور سانبا سیکٹر میں حملہ کر کے دہشت گردوں نے وزیر اعلیٰ مفتی سعید کو مجبور کر دیا کہ وہ ان کو واضح طور پر خبردار کر دیں۔ مفتی صاحب نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی جس ایجنڈے کا اعلان کیا تھا‘ اس کا مطلب یہ تھا کہ ان کی اور بی جے پی کی حکومت ایسے کام کرے گی‘ جن سے جموں اور وادی کے رشتے ٹھیک ہوں گے‘ بھارت کے ہندوؤں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ بڑھے گا اور بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات بہتر ہو جائیں گے۔ اگر یہ عمل چلتا رہتا تو مندرجہ بالا تینوں ہدف تو پورے ہوتے ہی‘ دہشت گردوں کو بھی راحت ملتی۔ انہیں دہشت پھیلانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی‘ لیکن دہشت گردوں نے اب جموں میں جو حملے کئے‘ ان کے نتیجے میں انہوں نے خود ہی اپنی قبر کھود لی ہے۔
مفتی صاحب کو اب سختی برتنا پڑے گی۔ اب لگتا ہے کہ سری نگر میں چل رہی سرکار کو وفاق اور بی جے پی کے اشاروں پر ناچنا پڑے گا۔ دہشت گردوں کی کرتوتوں نے مفتی صاحب کو کمزور کر دیا ہے اور وفاق کو مضبوط بنا دیا ہے۔ مفتی صاحب چاہ رہے تھے کہ فوج کے اختیارات کچھ کم ہوں اور کچھ علاقوں سے اس کی واپسی ہو۔ اس کے لئے وفاق بھی تیار ہو رہا تھا‘ لیکن دہشت گردوں نے فوج کے ہاتھ ایک بار مضبوط کر دیے ہیں۔ اب ایک بار پھر فوج کے مخصوص حق کے قانون کم ہونے کے بجائے بڑھیں گے۔ اگر مفتی صاحب جیسے حکمران کی حکومت میں اس طرح کے واقعات ہوں تو کون ڈھیل دینے کی وکالت کر سکتا ہے؟
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردوں نے پاکستان کو بھی سنگین اور شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں پاکستان مخالف نعرے لگنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یہ نعرے بی جے پی کے صوبائی ارکان نے لگائے تھے جبکہ مرکز کی بی جے پی سرکار نے اپنا خارجہ سیکرٹری اسلام آباد بھیجا تھا۔ اب بھارت کی وفاقی سرکار حریت والوں سے پاکستانی قونصلیٹ کی بات چیت کو بھی منع نہیں کر رہی ہے۔ ایسے میں دہشت گردوں نے پلستر میں کچرہ کر دیا۔ مفتی صاحب نے نواز شریف سرکار سے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کو لگام دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس دہشت گردی کا لنک بیرونی ہے۔
وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کو چاہیے کہ وہ نریندر مودی سے سیدھی بات کریں یا دونوں ملکوں کے وزیر داخلہ سیدھی بات کریں۔ دہشت گردی کے ان واقعات کی وجہ سے پاک بھارت مذاکرات کی گاڑی پٹڑی سے نیچے نہیں اترنی چاہیے۔
تھوک ریزرویشن غیر ضروری
