Wednesday, December 31, 2014

موٹاپے کا حیرت انگیز علاج

جس طرح کینسر جدید دور کا ایک خطرناک اور مہلک مرض ہے۔ اسی طرح موٹاپا بھی اس دور کا ایک لا علاج اور اگر لاعلاج نہیں تو عسیر العلاج مرض ضروری ہے۔ اس ضمن میں یورپ کے سلمنگ سنٹر جو کہ اب پاکستان کے تمام شہروں میں رواج پا چکے ہیں یہ سنٹر ورزشوں کے ساتھ ساتھ کھانے کی ادویات بھی استعمال کراتے ہیں جس سے انسان موٹاپے میں کم لیکن امراض کا گڑھ بن جاتا ہے۔ لیکن جب تک یہ طریقہ استعمال کرتا ہے تندرست رہتا ہے اور جب یہ طریقہ چھوڑ دیتا ہے بیماری پھر غالب ہو جاتی ہے۔

مشاہداتی زندگی میں ایسے مریض کو ایک نہیں ہزاروں کی تعداد میں دیکھنے کا موقع ملا ہے جو بہت زیادہ فربہ اور موٹے تھے۔ علاج کے طور پر ورزش اور کچھ کھانے کی ادویات استعمال کیں اور اس بات سے وہ خود حیران ہوئے اور ان کو دیکھنے والے بھی کہ جب انہوں نے وہ دوا استعمال کی تو لاجواب فائدہ نمودار ہوا لیکن کچھ عرصے بعد واپس اسی کیفیت میں آگئے۔ ذیل میں ایک ایسا کم خرچ اور سہل الحصول اور بالا نشین نسخہ پیش ہے امید ہے کہ آپ اس کی قدر فرمائیں گے۔

نسخہ
لاکھ عمدہ 50 گرام
زیرہ سیاہ 50 گرام
کلونجی 50 گرام

تمام ادویات کو کوٹ پیس کر سفوف تیار کریں اور بڑے سائز کے کیپسول بھرلیں دو سے ایک کیپسول ایک وقت میں پانی کے ہمراہ کھانے سے قبل دن میں دو بار استعمال کریں۔ انشاءاللہ یقینی فوائد نمودار ہوں گے ایک بہت ہی زیادہ موٹی خاتون نے جو کہ اب چلنے پھرنے سے بھی عاجز آچکی تھی۔ جب یہی نسخہ استعمال کیا چونکہ ہر علاج سے تنگ تھی اور لئے یہ نسخہ مستقل استعمال کیا اور استعمال کرنے کے بعد جب اپنا وزن کیا تو سترہ پاؤنڈ وزن صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے کے دوران کم ہوا۔ ۔ ۔ ۔ اور ساتھ “تین چیزیں“ استعمال نہ کی جائے۔ (کلونجی کے کرشمات)

یعنی چاول، چینی اور چکنائی یہ وہ چیزیں ہیں جو انسان کو فربہ اور غیر ضروری موٹاپا دیتی ہیں۔
مکمل تحریر >>

پاکستان: دنیا کی سب سے بھاری مچھلی دریافت

 
صوبہ بلوچستان کے ضلع اورماڑا کے ایک سمندر سے ماہی گیروں نے ایسی مچھلی دریافت کی ہے جو اس سے قبل کبھی پاکستانی سمندروں میں نہیں دیکھی گئی- یہ مچھلی ماہی گیروں کی معمول کی سرگرمیوں کے دوران دریافت ہوئی
اس سن فش نامی مچھلی کا شمار دنیا کی سب سے بھاری مچھلیوں میں ہوتا ہے- اس مچھلی کی لمبائی 1.8 میٹر تھی جبکہ اس کا وزن تقریباً 450 کلو گرام تھا۔

ماہی گیروں نے مچھلی کے جال میں آنے کے 20 منٹ بعد ہی اس نایاب نسل کی افزائش کے لیے اسے واپس سمندر کے حوالے کر دیا۔۔۔
مکمل تحریر >>

