Friday, January 30, 2015

پاک چین دوستی کی یادگار کے طور پر 20 روپے کا سکہ جاری


اسلام آباد: حکومت پاکستان نے پاک چین دوستی کی یادگار کے طور پر 20 روپے کا سکہ جاری کر دیا۔

سکے کے فرنٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا گیا ہے جبکہ درمیان میں چاند تارا بنایا گیا ہے جبکہ پشت پر پاکستان اور چین کے جھنڈے بنائے گئے ہیں، یہ سکہ آج سے ملک بھر میں استعمال ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی لازوال تصور کی جاتی ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورہ چین کے موقع پر چینی حکام نے پاکستان کی تشویش کو اپنی تشویش قرار دیا تھا جب کہ مارچ میں چین کے صدر پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔
مکمل تحریر >>

Monday, January 26, 2015

موسمیاتی تبدیلیاں اور ایٹمی ہتھیار دنیا کو قیامت کے قریب لا رہے ہیں


واشنگٹن: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ایٹمی ہتھیا دنیا کو قیامت کے قریب لارہے ہیں۔

بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نامی گروپ نے قیامت کی گھڑی کو 2 منٹ آگے بڑھادیا ہے جس کے بعد یہ آدھی رات سے صرف 3 منٹ دور رہ گئی ہے، قیامت کی گھڑی 1947 میں بنائی گئی تھی، اسے 18 مرتبہ تبدیلی کیا جاچکا ہے۔ 1953 میں یہ گھڑی آدھی رات سے 2منٹ دوری پر تھی جبکہ 1991 میں یہ 17 منٹ دور کردی گئی تھی، یہ گھڑی 2012 سے آدھی رات سے 5 منٹ کے فاصلے پر تھی تاہم اب اسے2 منٹ آگے کردیا گیا ہے اور اب یہ 3 منٹ کی دوری پر رہ گئی ہے، آخری مرتبہ یہ 1983 میں اس پوزیشن پر آئی تھی جب امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ چل رہی تھی۔

گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینٹ بینیڈکٹ کا کہنا ہے موسمیاتی تبدیلی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ اور بڑی تعداد میں موجود ان کے اثاثوں کی وجہ سے انسانی تہذیب کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج محدود بنایا جاسکے تاکہ درجہ حرارت تیزی سے نہ بڑھے، گروپ کے ایک اور رکن رچرڈ سومرویل نے بتایا کہ 2014 اب تک کے ریکارڈ کے مطابق گرم ترین سال تھا۔

سائنسدانوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں پر خرچ کی جانے والی رقم میں ڈرامائی کمی کا بھی مطالبہ کیا۔بینیڈکٹ نے کہا کہ دنیا میں اس وقت 16300 نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں جو ان کے مطابق بہت زیادہ ہیں۔ روس اور امریکا کے پاس سرد جنگ کے مقابلے میں اب کافی کم نیوکلیئر ہتھیار ہیں تاہم انہیں ختم کرنے کا عمل تقریباً رک چکا ہے۔
مکمل تحریر >>

Sunday, January 25, 2015

سابق سعودی بادشاہ نے نواز شریف کو اپنی گھڑی دے کر بھائی کا درجہ دیا


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور سعودی شاہی خاندان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی اچھے رہے ہیں اور سابق سعودی بادشاہ فہد بن عبدالعزیز نے نواز شریف کو اپنا بھائی قرار دے رکھا تھا۔ حال ہی میں لکھے گئے کالم میں سینئر صحافی نذیر ناجی نے لکھا ہے کہ شاہ عبداللہ کے پیش رو، شاہ فہد نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو اپنا بھائی بنا رکھا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب نواز شریف سعودی عرب گئے، تو وہاں ان کا تاریخی خیر مقدم کیا گیا۔ سعودی عرب میں جلسہ عام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، لیکن نواز شریف کےلئے ساری پابندیاں ختم کردی گئیں اور انہوں نے جدہ میں، ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔


سعودی عرب کا سارا شاہی خاندان، پاکستان کے ایٹمی قوت بننے پر انتہائی خوش تھا۔ شاہ فہد نے نواز شریف کے اعزاز میں ایک خصوصی دعوت دی، جس میں انہوں نے نواز شریف کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے، اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اتار کے نواز شریف کو پیش کردی۔ اس پر نواز شریف بہت خوش تھے۔ شاہ فہد نے قبائلی انداز میں اس رشتے کو زندگی بھر نبھایا۔ جب نواز شریف کو انتہائی تکلیف دہ حالات میں قید کیا گیا، تو شاہ فہد اور پرنس عبداللہ دونوں ہی فکر مند ہوئے اور انہوں نے امریکہ میں اپنے سفیر شہزادہ بندربن سلطان کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ نواز شریف کی رہائی کے لئے کوشش کریں۔
مکمل تحریر >>