سپریم کورٹ نے جاٹوں کی ریزرویشن (یعنی کوٹا )کو رد کر دیا ہے ۔پچھلی سرکار نے جاٹوں کی گنتی دوسرے پسماندہ طبقوں میں کر کے انہیں ریزرویشن دیا تھا۔اس ریزرویشن کی وجہ سے بیک ورڈ والے سبھی کو ملنے والے ٹوٹل میں 27 فیصد ریزرویشن میں کٹوتی ہو رہی تھی ۔وہ ناراض ہو رہے تھے لیکن کانگریس سرکار نے عام چناو ٔ کے پہلے9 صوبوں میں جاٹوں کو تعلیم اور نوکریوں میں ریزرویشن دے دیا۔اس کا مقصد صرف ایک تھا۔جاٹوں کے تھوک ووٹ حاصل کرنا۔اپنے مطلب کیلئے لیڈر لوگ اپنے ملک کوکیسے نقصان پہنچاتے ہیں ‘اس کی مثال ہے ‘یہ قدم! ہمارا سماج ٹکڑوں میں بٹ جائے اور مختلف طبقوں میں حسداور نفرت پھیل جائے ‘اس کی فکر انہیں نہیں ہے۔جاٹ لوگ بھی ان کی فکر کیوں کرتے ؟انہیں جب کئی چیزیں مل رہی ہیں تو وہ منع کیوں کریں ۔ہاں ‘کئی چودھریوں کو میں نے یہ کہتے بھی سنا ہے کہ کون ہوتا ہے ہمیں بیک ورڈ کہنے والا؟ حقیقت میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اکانومی اور معاشرتی ناپ تول کے مطابق جاٹوں کو بیک ورڈ نہیں مانا جاسکتا۔پرانے آنکڑوں (سروے ) کے بنیاد پر کسی بھی طبقے کوریزرویشن دینا ٹھیک نہیں ہے ۔
میری گزارش ہے کہ ذات کی بنیاد پرریزرویشن دینا ریزرویشن کا مذاق ہے۔ ریزرویشن کی اس سے بڑی بے حرمتی کیا ہوگی کہ آپ ریزرویشن دیتے وقت اپنی آنکھ بند کرلیں ۔جسے ریزرویشن دے رہے ہیں‘ اس کی اکانومی اور سماجی حالت کا جائزہ کئے بنا ہی اسے تھوک میں ریزرویشن دے دیں ۔وہ انسان ہیں یاجانور ہیں‘ جیسے جانوروں کو تھوک میں ہانکا جاتا ہے ‘ویسے ہی آپ تھوک میں ریوڑیاں بانٹ رہے ہیں ۔ملائم یا لالو کیا بیک ورڈ ہیں ؟مایا وتی کیا دلت ہیں؟مایاوتی تو بڑے بڑے لوگوں کی دلتی رہی ہے ۔ایسے لوگوں کا یا ان کے رشتے داروں کوریزرویشن کی تک کیا ہے؟ ریزرویشن کی بنیاد ذات کو اس لیے بنایا گیا تھا کہ اس وقت ٹھیک ٹھیک آنکڑے (تخمینے )حاصل نہیں تھے۔اب تو ہر آدمی کے بارے میں ضروری جانکاری موجود ہے ۔اس لیے تھوک میں ریزرویشن فوراً ختم کیا جانا چاہئے۔صرف تعلیم میں ریزرویشن دی جانی چاہئے اور صرف انہیں ہی دی جانی چاہئے ‘جو غریب اور مسکین ہوں ‘لائق ہوں اور سچ مچ بیک ورڈ ہوں ۔جنم سے نہیں ‘عمل سے ۔
مکمل تحریر >>

چراغ سب کے بجھیں گے‘ ہوا کسی کی نہیں

کراچی میں رینجرز نے بیریئرز ہٹانے کا آغاز سابق آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کے گھر سے کیا‘ 1990ء کے عشرے میں لاہور کو تجاوزات سے پاک کرنے کے لیے میئر کے طور پر میاں محمد اظہرنے کارروائی اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے ایک قریبی عزیز کی طرف سے قائم تجاوزات ہٹا کر کی تو اپنے بیگانے سب نے داد دی ۔شریف خاندان نے بھی سراہا کہ ان دنوں ہر معاملے کو سیاست اور ذاتی و خاندانی مفاد کی عینک سے دیکھنے کا رواج نہ تھا۔
یہ تجاوزات کے خلاف کامیاب مہم کا نقطہ آغاز تھا۔ ہر شہری کے لیے واضح پیغام کہ اگر بیڈن روڈ پر وزیر اعظم کے قریبی اور قابل احترام عزیز کی دکان کا تھڑا گر سکتا ہے تو کسی دوسرے کو امان کیوں؟ بلدیہ لاہور کے بلڈوزر چلے تو ہر تھڑے ‘ دیوار‘ دکان‘ کھوکھے اور رکاوٹ کو مسمار کرتے چلے گئے ۔ حتیٰ کہ شہر کا ہر گلی کونا نکھرنے لگا۔