کیا آپ کو معلوم ہے انٹرنیٹ کو 14لوگ 7چابیوں کے ذریعے کنٹرول کرتے ہیں


سان فرانسسکو (نیوز ڈیسک) دنیا کے تقریباً 200 ممالک میں پھیلے انٹرنیٹ کو روزانہ اربوں انسان استعمال کرتے ہیں لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اس محیر العقول نیٹ ورک کا اصل کنٹرول کس کے پاس ہے۔ اخبار ”گارڈین“ کے صحافی جیمز بال کے ایک مضمون میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ کو بھی کسی عام اثاثے کی طرح چابیوں سے محفوظ بنایا گیا ہے اور اس کا کنٹرول انہی ہاتھوں میں ہے جن میں اس کی چابیاں ہیں۔ یہ چابیاں کس کے پاس ہیں؟ دراصل ان کی ملکیت ایک ادارے کے پاس ہے جس کا نام ”انٹرنیٹ کارپوریشن فار اسائنڈ نیمز (ICANN) “ہے اور ادارے نے انٹرنیٹ کی سات چابیاں سات مختلف افراد کے حوالے کر رکھی ہیں۔ مزید سات افراد ان کے بیک اپ کے طور پر متعین کئے گئے ہیں اور یوں دنیا میں صرف 14 لوگ ایسے ہیں جن کے ہاتھ میں اربوں لوگوں کے زیر استعمال انٹرنیٹ ہے۔ اس ادارے کے ذمہ ویب سائٹوں کے ہندسی ایڈریس کو لفظی ایڈریس سے منسلک کرکے محفوظ ترین کمپیوٹروں پر حفاظت سے رکھنا ہے۔ دنیا بھر کی ویب سائٹوں کے ایڈریس سات مختلف جگہوں پر محفوظ کئے گئے ہیں اور ہر جگہ کی چابی ایک منتخب فرد کے پاس ہے۔ یہ افراد ہر سال ایک انتہائی خفیہ مقام پر ملاقات کرکے پاس ورڈ تبدیل کرتے ہیں اور پھر ساتوں کمپیوٹروں کےلئے سال بھر نئے پاس ورڈ استعمال ہوتے ہیں۔ خصوصی مقام پر کئی تالوں کے اندر رکھے گئے کمپیوٹروں کو خفیہ چابیوں کے بغیر کھولنا ممکن نہیں۔ انٹرنیٹ کو چابیوں کے ساتھ محفوظ بنانے کا عمل 2010ءسے جاری ہے

مکمل تحریر >>

2025ء کی دنیا کی ایک جھلک سائنس نے دکھا دی



نیویارک (نیوز ڈیسک) پچھلی چند دہائیوں میں سائنس نے جس رفتار سے ترقی کی ہے وہ حیرت انگیز ہے اورامیدکی جاسکتی ہے کہ آنے والی دہائی میں یہ رفتار اس قدر تیز ہوگی کہ 2025ءمیں دنیا کی شکل بالکل تبدیل ہوچکی ہوگی۔ سائنسدانوں نے آج سے 10سال بعد کی دنیا کا نقشہ کچھ یوں پیش کیا ہے۔ -1 کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ 2025ءتک نیورو سائنس اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی اس قدر ترقی کرجائے گی کہ انسانی دماغ کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جائے گی اور قدرتی اور مصنوعی اعضاءکے امتزاج والے انسان وجود میں آجائیں گے جنہیں ہیومن 2.2 اور ہیومن 3.0 کا نام دیا جارہا ہے۔ -2 آنے والے 10 سال میں دنیا کے تقریباً 25 ممالک تیز رفتار ترین ملک میں مدغم ہوجائیں گے اور دنیا پر بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کا غلبہ ہوگا۔ -3 دنیا کا مالی نظام موجود کرنسی کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کی بجائے ڈیجیٹل کرنسی استعمال کرے گا اور عام افراد ملکی کی بجائے علاقائی اور بین الاقوامی سطح تک مالی نظام سے منسلک ہوجائیں گے۔ -4 دماغ کو انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کی ٹیکنالوجی حقیقی شکل اختیار کرلے گی اور لوگ اپنی یادداشت اور دماغی ساخت کو انٹرنیٹ پر محفوظ کرسکیں گے تاکہ جسمانی موت کے بعد بھی زندہ رہ سکیں۔ -5 حقیقی زندگی اور ورچوئل رئیلٹی گڈمڈ ہوجائیں گی، مثلاً آپ کسی ریسٹورنٹ میں جانے سے پہلے ان کے کھانوں کی خوشبو اور ذائقے کو اپنے کمپیوٹر کے ذریعے محسوس کرسکیں گے۔ -6 روبوٹ عام زندگی کا حصہ بناجائیں گے اور ان کا استعمال سرجری، سیکیورٹی اور کاروبار میں کیا جائے گا جبکہ ڈرائیور کے بغیر چلنے والی کاریں بھی عام ہوجائیں گی۔ -7 کمپیوٹروں کی مصنوعی ذہانت اس قدر زیادہ ہوجائے گی کہ وہ ہماری پسند ناپسند سے آگاہ ہوجائیں گے اور اس کے مطابق میوزک، فلمیں اور معلومات خود ہی اکٹھی کرتے رہیں گے۔ -8 دس سال بعد انٹرنیٹ کی شکل بھی بدل چکی ہوگی اور کمپیوٹروں اور موبائل فونز کے علاوہ گاڑیاں، ٹی وی، فریج، سٹریٹ لائٹیں غرضیکہ ہر طرح کی مشینیں انٹرنیٹ سے منسلک ہوچکی ہوں گی۔
مکمل تحریر >>

بھارتی فوج کی ورکنگ باﺅنڈری پر فائرنگ ،پاک فوج کی جوابی فائرنگ پر بھارتی بندوقیں خاموش


لاہور(مانیڑنگ ڈیسک)بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ورکنگ باﺅنڈری پر ایک بار پھر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی ہے ۔رینجرز ذرائع کے مطابق بھارتی فوج کی جانب ایک بار پھر شکر گڑھ سیکٹر پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کے جواب میں پاکستان رینجرز نے جوابی فائرنگ کی تو بھارتی بندوقیں خاموش ہو گئیں ۔ورکنگ باﺅنڈری پر بھارت کی جانب سے گزشتہ رات سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے اور پاکستانی رینجرز بھی بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے رہی ہے ۔
مکمل تحریر >>