Friday, January 23, 2015

سستا اور فوری انصاف

کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن سے کوئی سبق حاصل کرے نہ کرے، لیکن پھر بھی وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک پر ایک عادل بادشاہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ بادشاہ عدل و انصاف کا دلدادہ تھا اور رعایا کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کا شوقین بھی۔ رعایا ان باتوں کی عادی نہ تھی لہٰذا اس کو اکثر بد ہضمی کی شکایت رہنے لگی لیکن بادشاہ وقت انصاف کرنے سے باز نہ آیا۔

اس کے عدل کا ایک قصہ بڑا مشہور ہے۔ ایک دن بادشاہ کو ایک پرانا دوست ملنے کے لیے آیا (جس کے ساتھ مل کر بادشاہ کبھی وارداتیں کیا کرتا تھا) اور اپنے میٹرک پاس بیٹے کے لیے نوکری کی درخواست کی۔ بادشاہ نے وزیرِ خاص (جس کی ڈگری بعد میں جعلی ثابت ہوئی ) کو حکم دیا کہ ’’بچے کو سول ہسپتال میں سرجن لگا دو‘‘۔

وزیرِ خاص ہکا بکا رہ گیا۔ ’’عالی جاہ! تو پھر پہلے سے موجود سرجن کا کیا کروں؟‘‘۔ حکم ہوا، ’’اسے تھانیدارلگا دو۔ ‘‘ وزیر نے پھر دہائی دی، ’’تھانیدار کو کہاں بھیجوں؟‘‘۔ ’’اسے جیل میں ڈال دو‘‘، بادشاہ نے زچ ہو کر کہا۔ درباری نورتن (جنہیں مخالفین کفن چور ٹولہ کہتے تھے) اس فیصلے پر عش عش کر اٹھے۔ بادشاہ اس مقولے کا قائل تھا کہ اختیارات سنبھال کر رکھنے کی چیز نہیں ہوتے بلکہ خوب استعمال کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اختیارات استعمال کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتا۔

ایک دن بادشاہ دربار لگائے بیٹھا تھا۔ ایک خوش الحان مغنیہ دربار میں نغمہ سرا تھی کہ اس دوران انصاف کا وقت ہو گیا۔ وزیر انصاف (جو تازہ تازہ جیل سے رہا ہو کر آیا تھا) نے بادشاہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ بادشاہ نے گانا عارضی طور پر روک دیا اور ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ ملزمان کا ریوڑ دربار میں پیش ہوا تو بادشاہ نے چھڑی کے اشارے سے انہیں دو حصوں میں بٹ جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ نصف ملزمان دائیں اور باقی بائیں طرف ہو کر کھڑے ہو گئے۔ بادشاہ نے تمام مقدمات کا مختصرمگر عقل شکن فیصلہ سنایا کہ ’’دائیں طرف والے سارے بری جبکہ بائیں طرف والے تمام ملزم سزائے موت‘‘۔ درباری بیربلوں اور ملا دو پیازوں نے اس سستے اور فوری انصاف پر داد کے ڈونگرے برسائے اور گانے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔

سبق: سستا اور فوری انصاف ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔
مکمل تحریر >>

چالاک کوا


کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن سے کوئی سبق حاصل کرے نہ کرے، لیکن پھر بھی وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا بہت پیاسا تھا۔ وہ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر اڑ رہا تھا۔ اس دوران اس کو کئی گھڑے نظر آئے مگر وہ گھڑے کا پانی پینے والا کوا نہیں تھا۔ وہ جدید دور کا کوا تھا، اس کو تو کسی ریفریجریٹر کی تلاش تھی۔ آخر اسے ایک فریج نظر آ گیا۔ وہ لپک کر اس کے پاس پہنچا مگر بجلی نہیں تھی اور ریفریجریٹر بند پڑا تھا۔

کوا بجلی گھرگیا اور بجلی ٹھیک کرنے کی درخواست دی۔ اس کی درخواست میز در میز رسوا ہوتی رہی لیکن کوے کی شنوائی نہ ہوئی۔ کوا بڑا چالاک تھا۔ وہ سارا دن منڈیروں پر بیٹھ کر انسانوں کے کرتوت دیکھتا تھا اور ان کی خصلتوں اور خباثتوں سے خوب واقف تھا۔ لہٰذا وہ اڑ کر گیا اور لال، نیلے نوٹ لا لا کر لائن مین کی جیب میں ڈالنے لگا، یہاں تک کہ اس کی جیب بھر گئی۔ لائن مین فوراً گیا اور بجلی ٹھیک کر دی۔ چالاک کوے نے فریج سے ٹھنڈا پانی پیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اڑ گیا۔

سبق: رشوت ہر کام کی ماں ہے۔
مکمل تحریر >>

جلد بازی کا انجام

کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن سے کوئی سبق حاصل کرے نہ کرے، لیکن پھر بھی وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔
 