کراچی میں آپریشن دہشت گردوں‘ ٹارگٹ کلرز ‘ اغواکاروں‘ بھتہ خوروں کے خلاف شروع ہوا ہے۔ بیریئر چونکہ آپریشن میں رکاوٹ ڈالتے ہیں لہٰذا رینجرز نے چار پانچ روز قبل انہیں ہٹانے کا فیصلہ کیا۔ شہریوں نے سکھ کا سانس لیا کہ ان رکاوٹوں کی وجہ سے ان کا جینا حرام ہو چکا تھا‘ جگہ جگہ تلاشی‘ آمدو رفت میں دقّت اور سیاسی جماعتوں کے علاوہ طاقتور افراد اورتنظیموں کے بد لحاظ اورجھگڑالو کارکن اور نام نہاد سکیورٹی کمپنیوں کے اجڈ اور گنوار گارڈز کی طرف سے بدتمیزی کون سا شریف آدمی ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر سکتا ہے مگر ظلم کے آگے زاری‘ جنگل کا قانون رائج ہو تو پابندی ہر کمزور کو کرنی پڑتی ہے۔
سابق آرمی چیف کے گھر سے بیریئر ہٹا کر رینجرز نے اپنی نیک نیتی اور سنجیدگی ظاہر کی ہے اور ایم کیو ایم ‘ پیپلز پارٹی ‘ اے این پی‘ سنی تحریک اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی ہے کہ وہ شہر کو ایک کھلا اور محفوظ شہر بنانے کی راہ پر گامزن ہے اور کسی نوگوایریا کی موجودگی برداشت نہیں کرتی‘ خواہ وہ حفاظتی اقدامات کے نام پر قائم ہوں یا کسی شخص یا گروہ کی طاقت و قوت اور شان و شوکت کے اظہار کے لیے ۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے دفاتر بھی موجود ہیں اور جسٹس رفیق تارڑ‘ سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کی رہائش گاہیں بھی‘ جن کے سامنے سے ٹریفک گزرتی ہے اور ان کے دفاتر اور گھروں کے سامنے سے گزرنے والے پاکستانیوں کو ذلت آمیز تلاشی اور رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں کے رہنما اور حکمران قوم کے لیے رول ماڈل ہوتے ہیں اور اپنے قول و فعل سے قانون کی پاسداری اور مثبت روایات کی حوصلہ افزائی کا تاثر ابھارتے ہیں مگر ہمارے ہاں کا باوا آدم نرالا ہے ۔ یہاں سیاستدانوں اور حکمرانوں نے الا ماشاء اللہ ہمیشہ قانون کی مٹی پلید کی اور اچھی روایات کا قلع قمع کیا ۔یہاں جرم‘ سیاست و حکومت کی چھتر چھایا میں پروان چڑھا اور صرف کراچی ہی نہیں ملک کے دوسرے صوبوں میں ہر دہشت گرد‘ ٹارگٹ کلر‘ اغوا کار‘ بھتہ خور‘ ڈاکو‘ سمگلر ‘ منشیات فروش اور راہزن کو کسی نہ کسی سیاسی تنظیم‘ گروہ اور رہنما کی سرپرستی حاصل رہی‘ تبھی جرم پھلتا پھولتا رہا۔
کیا خیال ہے دس دس پندرہ پندرہ سال تک سزا یافتہ قاتل کسی قانونی پیچیدگی یا انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے کیفر کردار تک نہ پہنچ سکے یا سیاسی دبائو بروئے کار آیا؟ ہر حکمران اور سیاستدان نے جرم‘ لاقانونیت اور لوٹ مار سے اس لیے چشم پوشی کی کہ اس کا اپنا اور چہیتوں کا دائو بھی لگا رہے۔ اس حمام میں سب ننگے جو ہوئے۔ مگر اب شاید قدرت کو اس قوم پر رحم آیا ہے خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ شمالی وزیرستان سے شروع ہونے والے آپریشن کا دائرہ وسیع ہونے لگا ہے۔ صرف مجرم اس کی زد میں نہیں آ رہے بلکہ ان کے سرپرستوں کے چہرے بھی بے نقاب ہونے لگے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی سے خائف سیاسی وڈیرے اور لٹیرے اپنے گماشتوں اور کارندوں کو بچانے کے لیے نئی جتھے بندی کر رہے ہیں۔