Tuesday, December 30, 2014

شہزادیاں

شہزادی تو شہزادی ہی ہوتی ہے، اب وہ محل میں پیدا ہو یا جھونپڑی میں۔ حسن محلوں کا محتاج ہر گز نہیں ورنہ تو حسین لڑکیاں صرف محلوں میں ہی پیدا ہوا کرتیں۔ شہزادی بھی پیدا ہو گئی، ایک معمولی گھرانے میں۔ اُس پورے محلے والوں نے اپنی زندگیوں کی قسم کھا کر کہا کہ اتنی حسین بچی زندگی بھر میں کبھی کہیں دیکھی نہ تھی، نہ جھونپڑیوں میں، نہ محلوں میں۔

جوان ہوتی گئی تو مانو کہ حسن کو چار چاند لگتے چلے گئے، اور ہر گزرتے برس کے ساتھ یہ چار چاند پہلے سے بھی زیادہ غضب ڈھاتے جا رہے تھے۔ گھر والوں کا بس نہ چلتا تھا کہ اُسے دُنیا کی نظروں سے کہیں دور لے جائیں اور صرف پھولوں اور کلیوں کے بیچ اُس کی پرورش کریں، پر کہاں خواہشیں اور کہاں زمانے کے سرد و گرم۔ حقیقت اُن کا منہ چڑاتی رہی-

سفید رنگت، سفید ایال، اور سفید برف جیسی دُم، طاقتور تیز رفتار براق گھوڑا کان کھڑے کئے بگٹٹ بھاگتا ہوا، اور سوار مشاقی سے اُسے رانوں میں دبائے عبا کی اُڑان سے بے خبر صرف اور صرف اُسی پر نظریں جمائے قریب آتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی گھوڑا شہزادی کے قریب پہنچا سوار نے نیچے جھکتے ہوئے ایک ہاتھ اُس کی کمر میں ڈال دیا اور اُسے اُچک لیا، پھر بڑی احتیاط کے ساتھ گھوڑے پر اپنے آگے بٹھا لیا۔

ماں کے جھنجھوڑنے پر ہی وہ اُٹھی تھی اور بُرا سا منہ بنا کر انگڑائی لی تھی۔ ماں نے ایک دم اُسے اوڑھنی سے جیسے لپیٹ ہی دیا، شائد وہ خود کو ایسا کر کے اُس حقیقت سے آنکھیں چُرانا چاہتی تھی کہ بیٹی اب جوانی کی اُس حد میں داخل ہو چُکی ہے جہاں اب قابو سے باہر ہوئی کہ تب ہوئی۔

’’ ماں چھُٹی والے دن تو سو لینے دیا کرو‘‘ بیزاری سے اُٹھتے ہوئے شہزادی نے کہا تھا، اتنا اچھا سپنا جو دیکھ رہی تھی۔

’’ چلو جلدی سے کوٹھی میں جاؤ، اُن کے مہمان آنے والے ہیں ایک دو دن میں، کُچھ ہاتھ بٹاؤ، کتنے احسان ہیں ہم پر مسز شیرازی کے‘‘۔ اور یہ بات تھی بھی سچ کیونکہ شہزادی کے ابا کے ایک حادثہ کا شکار ہو جانے کے بعد وہ مسز شیرازی ہی تھیں جنہوں نے اس بے آسرا خاندان کو سہارا دیا تھا اور کوٹھی کے پیچھے بنے کوارٹر میں جو پائیں باغ کے کونے پر واقع تھا، وہاں ماں بیٹی اور نانی کو رہنے کی اجازت دے دی تھی کہ اب ان کے گھر میں کوئی بھی مرد زندہ نہیں بچا تھا۔

شہزادی نے جلدی جلدی منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور کوٹھی کی جانب قدم بڑھائے، شہلا جو کہ مسز شیرازی کی بیٹی تھی اُسے دیکھتے ہی خوش ہو گئی، دیکھو شہزادی میں کیسی لگ رہی ہوں؟ عام شکل پر بھی عمدہ لباس زیب تن کر لیا جائے تو لڑکیاں شہزادی ہی لگتی ہیں۔ ’’ بالکُل شاہ ذادی لگ رہی ہیں‘‘ شہزادی نے کہا تھا۔ پھر شہلا نے ایک کے بعد ایک کوئی چھ سات جوڑے باری باری پہن کر اُسے دکھائے تھے اور پھر دو تین گھنٹوں میں ایک جوڑے پر اتفاق ہو ہی گیا جس میں شہلا زیادہ حسین لگ رہی تھی۔ کسی کام میں ہاتھ بٹانے کی نوبت ہی نہ آئی تھی کہ آتے ساتھ ہی شہلا نے گھیر لیا تھا۔ مسز شیرازی نے خاموشی سے سارے کام خدامہ سے کروا لیئے تھے۔