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا۔ اس کے ساتھ حویلی میں ایک ملازم خاص (میراثی) بھی رہائش پذیر تھا۔ مالک اور نوکر ایک ایسی سست الوجود قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ٹھہرے ہوئے، پر سکون مزاج کی مالک تھی اور آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادی تھی۔

ایک دن چوہدری پکوڑے کھانے کے بعد اخبار سے بنے لفافے کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ اس نے خبر پڑھی کہ محکمہ زراعت نے جدید پیوند کاری کے ذریعے گندم کا ایسا بیج ایجاد کیا ہے جو دگنی فصل دیتا ہے۔ چوہدری نے ملازمین کو اکٹھا کر کے نئے بیج کے متعلق صلاح مشورہ شروع کیا۔ صلاح مشورے کی مختلف نشستیں جاری رہیں اورآخر ایک سال بعد گندم کا بیج مذکورہ بونے کا فیصلہ ہو گیا۔

فصل بونے کا موسم قریب آیا تو چوہدری نے ملازم خاص کو بیج لانے کے لیے شہر بھیجا۔ میراثی لاری پر طویل سفر طے کر کے شہر پہنچا تو تھکاوٹ سے چوُر تھا۔ وہ شہر میں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تاکہ چند دن آرام کر کے سفر کی تھکاوٹ دور کرے اور بیج خرید کر واپسی کا قصد کرے۔ میراثی کو شہر میں مختلف عزیزوں اور دوستوں کے ہاں آرام کرتے اور ’’بتیاں شتیاں‘‘ دیکھتے ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔

آخر جب دوبارہ فصل کاشت کرنے کا موسم آیا تو چوہدری کو میراثی کی یاد آئی۔ اس نے ایک اور نوکر کو شہر بھیجا تاکہ میراثی کو ڈھونڈ کر لائے۔ در اصل چوہدری کو روایت سے ہٹ کر فصل بونے کی جلدی پڑگئی تھی (جیسے کچھ لوگوں کوبجلی چوروں کے خلاف کارروائی کرنے کی جلدی ہوتی ہے)۔

نوکر نے بڑی مشکل سے میراثی کو شہر میں تلاش کیا اور چوہدری کا پیغام پہنچایا۔ میراثی جب بیج کی بوری کمر پر اٹھائے گاؤں پہنچا تو بارش کے باعث ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔ وہ حویلی کے گیٹ سے داخل ہوا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے بوری سمیت گر گیا۔ بوری پھٹ گئی اور سارا بیج کیچڑ میں بکھر گیا۔ چوہدری نے آگے بڑھ کر میراثی کو اٹھانا چاہا تو وہ کیچڑ میں لیٹے لیٹے ہاتھ کھڑا کر کے بولا ’’بس رہنے دیں چوہدری صاحب! آپ کی جلد بازیوں نے ہمیں ما رڈالا ہے‘‘۔ چوہدری پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور اسے اپنی غیر حکیمانہ عجلت پر سخت ندامت ہوئی۔

سبق: جلد بازی شیطان کا کام ہے، چاہے وہ فصل بونے میں کی جائے یا ڈیمز وغیرہ بنانے میں۔ دہشت گردی ختم کرنے کے سلسلے میں کی جائے یا لوڈ شیڈ نگ اور مہنگائی پر قابو پانے میں۔
مکمل تحریر >>

Thursday, January 22, 2015

آلو کے باریک چپس پہلی دفعہ کس نے بنائے


اگر آپ چپس کھائے بغیر رہ نہیں سکتے تو اس کا الزام" جارج کَرَم " نامی باورچی کو دیجیے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1853ء میں اتفاقاً آلو کے چپس ایجاد کیے تھے۔ ہوا یہ کہ امریکہ کی ریاست نیویارک کے شہرساراٹوگا سپرنگز میں مونز لیک ہاؤس نامی ایک ریستوران میں کام کرتے تھے۔ ان کا ایک گاہک تلے ہوئے آلو منگواتا تھا مگر ہمیشہ یہ کہہ کر واپس بھیج دیتا تھا کہ وہ زیادہ کرارے نہیں بلکہ ڈھیلے ڈھالے ہیں۔ ایک دن تنگ آ کر جارج نے آلوؤں کے جتنے پتلے قتلے بنانا ممکن تھا، اتنے پتلے قتلے بنا لیے۔اس کے بعد انہوں نے آلوؤں کے ان قتلوں کو تیل میں تل لیا۔ آلوؤں کے تلے ہوئے قتلوں پر جارج نے نمک چھڑک دیا۔ آلوؤں کے یہ قتلے نہ صرف ان کے نازک مزاج گاہک کو بہت پسند آئے بلکہ اس ریستوران میں آنے والے تمام گاہکوں نے بھی انہیں پسند کیا۔ رفتہ رفتہ پورے نیو یارک میں ’’ساراٹوگا چپس‘‘ مقبول ہو گئے۔ لوگ آلو کے چپس گھروں میں بنانے لگے۔
اب ایک مسئلہ یہ تھا کہ بیرلوں یا ڈبوں میں محفوظ کیے جانے والے چپس جلد باسی ہو کر خراب ہو جاتے تھے۔1920ء کے عشرے میں لاورا سکڈر نے ہوا بند تھیلی ایجاد کر لی۔ وہ تھیلی اس طرح بنائی جاتی کہ دو مومی کاغذوں پر گرم استری پھیر کر انہیں جوڑ لیا جاتا تھا۔ اب مختلف ذائقوں والے آلو کے چپس مختلف قسم کی پیکنگ میں فروخت کیے جاتے ہیں اور ہر عمر اور طبقے کے لوگ انہیں شوق سے کھاتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