کراچی آپریشن جوں جوں آگے بڑھ رہا ہے‘ دہشت گردوں‘ ٹارگٹ کلرز ‘ اغوا کاروں اوربھتہ خوروں کے حوصلے پست ہو رہے ہیں اور اس آپریشن پر مخالفانہ آوازیں بھی مدہم پڑنے لگی ہیں‘ کیونکہ فوجی قیادت اور وفاقی حکومت نے ابھی تک کمزوری دکھائی نہ اپنے موقف میں لچک پیدا کی۔ ایک غیر مصدقہ اطلاع کے مطابق برطانوی حکومت کے ذریعے حکومت کو موصول ہونے والا مشروط معافی نامہ بھی فی الحال زیر التوا ہے البتہ ایک وقت میں کئی محاذ نہ کھولنے کی حکمت عملی کے تحت فی الحال آپریشن کا دائرہ اندرون سندھ اور دوسرے گروپوں تک وسیع نہ کرنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ وفاقی حکومت نہیں چاہتی کہ پیپلز پارٹی کھل کر ایم کیو ایم کا ساتھ دے اور سندھ حکومت رینجرز کو واپس بلانے کی ریکوزیشن داغ سکے۔
مگر کیا یہ آصف علی زرداری اور پیپلز پارٹی کا دانشمندانہ فیصلہ ہو گا؟ کیا محض اپنی شان و شوکت برقرار رکھنے اور بلاول ہائوس کو ہر قاعدے ‘ قانون اور کارروائی سے مستثنیٰ ثابت کرنے سے سندھ اور کراچی کو فائدہ ہو گا اور پیپلز پارٹی کے علاوہ بلال ہائوس کے مکینوں کے بارے میں عوامی سطح پر خوشگوار اور مثبت جذبات جنم لیں گے؟ یہ صرف سندھ حکومت نہیں وفاقی حکومت کوبھی سوچنا چاہیے۔ جان و مال کا تحفظ کیا صرف سابق صدور اور طاقتور افراد کا حق ہے؟ لوگ ٹیکس ان کی شان و شوکت برقرار رکھنے کے لیے دیتے ہیں؟ عام آدمی کا بھی کوئی پرسان حال ہے یا نہیں؟ قانون کے امتیازی اطلاق کی بنا پر ہی تو مسلح جتھے وجود میں آئے اور سیاسی جماعتوں میں عسکری ونگ بنے۔
ایم کیو ایم کے لیے نشو و نما اور بقا کا راستہ اب بھی کھلا ہے وہ ایک پُرامن اور اختلاف رائے برداشت کرنے والی سیاسی جماعت کے طور پر اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکتی ہے۔ الزامات کے باوجود اس کے کسی رکن قومی و صوبائی اسمبلی کو آج تک قانون نافذ کرنے والے اداروں کی طرف سے چھیڑاگیا نہ سنگین جرائم میں ملوث افراد کی گرفتاری اور مہلک‘ غیر قانونی اسلحہ کی برآمدگی کے باوجود نائن زیرو مرکز کی تالہ بندی ہوئی‘ لہٰذا ان گرفتار شدگان یا فی الحال مفرور‘ ان کے جرائم پیشہ ساتھیوں کی خاطر ایم کیو ایم کو اپنی سیاست دائو پر نہیں لگانی چاہیے اور مخالفین کے اس تاثر‘ الزام کو درست ثابت نہیں کرنا چاہیے کہ عسکری ونگ کے بغیر ایم کیو ایم ایک دن سیاست نہیں کر سکتی۔ اگر الطاف بھائی سمیت اہم ترین لیڈروں کو اپنے مناصب کی قربانی بھی دینی پڑے تو یہ گھاٹے کا سودا نہیں کیونکہ اب سابق طور طریقے چل سکتے ہیں نہ قومی اداروں کے ساتھ آنکھ مچولی کا کھیل۔