نانی کے ساتھ اُن کا ہاتھ پکڑ کر بازار میں چلتے وہ خوابوں کا شہزادہ اُسے نظر آ ہی گیا، وہی سفید براق گھوڑا اور اُس پر بیٹھا کڑیل جوان جو کسی بھی شاہ ذادے سے کم نہیں لگ رہا تھا، سیاہ گھنگھریالے، چھوٹے چھوٹے بال، کثرتی جسم مانو جس میں بجلیاں بھری ہوتی ہیں، صرف لباس پولیس کا پہنے ہوئے تھا۔ نگاہیں ملیں اور بہت کُچھ کہہ گئیں، نانی اس گُفتگُو سے بے خبر سبزی والے سے بھاؤ تاؤ کرتی رہیں۔

اُسے پتہ بھی نہ چلا تھا کہ وہ جوان اُس کا خاموشی سے پیچھا کرتا ہوا گھر تک آ گیا تھا، اور ایسا کرنے کیلئے نہ جانے کہاں چھوڑ آیا تھا گھوڑے کو۔ وہ تو نانی کو اندر چھوڑ کر شہلا سے ملنے جا رہی تھی جس کا پیغام اُسے ماں نے دیا تھا۔ ابھی وہ باہر نکلی ہی تھی کہ سامنے نظر پڑی، وہ اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ وردی میں ملبوس کھڑا تھا، مُسکُراہٹ کا تبادلہ ہوا ہی تھا کہ اُس کے کانوں میں شہلا کی آواز آئی جو اُس کا انتظار کرتے کرتے وہیں چلی آئی تھی، وہ اُسی جوڑے میں ملبوس تھی جسے اُن دونوں نے مل کر فائنل کیا تھا محمانوں کی آمد پر پہننے کو، سپاہی کو دیکھ کر شہلا ٹھٹھک گئی۔ وہ بھی کُچھ پریشان سا وہاں سے چلا گیا۔
’’ کیا ہوا شہلا ‘‘ شہزادی نے پوچھا تھا
’’ کُچھ نہیں، بس وہ مہمان یوں ہی تھے، ایسے ہی اتنی تیاری کی، یہی تمہیں بتانا تھا‘‘ اور شہزادی سمجھ گئی کہ آنے والا اُسے ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔

دن پر دن گزرتے گئے شہزادی اُس بازار کے کئی چکر بھی لگا آئی پر وہ ملا نہیں، زندگی اپنی ڈگر پہ چلتی رہی۔

پھر ایک دن اُس نے سُنا کہ شہلا کی شادی طے ہو گئی ہے، سبھی گھر والوں کے ساتھ وہ بھی مبارکباد دینے گئی مسز شیرازی اور شہلا کو۔ وہاں پتہ چلا کہ جھٹ پٹ بیاہ کا معاملہ ہے ، کیونکہ دُلہا کے گھر والوں کو جلدی ہے۔ شہلا بے حد خوش تھی، ایسی کہ جیسے دُنیا جہاں کی دولت اُس نے پا لی ہو۔

پھر وہ دن بھی آ پہنچا کہ بارات آنے کا غُلغُلہ بُلند ہوا اور لڑکیاں شہزادی سمیت دُلہا کو دیکھنے بالکونی میں بھاگ کر کھڑی ہو گئیں، سبھی نے دُلہا کو دیکھتے ہی چیخیں ماری تھیں خوشی سے، لیکن شہزادی تو بیہوش ہی ہو گئی، اُسے جلدی سے وہاں سے اُٹھوا کر اُس کے گھر لے جایا گیا، جہاں نانی نے اُس کا سر گود میں رکھا اور پانی کے چھینٹے مارے، ماں گھبراہٹ میں کبھی پاؤں دباتیں اور کبھی سینے پر ہاتھ پھیرتیں۔ آخر اُسے ہوش آ ہی گیا

’’ کیا ہوا شہزادی تُمہیں؟ ‘‘ نانی نے فورا ہی سوال داغا تھا

’’ نانی مجھے شہزادی نہ کہا کریں، شہزادیاں صورت سے نہیں، بخت سے ہوتی ہیں‘‘ اُس نے کہا اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی
مکمل تحریر >>

تھوڑا سا دہی ذیابیطس سے محفوظ رکھ سکتا ہے: تحقیق

لندن

وسیع پیمانے پر کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق ہر روز دہی کا ایک چھوٹا سا حصہ کھانا ذیابیطس سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک محققیقین نے بتایا کہ ہر روز 28گرام یعنی دن میں ایک بار دہی کے ایک چھوٹے پیالے میں ایک چوتھائی مقدار دہی کھانا شوگر کی بیماری پیدا ہونےکےخطرے کو تقریبا 20 فیصد تک کم کر سکتا ہے۔

‘جرنل بی ایم سی میڈیسن’ میں شائع ہونے والی تحقیق میں ایک صحت مند غذا کے حصے کے طور پر دہی کی اہمیت پر روشنی ڈالی گی ہے۔