سعودی فرماں رواشاہ عبداللہ علالت کے بعد انتقال کرگئے



ریاض (خصوصی رپورٹ ) سعودی فرماں رواشاہ عبداللہ علالت کے بعد انتقال کرگئے ہیں ، اُن کی عمر 91برس تھی ۔سرکاری حکام نے الرمین الشریفین شا ہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی موت کی تصدیق کردی ۔

شاہی خاندان کے ذرائع کے مطابق شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ عصر کے بعد ہوگی ۔

عرب میڈیا کے مطابق شاہ عبداللہ کو مہروں کی تکلیف بھی تھی جبکہ تین ہفتےقبل اُنہیں نمونیا کی شکایت پر ہسپتال داخل کرایاگیاتھا، دل ، گردوں اور پھیپھڑوں نے کام کرناچھوڑدیاتھا۔ اُنہوں نے سوگواران میں چار بیویاں ، سات بیٹے اور 15 بیٹیاں چھوڑی ہیں ، شاہ عبداللہ یگم اگست 1924ء کو پیدا ہوئے تھے ۔

عرب میڈیا کے مطابق شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد شہزادہ سلمان بن نئے فرماں روا بن گئے ہیں او ر وہ نماز عشاء کے بعد حلف اُٹھائیں گے جبکہ شہزادہ مقرن کو سعودی سلطنت کا ولی عہد مقررکردیاگیا۔

شاہ عبداللہ کو خواتین کے حقوق کے سلسلے میں بہترسربراہ مملکت تصور کیاجاتاہے ، اُنہوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے اور اولمپکس کھیلنے کا حق دیاتھا۔

یادرہے کہ وہ اٹھارہ ارب ڈالر کے ساتھ دنیا بھر میں چوتھے امیر ترین سربراہ مملکت تھے اور اُنہوں نے 2005ء میں شاہ فہد کے انتقال پر عہدہ سنبھالا تھا جبکہ وہ 1962ء میں سعودی نیشنل گارڈ کے کمانڈز منتخب ہوئے تھے ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, January 14, 2015

باتھ روم میں سانپ ،معمہ حل ہو گیا


نیویارک (نیوز ڈیسک) چند روز قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ”پی آر“ ایجنسی میں کام کرنے والی خاتون ” ہونی ویلز“ کمپنی کے باتھ روم میں گئی تو وہاں کا منظر دیکھ کر خوف سے قریباً اس کی جان ہی نکل گئی۔ اس نے دیکھا کہ ٹوائلٹ سیٹ کے ساتھ 5 فٹ لمبا ہٹا کٹا ”بوا کنٹرکٹر“ سانپ موجود تھا۔

ہونی نے الٹے پیر واپس دوڑ لگا دی اور فیس بک پر بھی یہ واقعہ سنا ڈالا۔ بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے اخبارات نے بھی یہ خبر شائع کر دی اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یہ سانپ آخر ٹوائلٹ میں پہنچا کس طرح۔ عمارت کے مکینوں کا بھی کہنا تھا کہ اب انہیں باتھ روم استعمال کرنے سے ہی ڈر لگ رہا ہے کہیں اور بھی سانپ تو عمارت میں موجود نہیں تاہم اب یہ معمہ حل ہو گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ سانپ کا مالک اسی عمارت میں دو منزل اوپر رہتا ہے۔ سانپ کا ٹینک اس نے کھڑکی کے نزدیک رکھا تھا اور جب اس کو غائب پایا تو اس نے سمجھا کہ شائد وہ کھڑکی سے نکل کر باہر چلا گیا ہے۔ اب اس واقعہ پر ہنگامہ ہوا تو مالک بھی اپنا سانپ واپس لینے پہنچ گیا تاہم اب عمارت کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ ضابطے میں تبدیلی کرنے جا رہا ہے جس کے بعد عمارت میں خطرناک جانوروں کو پال نہیں سکیں گے۔
مکمل تحریر >>

ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف اغواءکیس کا پہلا چالان مکمل ، کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے


اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ممبئی حملہ کیس میں نامزد ملزم ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف اغواءکیس کا پہلا عبوری چالان مکمل کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عدالتی احکامات کے بعد ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف اغواءکیس کا پہلا عبوری چالان مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اس عبوری چالان کو پراسیکیوشن برانچ کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔

اس کاروائی کے بعد پراسیکیوشن برانچ اس چالان کا جائزہ لے گی جس کے بعد اس چالان کو عدالت بھجوایا جائے گا۔ا س چالان میں ذکی الرحمان لکھوی کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں۔
مکمل تحریر >>

Sunday, January 11, 2015

وہ انوکھا قبیلہ جہاں شوہر کی موت پر بیگم کے اعضاء کاٹ دیے جاتے ہیں



پورٹ موریسبی (نیوز ڈیسک) براعظم آسٹریلیا سے پرے بحرالکاہل کے جزائر پر مشتمل ملک پاپوا گنی میں دانی اور لانی نامی جنگلی قبائل پائے جاتے ہیں۔ گھنے جنگلوں میں رہنے والے ان قبائل کے متعلق جدید دنیا کو بیسویں صدی میں علم ہوا لیکن جب ان کے رسوم و رواج کا علم ہوا تو ماہرین بشریات دنگ رہ گئے۔


یہاں جب کسی مرد کی موت ہوتی ہے تو اس کے گھر کی خواتین سوگ کے اظہار کیلئے اپنی انگلیوں کا کچھ حصہ کاٹ لیتی ہیں۔ کٹے ہوئے حصوں کو جلا کر راکھ بنایا جاتا ہے اور پھر اس راکھ کو ایک دور دراز مقام پر دبا دیا جاتا ہے۔ ان لوگوں نے خواتین کی انگلیاں کاٹنے کیلئے مخصوص تیز دھار آلات بھی تیار کر رکھے ہیں۔ ان خواتین کی بدقسمتی دیکھئے کہ انہیں اپنے پیاروں کی جدائی کے ساتھ اپنا جسم کاٹنے کا درد بھی سہنا پڑتا ہے جبکہ مرد اپنے لئے یہ بالکل بھی ضروری نہیں سمجھتے۔
یہ لوگ آدم خوری کے بھی شوقین ہیں اور خصوصاً جنگوں میں پکڑے گئے دشمن کے قیدیوں کوبھون کر کھاتے ہیں اور اس موقع پر پورا قبیلہ جشن مناتا ہے۔ یہاں عورتیں برہنہ رہتی ہیں جبکہ مرد اپنے اعضاءکو سوکھی توری کے خول میں ڈھانپ کر رکھتے ہیں۔ اس خول کو کلکتہ کہا جاتا ہے۔

مکمل تحریر >>

اپنےمردہ رشتہ داروں کو مصالحہ لگاکر کھانے ، لٹکانے والا قبیلہ

ورٹ موریسبے (نیوز ڈیسک) بر اعظم آسٹریلیا کے دو رافتادہ ملک پاپوانیوگنی میں لوگ اپنے مردہ رشتہ داروں کے ساتھ جو بھیانک سلوک کرتے ہیں وہ شاید ہی آپ نے کبھی دیکھا یا سنا ہو۔ انگا قبیلے کے لوگ مرنے والے لوگوں کے جسم سے چربی نکال کر اس سے کھانے پکاتے ہیں اور لاشوں کو مصالحے لگانے کے بعد بھون کر نمایاں مقامات پر لٹکا دیتے ہیں۔

پاپوانیوگنی کے علاقے موروب میں جب کوئی شخص مرجاتا ہے تو اس کے گھر والے اسے بھوننے کا عمل شروع کردیتے ہیں۔ پہلے تجربہ کار لوگ لاش کے پاﺅں، گھٹنوں اور کہنیوں میں تیز دھار آلے سے چیر الگاتے ہیں تاکہ جس کی چربی ٹپک ٹپک کر باہر نکل آئے، اس چربی کو زندگی اور صحت بخشنے والی طاقت کا حامل سمجھا جاتا ہے اور لوگ اسے جسم پر ملنے کے علاوہ اس میں کھانا پکا کر بھی کھاتے ہیں۔ چربی نکالنے کے بعد لاش کی آنکھوں، کانوں اور منہ سمیت جسم کے تمام سوراخوں کو سی دیا جاتا ہے تاکہ ہوا جسم میں داخل نہ ہو۔ لاش کے پیروں کے تلوے، ہتھیلیوں کی جلد اور زبان کاٹ کر علیحدہ کرلی جاتی ہے اور یہ قریبی ترین عزیز کو پیش کردی جاتی ہے۔

اس کے بعد ایک گڑھے میں آگ جلائی جاتی ہے اور لاش کو اس کے اوپر دھویں میں لٹکا دیا جاتا ہے۔ دھویں اور حرارت کے عمل سے لاش بھن جاتی ہے۔ اس کے بعد لاش کے اوپر چکنی مٹی اور گیرو کا لیپ کیا جاتا ہے اور اسے بلندی پر بانسوں کا گھونسلا بنا کر اس میں بٹھا دیا جاتا ہے۔ سارے علاقے میں لاشیں گھونسلوں میں بیٹھی نظر آتی ہیں۔

ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ یہ لاشیں ان کی نگرانی کرتی ہیں اور انہیں بلاﺅں سے محفوظ رکھتی ہیں، موروب ہائی لینڈز کے علاقے میں کئی لاشیں 200 سال سے اپنی نسلوں کی نگرانی کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں۔





مکمل تحریر >>

Saturday, January 10, 2015

برائلر مرغی کینسر کا سبب،امریکی ادارہ صحت کے خبردار کردیا




نیویارک (نیوز ڈیسک) گزشتہ کئی سالوں سے یہ خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ بازار میں بیچے جانے والے برائلر مرغی کے گوشت میں کینسر پیدا کرنے والی خطرناک دھات آرسینک پائی جاتی ہے اور اب آخر کار امریکی ادارہ صحت فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے تصدیق کر دی ہے کہ بازار میں دستیاب چکن میں آرسینک پائی جاتی ہے۔

ماہرین صحت اس بات پر متفق ہیں کہ آرسینک کینسر پیدا کرتی ہے اور ذہنی بیماریوں کو بھی جنم دیتی ہے۔ یونیورسٹی آف ساﺅتھ کیرولینا کی ایک تحقیق کے مطابق آرسینک پارے سے چار گنا زیادہ زہریلی ہے اور کینسر کے علاوہ حاملہ خواتین کے پیٹ میں موجود بچے میں خوفناک ذہنی بیماریاں پیدا کر سکتی ہے۔
یہ خطرناک دھات مرغیوں کی خوراک میں خصوصی طور پر شامل کی جاتی ہے تاکہ ان کا وزن تیزی سے بڑھایا جا سکے اور گوشت دیکھنے میں اور خصوصاً رنگت کے لحاظ سے صحت مند نظر آئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بازار میں دستیاب چکن میں سے 70 فیصد میں آرسینک پائی جاتی ہے جبکہ ٹیسٹ کرنے پر 50 فیصد سے زائد مرغیوں کے جگر میں آرسینک کا ذخیرہ پایا گیا۔ ممتاز اخبار ”وال سٹریٹ جرنل“ میں بھی ایک تحقیق کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ برائلر مرغیوں کے جگر میں غیر نامیاتی آرسینک کی مقدار خاصی زیادہ پائی گئی ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ برائلر مرغیوں اور گوشت کا کاروبار کرنے والے افراد اور ادارے عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھے ہوئے ہیں اور بعض مفاد پرست ماہرین صحت بھی یہ کہتے ہیں کہ آرسینک کے باوجود برائلر گوشت کا استعمال صحت کیلئے خطرہ نہیں ہے۔
مکمل تحریر >>

کھانا کھانے کے فوراً بعد پانی کیو ں نہیں پینا چاہئے؟

نئی دہلی(قدرت نیوز) کھانے کے بعد پانی پینا نقصان دہ ہوتا ہے. کھانے کے بعد پانی پینا زہر کی طرح ہے. پانی فوری طور پینے سے اس کا اثر انہضام فعل پر پڑتا ہے. ہم جو کھانا کھاتے ہیں وہ ناف کے بايے حصہ میں واقع saucesمیں جا کر پچتا ہے. saucesایک گھنٹے تک کھانا کھانے کے بعد غالب رہتی ہے. معدہ میں گرمی کی وجہ سے ہی کھانا ہضم ہوتا ہے۔اگر ہم فوری طور پانی پی لیتے ہیں تو کھانا ہضم ہونے میں کافی دقت ہوتی ہے۔ اس لئے کھانے اور پانی پینے میں یہ فرق ہے.کھانا کھانے کے تقریبا پون گھنٹے یا ایک گھنٹے کے بعد پانی پینا مناسب ہوتا ہے.
مکمل تحریر >>

ایم کیو ایم نے کل ملک بھر میں یوم سوگ کا اعلان کر دیا


 کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) متحدہ قومی موومنٹ نے کارکنوں کے ماورا عدالت قتل اور ملک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کیخلاف کل یوم سوگ منانے کا اعلان کر دیا۔ ایم کیو ایم کی طرف سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سوگ پورے ملک میں منایا جا ئے گا اور تمام کارکن سیاہ پٹیاں باندھنے کے علاوہ فاتحہ خوانی کی تقاریب میں بھی شریک ہوں گے۔
مکمل تحریر >>