قوم تو اس آپریشن کے بارے میں پُرامید ہے مگر گورنر کی تبدیلی‘ عزیر بلوچ کی واپسی میں تاخیر اور آصف علی زرداری کے ناقابل فہم طرز عمل کے علاوہ سندھ حکومت کی ڈھلمل یقین پالیسی کی وجہ سے دودھ کے جلے کراچی والے چھاچھ کو فی الحال پھونکیں مار رہے ہیں ماضی کے دو آپریشنوں کا حشر وہ دیکھ چکے اور ان میں جوش و جذبے سے حصہ لینے والے پولیس اہلکاروں کا انجام بھی۔ انہیں خوف یہ ہے کہ آپریشن کا دائرہ وسیع ہوا‘ زد‘ دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے اغوا کاروں‘ بھتہ خوروں‘ قاتلوں اور لٹیروں پر پڑی تو یہ اپنے چھوٹے موٹے سیاسی اختلافات بھلا کر ایک بار پھر اکٹھے ہو جائیں گے اور فوج اور رینجرز کے خلاف یوں صف آرا ء ہوں گے جیسے یہ قومی ادارے واقعی کریمنلز کو نہیں جمہوریت کے محافظوں کی سرکوبی کر رہے ہیں‘ بے چاری جمہوریت! ایک جرائم پیشہ کو سیاسی کارکن اور جمہوریت پسند بنتے اور سیاستدانوں کو اپنا موقف بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے؟ برسوں سے یہ تماشا جاری ہے اور قوم کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ کسی کو مجرم‘ قانون پسند‘ جمہوریت پرست اور جمہوریت دشمن قرار دینے کا معیار کیا ہے؟
رینجرز کراچی کی ہر سڑک‘ گلی‘ محلے میں قائم دفتر اور محل کے سامنے سے بلا امتیاز و تفریق بیریئر ہٹانے میں کامیاب رہی اور کوئی سیاسی مصلحت ‘ انتظامی حکم اور حفاظتی بہانہ رکاوٹ نہ بنا تو سمجھیے کہ آپریشن کے اگلے مراحل بھی کامیابی سے ہمکنار ہو ں گے۔ کہیں خود ساختہ حفاظتی رکاوٹیں نظر آئیں گی نہ مسلح جتھے اور نہ ریاستی اداروں کے ذریعے مخالفین کی سرکوبی کا ماحول۔ جرائم پیشہ افراد اعلیٰ ایوانوں میں نہیں سلاخوں کے پیچھے نظر آئیں گے۔اور سیاست عوام دوست شرفا کا مشغلہ قرار پائے گا۔
عزم راسخ‘ نیک نیتی اور محنت کبھی رائگاں نہیں جاتے ؎
تو محنت کر تے محنت دا صلہ جانے خدا جانے
تو ڈیوا بال کے رکھ چا‘ ہوا جانے خدا جانے
خزاں دا خوف تے مالی کوں بزدل کر نہیں سگدا
چمن آباد رکھ‘ بادِ صبا جانے‘ خدا جانے
اے پوری تھیوے نہ تھیوے‘ مگر بے کار نئیں ویندی
دعا شاکر تو منگی رکھ‘ دعا جانے‘ خدا جانے
مکمل تحریر >>

امریکہ پھر آ رہا ہے

میں نے امریکہ کو کئی بار پاکستان میں آتے اور جاتے ہوئے دیکھا ہے۔اب تو میں اس کے قدموں کی آہٹیں پہچاننے لگا ہوں۔ ابتداء میں یہ آہٹیںبڑی بلند ہوتی تھیں‘ بلکہ امریکہ خود انہیں نمایاں کرتا تھا۔ پہلی آمد ''تھینک یو! امریکہ‘‘ کے ساتھ ہوئی۔ خیرات میں دی جانے والی امریکی گندم ہمیں مفت دے کر احسان کیا جاتا تھا۔ دو ہاتھ مصافحہ کرتے نظر آتے اور ریلوے انجنوں سے لے کر ایئر پورٹس‘ نہروں اور راجباہوں کے پلوں پر ایک چھپا چھپایا بینر چسپاں ہوتا۔ ایک ہاتھ کی آستین پر امریکی پرچم اور دوسرے کی آستین پر‘ پاکستانی پرچم دکھائی دیتا اور نیچے لکھا ہوتا ''تھینک یو! امریکہ۔‘‘ یہ اور بات ہے کہ ہم اپنے پاکستان کی‘ جس گندم کو کھانے کے عادی تھے‘ اس کی لذت ہی کچھ اور تھی۔ ہمارے لئے امریکی گندم بدذائقہ تھی اور جہاں جہاں بھی یہ دی گئی‘ شاید ہی کسی نے کھائی ہو۔ بیشتر لوگ اسے اونے پونے داموں بیچ دیتے اور اس گندم کا آخری ٹھکانہ ہمارے مویشیوں کی کھرلیاں ہوتیں۔ اب تو ہماری زمین کا ذائقہ رکھنے والی اصل گندم سے پکی روٹی کسی بڑے جاگیردار کے گھر میں دیکھنے کو مل جائے‘ تو مل جائے‘ ورنہ وطن کی مٹی میں اگی ہوئی گندم کے آٹے کی خوشبودار روٹی کا تو نئی نسل کو پتہ بھی نہیں ہو گا۔ امریکہ نے عام آدمی کو اپنی بدمزہ گندم دے کر‘ ہمارے حکمرانوںکو ڈالروں کی ایسی لت لگائی کہ وہ خود بھی ہمارے لئے امریکی گندم بن کر رہ گئے۔ بدمزہ‘ بدذائقہ اور بدلحاظ آدمی۔ ہمارے اقتدار کے ایوانوں میںانسان شاذونادر ہی آتا ہے۔ پہلی بار 1965ء کی جنگ کے بعد‘ امریکہ ہم سے رخصت ہوا۔ 1970ء میں یحییٰ خان پر مہربان ہوا۔ مگر اس مہربانی کے دور میں‘ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے نقشے میں رنگ امریکہ نے ہی بھرے تھے۔ باقی ماندہ پاکستان کی حکومت کے لئے‘ امریکہ نے ذوالفقار علی بھٹو کی منظوری دی۔ لیکن بھٹو صاحب نے جلد ہی آزادی و خودمختاری حاصل کرنے کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے۔ اردن کی لیبارٹری میں تیار کردہ ایک فوجی افسر‘ جو پاکستان آ کر جنرل بن گیا‘ اس پر امریکہ کو بہت بھروسہ تھا۔ اس کے دور میں امریکہ پھر مہربان ہوا‘ اور اب کے ہمیں دہشت گردوں‘ اسلحہ اور ڈالروں کی امداد ملی۔ یہ امداد ‘ امریکی گندم سے بھی زیادہ بدذائقہ بلکہ بدبو دار نکلی۔
اس نئی امریکی امدادنے‘ ہماری آزادی اور ہمارے خون‘ دونوں کو پینا شروع کیا‘ جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ضیاالحق کی قسمت میں بیوفائی ہی لکھی تھی۔ انہوں نے پہلی بیوفائی اپنے محسن بھٹو سے کی‘ جس نے تین سینئر جنرلوں کو‘ آرمی چیف بننے کے حق سے محروم کرتے ہوئے‘ ضیاالحق کو نیچے سے اٹھا کر چیف آف آرمی سٹاف بنایا‘ مگر ان کی اصل وفاداری امریکہ کے ساتھ تھی۔ جیسے ہی امریکہ کو ضرورت پڑی‘ جنرل ضیاالحق نے درپردہ اپوزیشن لیڈروں کو بھٹو کے خلاف منظم کر کے‘ انتخابات میں پھڈا ڈالنے کی خاطر میدان میں اتارا۔ ریاستی جبر کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ضیاالحق کے کنٹرولڈ اور خریدے ہوئے میڈیا نے‘ عوامی تائید و حمایت سے محروم چند سیاستدانوں کو احتجاج پر لگا کر ایسا نقشہ باندھا کہ اسے عظیم عوامی تحریک کا نام دے دیا گیا۔ ضیاالحق کی مہربانیوں سے فیض یاب میڈیا والے‘ آج بھی چائے کی پیالی میں اٹھنے والے تحریک کے اس طوفان کو حقیقی احتجاجی تحریک قرار دیتے ہیں ۔ میڈیا پر انہیں باقاعدہ منصوبے کے تحت مسلط کیا گیا تھا۔ آزادی پسند صحافیوں کو چن چن کر بیروزگار کیا گیا۔ وہ میڈیا والے آج تک ضیاالحق کے گن گاتے ہیں اور آج بھی اگر کوئی اس کے اصل کردار کا ذکرچھیڑ دے‘ تو وہ اپنے بلی جیسے پنجوں سے اس کا منہ نوچنے لگتے ہیں۔ بھٹو کی طرح ضیاالحق پر احسان کرنے والا بھی امریکہ تھا۔ جب ضیاالحق نے دیکھا کہ روس کو افغانستان میں پسپائی اختیار کرنا پڑے گی‘ تو انہوں امریکہ سے بھی بیوفائی کی ٹھان لی اور افغانستان میں اپنی من مانیوں کی تیاریاں کرنے لگے۔ امریکیوں نے اس بیوفائی کو بھانپ لیا اور اس مرتبہ بھٹو کی بجائے‘ جان دینے کی باری ضیاالحق کی تھی۔ ان کے بعد اختیارات جونیئر جنرلوں کے ہاتھ لگے۔ جنرل ضیا کے انجام سے‘ یہ سب سہمے ہوئے تھے۔ جمہوریت کا ڈرامہ رچانے کے لئے جو حکمران دستیاب ہوئے‘ وہ نوآموز اور ناتجربہ کار تھے۔ جنرلوں نے ان دونوں کو باری باری خوب استعمال کیا اور پھر خود اقتدار پر قابض ہو گئے۔ امریکیوں نے نئے جنرل کا عہد وفا‘ تین شرطوں پر قبول کیا۔ جن میں سے ایک یہ تھی کہ وہ میڈیا پر کوئی پابندی نہیں لگائے گا اور اسے مکمل آزادی فراہم کی جائے گی۔ امریکہ کو آزادیٔ اظہار سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ میڈیا کی آزادی اس نے اس لئے مانگی تھی کہ جنرل کے قدم جمنے نہ پائیں۔ جنرل مشرف کو وہ مکمل اتھارٹی کبھی نہ مل پائی‘ جو جنرل ضیاالحق نے 1977ء سے لے کر 1985ء تک استعمال کی۔ مشرف کے جانے کے بعد‘ زرداری پاکستان کے صدر بن گئے۔ وزیراعظم بھی انہی کی پارٹی کا تھا۔ امریکہ کے لئے دونوں ہی ناقابل اعتبار تھے۔ ان دونوں کو بھی عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کا کوئی خاص شوق نہیں تھا اور ان کا جو شوق تھا‘ وہ ان دونوں نے اپنے حواریوں سمیت جی بھر کے پورا کیا۔ اسی شوق کی خاطر آج بھی اپنی روایتی حریف جماعت ‘ ن لیگی حکومت کی خدمت گزاری میں لگے ہیں۔
امریکہ ایک بار پھر اپنے وفادار فوجی حکمرانوں سے مایوس ہوا۔ جب اسے پتہ چلا کہ یہ جنرل ڈالر لے کر‘ امریکہ کے دشمن چھاپہ ماروں کو دیتے ہیں اور وہ امریکہ ہی کا اسلحہ استعمال کر کے‘ امریکی فوجیوں کو پھڑکاتے ہیں۔ امریکہ کی ریاستی پالیسیاں خواہ کچھ ہوں‘ لیکن بھٹو صاحب کے الفاظ میں ''امریکہ ایک ہاتھی ہے‘ جو کبھی معاف نہیں کرتا۔ کچھ بھی ہو جائے انتقام لے کر رہتا ہے۔‘‘ میرے ذہن میں بھی امریکہ کے سامراجی کردار کی بے شمار کہانیاں محفوظ ہیں۔ ایسی ایک بھی کہانی نہیں‘ جس میں امریکہ نے بیوفائی یا بغاوت کرنے والے ‘کسی نام کے اتحادی اور کام کے وظیفہ خوار کو معاف کیا ہو۔ تازہ واقعہ ہی یاد کر لیں۔ اسامہ بن لادن کی خاطر ‘اس نے ایک ملک پر فوج کشی کی اور دوسرے ملک کو جو اس کا اتحادی تھا‘ اس کا پورا دفاعی نظام روندتے ہوئے‘ اسامہ بن لادن کو مار کے‘ اٹھا لے گئے۔ ایسا آج تک تو ہوا نہیں۔ اب اگر ہو جائے تو میں کہہ نہیں سکتا کہ امریکہ نے پاکستان کو معاف کر دیا ہو گا۔