یہ سائنسی شواہد ایک طویل دورانیے کے طبی جائزے کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ہیں جس میں محققین نے مطالعے میں 149000 صحت مند افراد کی میڈیکل ہسٹری اور طرز ِزندگی کا مطالعہ کیا ہے اور انہی اعداد و شمار اور معلومات کی بنیاد پر محققین کو دہی کا باقاعدگی سے استعمال اور ذیایطس ٹائپ 2 کے کم خطرے کے درمیان واضح تعلق نظر آیا ہے۔

محققین نے مطالعے کے آغاز سے اختتام تک شرکاء کی غذائی عادات کا ریکارڈ محفوظ کیا۔

مطالعے کےتمام شرکا تجزیہ شروع ہونے کے وقت ذیابیطس کے مریض نہیں تھے لیکن تحقیق کےاختتام تک 15,156 لوگوں میں یہ بیماری موجود تھی تاہم ان کی غذائی عادتوں کے تجزیہ سے پتا چلا کہ ان کی خوراک میں شامل تمام ڈیری مصنوعات کا ذیابیطس کےخطرے کی کمی پر کوئی کردار نہیں تھا۔

اس نتیجے کے بعد تجزیہ کاروں نے ڈیری مصنوعات دودھ، اسکیمڈ ملک، پنیر اور دہی کی انفرادی کھپت کے اثرات کو دائمی امراض کے خطرے مثلا ان کی عمر، بی ایم آئی (قد کے لحاظ سے وزن کی پیمائش) اور غذائی عوامل کے ساتھ ملا کر دیکھا تو پتا چلا کہ دودھ اور زیادہ چکنائی والی چیزوں مثلا پنیر کے انفرادی استعمال کا ذیابیطس کے خطرے کی کمی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

محققین کے مطابق ذیابیطس سے بچاؤ کا تعلق صرف دہی کھانے کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔

نتائج کی تصدیق کے لیے محققین نے ایک میٹا تجزیہ شروع کیا جس میں 2013 مارچ تک شائع ہونے والے مطالعوں کے اعداد و شمار اور مطالعے کےنتائج کو استعمال کرتے ہوئے ڈیری مصنوعات اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق جاننے کے لیے تحقیقات شروع کیں۔

محققین نے کہا کہ اس بار نتائج بہت واضح تھے یعنی لگ بھگ 5 لاکھ افراد کی روزمرہ کھانے پینے کی تفصیلات کا تجزیہ کرنے سے یہ واضح ہو گیا کہ ہر روز صرف 28 گرام دہی کھانے سے ذیابیطس بیماری پیدا ہونے کے خطرے کو 18 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے ۔

معلوم ہوا کہ پچھلے مطالعوں میں بھی کیلشئیم، میگنیشیم اورڈیری مصنوعات سے حاصل ہونے والی چکنائی کے صحت مند اثرات کو ذیابیطس ٹاپ ٹو بیماری کے خطرے کی کم شرح کے ساتھ منسلک کیا گیا تھا ۔

دہی دودھ کی ایک خمیر شدہ شکل ہے دہی کی سب سے بڑی خصوصیت صحت بخش بیکٹیریا کی وہ بہتات ہے جو اس میں پائی جاتی ہے یہ ایک بہترین اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو جسم کو زہریلے اور خطرناک مواد سے پاک کرتا ہے۔

محققین نے کہا کہ دہی میں پایا جانے والا بیکٹیریا پروبائیوٹک کے استعمال کو معمول بنانے سے قوت ِمدافعت میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں میں فیٹی پروفائل اور اینٹی آکسیڈنٹ کی حیثیت کو بہتر بناتا ہے۔

مطالعے کے سنیئر محقق فرینک ہو نے کہا کہ ہمارے مطالعے میں زیادہ مقدار میں دہی کھانے کا ذیابیطس کے کم خطرے کے ساتھ گہرا تعلق ظاہر ہوا ہے لیکن ڈیری مصنوعات کی کل کھپت کے ساتھ ذی بیطس ٹائپ 2 سے تحفظ کے بارے میں شواہد حاصل نہیں ہوئے ہیں۔

محقق پروفیسر فرینک ہو نے تجویز پیش کرتے ہوے کہا کہ، ”دہی کو ایک صحت مند غذائی پیٹرن میں شامل کر لینا چاہیئے”۔

دودھ سے دہی بنانے کا رواج لگ بھگ تیس ہزار سال قبل مسیح میں مصریوں کے زمانے میں رائج ہوا۔ تاریخ دانوں کا کہنا ہے کہ دہی فراعنہ ِمصر کے دستر خوان پر دہی عمدہ غذا کے طور پر رکھا جاتا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ دہی کو ‘یوگرٹ’ نام ترکیوں نے دیا تھا جس کے بعد سب سے زیادہ مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ دہی وسط ایشیا کے لوگوں کی ایجاد ہے اور اس سلسلے میں ایک واقعہ سے پتا چلتا ہے کہ ہندوستانی شہنشاہ اکبر کے باورچی سوسوں کے بیج اور دار چینی سے دہی کے ذائقے کو دوبالا کرتے تھے۔ تاریخ دانوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہی کا استعمال فرانسسی طبی تاریخ میں بھی پایا جاتا ہے حتٰی کے 1900 صدی روسی سلطنت، وسطی ایشیا، مغربی ایشیا، جنوب مغربی یورپ، مرکزی یورپ اور ہندوستان میں دہی کا استعمال عام ہو گیا تھا۔
مکمل تحریر >>