Thursday, January 8, 2015

بھارتی میڈیا کے انتہا پسندانہ سوالات پر عامر خان کے انتہائی اعلیٰ جوابات



ممبئی(نیوزڈیسک)عامر خان کی فلم پی - کے نے جہاں دنیا بھر میں دھوم مچا رکھی ہے وہیں اس فلم کی وجہ سے انتہاءپسند ہندﺅوں کے دل پر سانپ چل رہے ہیں اور وہ بہانے بہانے سے عامر خان کو تنقید کا نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ حال ہی میں بھارتی میڈیا نے عامر خان سے فلم کے متعلق سے کئی ایسے چبھتے ہوئے سوال کئے لیکن انہوں نے تمام سوالات کا جواب نہایت دانشمندی سے دیا اور تمام میڈیا کو لاجوا ب کردیا۔
ایک رپورٹر نے ان سے سوال کیا کہ آپ نے فلم میں مندر سے پیسے چرائے لیکن کسی مسجد یا درگاہ سے چادر کیوں نہیں چرائی تو ان کا جواب تھا کہ لوگوں کو زندہ رہنے کے لئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے چادر کی نہیں۔
ایک اور رپورٹر نے سوال کیا کہ انہوں نے ہندﺅوں کے خدا ’شیوا‘ کا مذاق اڑایا ہے لیکن کسی بھی بڑی مسلمان شخصیت کا مذاق نہیں بنایا تو ان کا جواب تھا کہ انہوں نے کسی کے خدا کا مذاق نہیں اڑایا اور جہاں تک مسلمانوں کی بڑی شخصیات کا تعلق ہے تو ان کی کوئی تصویر یا بت نہیں اس لئے ان کے بارے میں ایسا نہیں کیا۔
ایک رپورٹر نے یہ سوال دوبارہ گھما کر پوچھا کہ انہوں نے مسلمانوں کے خدا کے بارے میں ایسا رویہ کیوں نہیں اپنایا جیسا انہوں نے ہندﺅوں کے خداﺅں اور دیویوں کے ساتھ کیا تو ان کا جواب بہت مسحور کن تھاکہ اللہ تعالیٰ کی کوئی تصویر یا پوسٹر نہیں ہے لہذاایسے نہیں ہوسکتا۔


ایک رپورٹر نے سوال داغا کہ فلم میں لڑکے کو مسلمان اور لڑکی کو ہندو دکھایا گیا ہے اور آخر میں ثابت کیا گیا ہے کہ پاکستانی یا مسلمان لڑکے بہت دیانت دار ہوتے ہیں،کہیں یہ کسی جہاد کا حصہ تو نہیں۔ اس بات پر عامر خان کا جواب تھا کہ کئی فلموں میں لڑکوں کو ہندو اور لڑکیوں کو مسلمان دکھایا جاتا ہے لیکن تب ہم میں سے کوئی اعتراض نہیں کرتا اسلئے اس فلم پر بھی کسی کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔جہاں تک فلم کے آخر میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کی ایمانداری کی بات ہے تو وہ ایسے نہیں ہیں جیسا ہم سوچتے ہیں بلکہ وہ بہت ایماندار اور مخلص ہیں اور یہی آخر میں دکھایا گیا۔


ایک رپورٹر نے پوچھا کہ آپ نے فلم میں ہندو سادھوں کو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن کسی بھی مسلمان عالم یا ولی کے ساتھ ایسا رویہ نہیں اپنایاتو عامر خان نے جواب دیا کہ کوئی بھی مسلم عالم اپنے آپ کو نبی یا مسیحا نہیں کہتا اور نہ ہی یہ کہتا ہے کہ اس کا اللہ تعالیٰ سے براہ راست رابطہ ہے ۔مسلم معاشرے میں کوئی جتنا مرضی بڑا عالم بن جائے وہ صرف اور صرف اللہ کی کتاب قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کرتا ہے۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, January 6, 2015

جلادوں کی کمی، مجرموں کو پھانسی دینے کیلئے جیل وارڈنز کی ٹریننگ شروع



فیصل آباد (ویب ڈیسک) جلادوں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے جیل وارڈنز کو پھانسی دینے کی ٹریننگ شرع کردی گئی ہے۔ فیصل آبادجیل ذرائع کے مطابق ابتدائی طور پر فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل کے 17 وارڈنز کو مجرموںکو پھانسی پر لٹکانے اور دیگر لوازمات کو مکمل کرنے کیلئے ٹریننگ دی گئی ہے کیونکہ ملک بھر میں مجرموں کو پھانسی دینے کیلئے جلاد کم تھے اور انہی گنتی کے چند جلادوں کو مختلف جیلوں میں مجرموں کو پھانسی سے ایک روز قبل بلایا جاتا تھا۔


بعض اوقات اچانک جلاد کی مصروفیات یا بیمار ہونے پر مسائل کھڑے ہوجاتے تھے اور جیل حکام کو مجرموں کے دوبارہ بلیک وارنٹ حاصل کرنا پڑتے تھے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ فیصل آباد ڈسٹرکٹ جیل میں جن 6 دہشت گردوں میں سے دو مجرموں کو پھانسی وارڈنز نے دی تھی۔
مکمل تحریر >>