امریکہ ایک بار پھر‘ پاکستان میںو اپسی کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ایک ایک لقمہ کر کے ہماری امداد شروع کی جا چکی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف اب تک جو کچھ کیا ہے‘ امریکہ اس سے ہرگزمطمئن نہیں۔ یہاں تک کہ حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے امریکہ کو جو شکایت تھی‘ وہ بھی ختم نہیں ہوئی اور سچ کہوں تو افغانستان کے نئے صدر اشرف غنی کی رپورٹ بھی اچھی نہیں گئی۔ اس پس منظر میں‘ یہ خبر پڑھ کے میں سوچنے لگا ہوں کہ اب ہمارا کیا بنے گا؟ امریکہ کا حال تو یہ ہے کہ ہوئے تم دوست جس کے‘ دشمن اس کا آسماں کیوں ہو؟ خبر یہ ہے ''امریکہ اور پاکستان مشترکہ فوجی مشقیںشروع کرنے والے ہیں‘ جن کا اکتوبر 2015ء میں آغاز ہو جائے گا۔ امریکہ اور پاکستان میں 100 سے زیادہ مشترکہ کارروائیوں اور مشقوں کا منصوبہ صرف اکتوبر میں شروع ہونے والے مالیاتی سال کے دوران مکمل کیا جائے گا۔مشترکہ مشقیں مختلف فوجی مہارتوں پر مشتمل ہوں گی۔ ان میں ہوائی‘ زمینی اور سمندری آپریشنز کئے جائیں گے۔ امریکہ کی سنٹرل کمانڈ کے مطابق دونوں ملکوں کی فوجوں کے درمیان دیگرEngagementsکے علاوہ سپیشل آپریشنز بھی ہوں گے اور منصوبے کے تحت جوEngagementsہوں گی‘ ان میں سیمینارز اور دوسرے فورمز استعمال کئے جائیں گے‘ جن میں دیگر موضوعات کے علاوہ کائونٹر ٹیررازم‘ کائونٹر انسرجنسی‘ سول ملٹری کوآپریشن‘ خفیہ تبادلہ اطلاعات اور پریس ریلیزیں شامل ہیں۔ آخری سطور پڑھتے ہوئے ہماری میڈیا برادری کا ماتھا بھی ٹھنک گیا ہو گا کہ آگے کیا آ رہا ہے؟ میں نے جس دن میڈیا پر پابندیوں کی خبریں پڑھیں‘ تو فوراً بھانپ لیا کہ ''امریکہ آ رہا ہے۔‘‘ میڈیا پر ہم نے امریکی مہربانیاں بہت دیکھی ہیں۔ پورے پرنٹ میڈیا پر نیشنل پریس ٹرسٹ بنا کر‘ قبضہ کرنے کا منصوبہ بھی وہیں سے آیا تھا۔ مشرقی پاکستان کے کم و بیش تمام اخباروں اور مغربی پاکستان سے ''نوائے وقت‘‘ اور ''جنگ‘‘ گروپس نے سخت مزاحمت کی تھی‘ جس پر ایوب حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ یحییٰ خان کا سنسر بھی اس کے امریکی آقائوں نے ہی لگوایا تھا اور ضیاالحق کو تو ایسا پکا کر کے بٹھایا گیا کہ اس نے صحافیوں کو کوڑے بھی لگوا دیئے۔ میں نے اپنی قید میں ایک ہفتہ ایک ایسی کوٹھڑی میں کاٹا‘ جس کا پکا فرش ادھڑا ہوا تھا اور نومبر کے مہینے میں اوڑھنے کے لئے ایک چادر تک نہیں تھی۔ اب جو کچھ امریکہ یہاں کرنے والا ہے‘ اس کے لئے قومی میڈیا کی آزادی ناقابل برداشت ہو گی۔ اندازہ ہے کہ حکومت پاکستان کو اپنے سیٹلائٹ میں بہتر صلاحیتیں پیدا کرنے کے لئے پوری تیکنیکی امداد دی جائے گی تاکہ تمام نیوز چینلز کی نشریات سرکاری سیٹلائٹ سے ہوں۔ مشرف اور زرداری کے دور میں‘ امریکیوں نے چھوٹے چھوٹے دیہات میں این جی اوز کا جال پھیلا دیا تھا۔ آثار سے لگتا ہے کہ امریکہ پھر آ رہا ہے۔
مکمل تحریر >>

Ads

Google Translator

Blogger Tips And Tricks|Latest Tips For BloggersFree BacklinksBlogger Tips And Tricks
English French German Spain Italian Dutch Russian Portuguese Japanese Korean Arabic Chinese Simplified
Powered By google

BidVertiser