ناشتے سے پہلے 12 گھنٹے کا روزہ وزن کم کرتا ہے: تحقیق

لندن
 
ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے آدھے دن کا کھانا پینا اور باقی آدھے دن کا روزہ آپ کے وزن کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔

ماہرین نے تجویز پیش کی ہے کہ ایسے لوگ جو ڈائٹنگ کرکے وزن گھٹانے کی امید کرتے ہیں انھیں چاہیےکہ وہ اپنے دن بھر کی کیلوریز کا حساب کتاب رکھنے کےساتھ ساتھ گھڑی کی سوئیوں پر بھی نظریں رکھا کریں کیونکہ شام ڈھلنے کے بعد کھانا وزن میں اضافہ کر سکتا ہے۔

امریکی محققین کے مطالعے سے ظاہر ہوا ہے کہ ہر روز آدھے دن یا محدود گھنٹوں کے اندر کھانا ہمارے جسم میں چربی جلانے کے قدرتی نظام کو آن کرنے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔

محققین کے مطابق سائنسی شواہد یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ دن کے 12 گھنٹوں کے اندر کھانا پینا ختم کر لینا، مثلاً صبح 8 بجے سے شام 8 بجے کے درمیان کھانا اور باقی 12 گھنٹوں میں بھوکا رہنے کا جسمانی چربی پر بڑا اثر پڑتا ہے۔

‘سالک انسٹیٹیوٹ’ سے منسلک تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ساچی ڈینینڈا پانڈا کا کہنا ہے کہ ہماری تحقیق کا نتیجہ ان پچھلے مطالعوں کےنتائج کی توثیق کرتا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ رات میں دیر سے کھانا وزن میں اضافے کا ایک سبب ہے۔

مطالعے کی مصنف امینڈین چائے نے کہا ہے کہ ہمارے تجزیہ سے یہ بات سامنے آئی ہے چوبیس گھنٹوں میں سے 12 گھنٹے کے لیے بھوکا رہنا وزن کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ اسی طرح مطالعے میں یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ بارہ گھنٹے بھوکا رہنا کولیسٹرول، ذیابیطس اور موٹاپے سے لڑنے میں مدد کرتا ہے۔

چوہوں پر کئے جانے والے اس مطالعے میں سائنس دانوں نے 400 نارمل اور فربہ چوہوں پرتجربہ کیا ہے جنھیں مختلف اقسام کی ڈائیٹ محدود مدت تک کھلائی گئی تھی۔

نتائج سے ظاہر ہوا کہ ایسے چوہے جنھیں زیادہ مرغن غذا دن کے 9 سے 12 گھنٹوں کے درمیان کھلائی گئی تھی وہ ان چوہوں کے مقابلے میں زیادہ چست اور دبلے ہوگئے جنھیں دن بھر آزادانہ کھانا کھانے کی اجازت تھی۔ جبکہ دونوں گروپ کی خوراک میں کیلیوریز کی تعداد یکساں تھی۔ تاہم یہ نتیجہ اس وقت بھی تبدیل نہیں ہوا جب محدود گھنٹوں میں کھانے والے چوہوں کے گروپ کو زیادہ میٹھی چیزیں کھلائی گئیں۔

اس تجربے میں جب محدود گھنٹوں میں کھانے والے چوہوں کو ہفتے کے آخری دو دن میں ان کی مرضی سے سب کچھ کھانے دیا گیا تو بھی ان چوہوں کے وزن میں اضافہ نہ ہونے کے برابر رہا۔

پرفیسر پانڈا کے لیبارٹری کی معاون محقق چائے نے کہا کہ ان دنوں لوگوں کو سب سے زیادہ مشورہ صحت مند غذا کھانے کا دیا جاتا ہے لیکن بہت سے لوگ صحت مندا غذا تک رسائی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ لہذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا بغیر صحت مند غذا کے ساتھ بھی ایسے لوگ محدود گھنٹوں میں کھانے کی مشق سے کوئی فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔

پروفیسر چائے کے مطابق حقیقت یہ تھی کہ آدھے دن بھوکا رہنے کی ڈائیٹ کے اثرات ہر قسم کی خوراک کے ساتھ تھے۔ بلکہ تعجب کی بات یہ تھی کہ ہفتے کے آخری دو دنوں میں رات میں جی بھر کر کھانے کے باوجود اس فارمولا ڈائیٹ کے اثرات ضائع نہیں ہوئے۔ یہ نتیجہ بتاتا ہے کہ پورے ہفتے میں صرف ویک اینڈ پر رات کا کھانا اتنا نقصان نہیں پہنچاتا لیکن ہر روز رات میں دیر سے کھانا جسم کے میٹا بولزم (جسم کے تحول) کو نقصان پہنچاتا ہے۔