ملتان سینٹرل جیل کی سکیورٹی فوج کے سپرد، دو مجرموں کو پھانسی صبح ہو گی


ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) سینٹرل جیل میں مجرموں کو پھانسی کی سزا دینے کے پیش نظر سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے اور پاک فوج کے جوانوں نے بھی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق دو مجرموںکو کل صبح 6بجےتختہ دار پر لٹکایا جانا ہے اور اس کیلئے انہیں کال کوٹھری بھی منتقل کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے آج صبح ہی دونوں مجرموں کی ان کے اہل خانہ کیساتھ آخری ملاقات بھی کروائی گئی تھی۔
مکمل تحریر >>

Monday, January 5, 2015

میلاد النبی کی تقریبات 'بدعت' ہیں:کہنے پر مفتی اعظم سعودی عرب کو سنیوں نے مناظرہ کے لیے کہ دیا


مکمل تحریر >>

پاکستان حافظ سعید اور مولانا اظہر کو لگام ڈالے،بھارت کاامریکہ سے مطالبہ



امریکی وزیر خارجہ جان کیری رواں ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ان کا یہ دورہ اس بات کا سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے بعد ہوگا ،جس میںتصدیق کی گئی ہے کہ حکومت پاکستان لشکرطےبہ اور جیش محمد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔اس سرٹیفکیٹ کے جاری ہونے پر بھارتی حکام بہت زیادہ ناراض ہیں اورامریکی وزیر خارجہ جو 11 جنوری کو بھارت کا دورہ کرنے والے ہیں ،ان کو سخت سوالات اور تنقید کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ۔اس دورہ میںوہ گاندھی نگر میںہونے والی ”وائبرینٹ گجرات سمٹ “میں شرکت کریں گے۔اس کے فوراً بعد 24جنوری کو امریکی صدر باراک اوباما بھی بھارت کا دورہ کریں گے ،اور بھارت کے یوم جمہوریہ تقریب کے مہمان خصوصی ہوں گے۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے اعلامیہ کے مطابق رواں ماہ کے آخر میں امریکی وزیر خارجہ اسلام آباد میں ہونے والے” سٹریٹیجک ڈائیلاگ “ میں امریکی وفد کی سربراہی بھی کریں گے ۔ بھارتی اخبار”دی ہندو“میں چھپنے والی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس حقیقت کے باوجود کہ چندسال قبل کالعدم قرار دی گئیں تنظیمیں لشکرطیبہ اور جیش محمددونوںدوبارہ سرگرم ہوچکی ہیںاور ان کے سربراہ حافظ سعید اور مولانا اظہردونوں گزشتہ سال کئی جلسوں اور پبلک ریلیوں میں کھلے عام شرکت کر تے رہے ہیں،لیکن دوسری طرف امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے حکومت پاکستان کو سرٹیفکیٹ جاری کردیا ،جس کے مطابق اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ حکومت پاکستان القاعدہ ،طالبان اور ان سے منسلک دہشت گرد گروپ جیسے کہ لشکر طےبہ اور جیش محمدکو پاکستانی حدود میں کسی قسم کی کارروائیاں کرنے کی قطعی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس سرٹیفکیٹ کی اہمیت یہ ہے کہ اس کے جاری ہونے سے بعد ہی پاکستان کو کیری لوگر بل کے تحت ملنے والی امداد کی سالانہ قسط جاری کی جاتی ہے۔پاکستان میں امریکہ کے سفیر رچرڈ اولسن کے مطابق اس سال ملنے والی 532 ملین ڈالر کی قسط جلد ہی پاکستان کو دے دی جائے گی۔نئی دہلی میںبھارتی حکام اس بات پر ناراض ہیں کہ سرٹیفکیٹ جاری کرنے سے پہلے امریکی وزارت خارجہ نے قواعد وضوابط کا خیال نہیں رکھا ۔اور حقائق کے برعکس پاکستان کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کر دیا گیا ہے۔دریں اثناءذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ بھارتی حکومت نے حالیہ دنوں میں اسلام آباد میںاپنے سفارت خانہ میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے نئے نوجوان افسران تعینات کئے ہیں جن کا تعلق پاکستان مخالف کٹر ہندوجماعتوں سے ہے اور وہ اسلام آباد کی سفارتی محفلوں میں اب کھلے عام پاکستان مخالف باتیں کرتے نظر آتے ہےں۔ان کا برملا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کسی صورت بھی پاکستان سے مذاکرات نہیں کرے گی اور پاکستان کو ہر عمل کا بھرپورجواب دینے کی پالیسی پر عملدرآمد ہوگا۔
مکمل تحریر >>

Ads

Google Translator

Blogger Tips And Tricks|Latest Tips For BloggersFree BacklinksBlogger Tips And Tricks
English French German Spain Italian Dutch Russian Portuguese Japanese Korean Arabic Chinese Simplified
Powered By google

BidVertiser