تجربے کے اگلے مرحلے میں جب فربہ چوہوں کو محدود مدت میں کھانے کا پابند کیا گیا تو انھوں نے چند ہی دن میں 5 فیصد وزن کم کر لیا اور مطالعے کے اختتام 38پر ہفتوں میں ان کا وزن 25 فیصد کم ہو گیا۔

سائنسی رسالے ‘ جرنل سیل میٹا بولزم’ میں شائع ہونے والی تحقیق سے پتا چلاکہ صحت مند غذا کھانے والے چوہوں کےگروپ کا اگرچہ اس ڈائیٹ کی وجہ سے وزن کم نہیں ہوا لیکن ان کے پٹھوں کے وزن میں اضافہ ہوا۔ بقول پروفیسر پانڈا یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں تھی کہ نارمل ڈائیٹ کھانے والے چوہوں کا وزن کم نہیں ہوا تھا لیکن ان کی جسمانی ساخت پر اس کا اثر پڑا تھا۔
مکمل تحریر >>

ورزش سے انسانی ’ڈی این اے‘ میں تبدیلی ممکن: تحقیق

واشنگٹن: سٹاک ہوم کے کیرولینسکا انسٹی ٹیوٹ سے منسلک سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ورزش سے نہ صرف صحت پر اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں، بلکہ اس سے انسان کا ڈی این اے بھی بدلا جا سکتا ہے۔
اس سے پہلے ماضی میں کئی تحقیقوں میں یہ امر سامنے آیا تھا کہ مختلف ڈائیٹس اور کیمیکلز کی وجہ سے ہمارے جسم میں موجود جینز ہمارے جسم کو جو بائیو کیمیکل سگنلز بھیجتے اور وصول کرتے ہیں، ان میں فرق پڑسکتا ہے۔ لیکن، اس سے پہلے، اس عمل کا تعلق ورزش کرنے سے نہیں جوڑا گیا تھا۔

سوئیڈن سے تعلق رکھنے والے سائنسدانوں نے اس تحقیق کے لیے ورزش کرنے والے 23 نوجوان اور صحتمند مرد و خواتین سے ڈیٹا اکٹھا کیا۔

ان تمام افراد نے لگاتار تین ماہ تک ورزش کی۔ تین ماہ کے بعد، ان افراد سے اکٹھے کیے گئے ڈی این اے کا جائزہ لیا گیا تو اس میں تبدیلی نوٹ کی گئی۔

سائنسدانوں نے نوٹ کیا کہ انسانی جسم میں ورزش کی وجہ سے رونما ہونے والی تبدیلیوں کا بہت حد تک توانائی اور انسولین سے متعلق جینز سے براہ ِراست تعلق ظاہر ہوا۔

سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ روزانہ ورزش سے نہ صرف صحت بہتر ہوتی ہے، بلکہ انسان کے جینز میں بھی بہتری آتی ہے۔
مکمل تحریر >>

Monday, December 29, 2014

سعید اجمل کو پابندی کے خلاف قانونی کاروائی کرنی چاہیئے : شعیب اختر

 
کراچی ( مانیٹرنگ ڈیسک ) سابق پاکستانی بائؤلرشعیب اختر نے آئی سی سی کی جانب سے سعید اجمل پر پابندی لگائے جانے پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں چاہیئے کہ وہ پابندی کے خلاف کھیلوں کی عالمی ثالثی عدالت میں قانونی چارہ جوئی کا حق استعمال کریں۔اگر سعید اجمل اپنا یہ حق استعمال کرتے ہیں تو پوری امید ہے کہ اس کے مثبت نتائج حاصل ہوں گے۔
 
نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے شعیب اختر کا کہنا تھا سعید اجمل کے بولنگ ایکشن میں ان کی جسامت کا عمل دخل بہت زیادہ ہے۔ان کے جسم کی بناوٹ کے مطابق ان کا بولنگ ایکشن بالکل درست ہے ۔اگر وہ قانون کا سہارا لیتے ہیں اور میڈیکل ٹیسٹ کروا لیں تو وہ اس کیس کو با آسانی جیت سکتے ہیں ۔شعیب اختر کا کہنا تھا کہ سعید اجمل پاکستان کے بہترین باؤلرز میں سے ایک ہیں اور ورلڈ کپ 2015ء میں ان کی غیر موجودگی پاکستان کے لیے نقصان کا باعث ہے
مکمل تحریر >>

تین شادیاں ناکام ہونے کے بعد سعودی شخص نے چوتھی شادی کے لیے عجیب و غریب شرط رکھ دی

 
 
ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) بیٹی کے والدین کو عموماً لالچی اور زیادہ جہیز کے خواہشمند مردوں کی وجہ سے تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن ایک سعودی شخص نے ہونے والے سسر کے سامنے ایسی شرط رکھ دی جو اس نے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔ اخبار ”الوطن“ کے مطابق صوبہ جازان سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کو ان کے ہونے والے داماد نے بتایا کہ ان کی واحد شرط یہ ہے کہ اگر کبھی دلہن طلاق لینے کافیصلہ کر ے تو پہلے وہ 5 لاکھ ریال ادا کرے گی اور پھر ہی اسے طلاق دی جائے گی۔

یہ شرط سن کر لڑکی کے والد سخت سیخ پا ہوئے لیکن لڑکی نے شادی کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے دولہے کی شرط کا پس منظر جاننے کے بعد رضامندی ظاہر کی۔ دولہے کا کہنا تھا کہ اس کی تین بیویاں اسے چھوڑ چکی تھیں اور اب وہ ایک پختہ تعلق استوار کرنا چاہتا تھا اور انتہائی سنجیدگی سے گھر بسانا چاہتا تھا اس لئے دلہن کیلئے یہ شرط رکھ دی تاکہ وہ طلاق لینے سے پہلے دس دفعہ سوچے۔ اطلاعات کے مطابق شادی باقاعدہ طور پر طے پا چکی ہے تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مکمل تحریر >>

Sunday, December 28, 2014

فاتح سندھ محمد بن قاسم کے قابلِ فخر کارنامے





محمد بن قاسم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں-کون کہہ سکتا تھا کہ 17 سال کا یہ نوجوان وہ کر جائے گا جو بڑے بڑے حکمران نہ کر سکے اور اس کا دور برصغیر کا ایک روشن باب بن جائے گا-محمد بن قاسم ایک عظیم عمیاد جنرل تھا جس نے صرف 17 سال کی عمر میں سندھ اور پنجاب کے وہ علاقے فتح کیے جو دریائے سندھ کے کنارے واقع تھے اور اب سرزمینِ پاکستان کا حصہ ہیں- سندھ اور پنجاب کی فتح سے جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کی حکومت کا ایک نیا دور شروع ہوا تھا اور آج صوبہ سندھ بابِ اسلام کے نام سے پہچانا جاتا ہے-

محمد بن قاسم عرب کے شہر طائف میں پیدا ہوئے اور وہیں پلے بڑھے- طائف قبیلے کے Thaqafi قبیلے سے تعلق رکھنے والے قاسم بن یوسف٬ محمد بن قاسم کے والد تھے اور ان کا انتقال محمد بن قاسم کے بچپن میں ہی ہوگیا تھا- ان کے بعد محمد بن قاسم کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ان کی والدہ پر آن پڑی- عمیاد کے گورنر الحجاج ابن یوسف محمد بن قاسم کے چچا تھے- انہوں نے محمد بن قاسم کی جنگ اور نظامِ حکومت کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی- حجاج بن یوسف کی سرپرستی میں محمد بن قاسم کو فارس کا گورنر بنایا گیا اور وہ ایک بغاوت کو ناکام بنانے میں کامیاب ہوئے



فاتحِ سندھ
یہ اس وقت کا ذکر ہے جب مسلمان تاجروں کا Ceylon میں انتقال ہوگیا تھا اور Ceylon کے حکمران نے ان کی بیوہ عورتوں اور یتیموں کو سمندر کے راستے بغداد بھیج دیا تھا- Ceylon کے بادشاہ نے حجاج بن یوسف کے لیے بیش قیمت تحائف بھی بھجوائے- دیبل کی بندرگاہ پر ہندوں قزاقوں نے سمندری قافلے کو لوٹ لیا اور عورتوں کو بچوں سمیت قیدی بنا لیا- جب اس واقعے کی خبر حجاج بن یوسف کو ہوئی تو اس نے راجہ داہر سے مسلمان قیدیوں کو رہائی٬ لوٹے ہوئے مال کی واپسی اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا- راجہ داہر نے جواب دیا کہ بحری قزاقوں پر اس کا حکم نہیں چلتا- اس جواب کے حجاج نے سندھ پر حملہ کرنے کا ارادہ کیا- حجاج بن یوسف کے پہلے دو بھیجے جانے والے لشکروں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا- اس کے بعد حجاج بن یوسف نے فیصلہ کیا کہ راجہ داہر جو قزاقوں کی سرپرستی کر رہا تھا٬ پر جارحانہ حملہ کرے گا- اس حملے کی اصل وجہ راجہ داہر کی غیر منصفانہ پالیسیاں تھیں-

جب محمد بن قاسم نے دیبل پر حملہ کیا تو اس وقت راجہ داہر سندھ کے دارالحکومت الور (نواب شاہ) سے میں تھا جو کہ دیبل سے 500 کلومیٹر کی دوری پر تھا- دیبل اس وقت گورنر کی زیرِ سرپرستی تھا اور وہاں چار سے چھ ہزار راجپوت اور چند ہزار برہمن سپاہیوں کی ایک فوج موجود تھی- اور اسی وجہ سے راجہ داہر نے دفاع کے لیے اس جانب فوراً کوچ نہ کیا- ایک نوجوان حملہ آور اس وقت حجاج بن یوسف سے قریبی تعلق رکھے ہوئے تھا اور ہر چھوٹی بڑی بات میں مشورہ لیتا تھا-اس وقت رابطے کا انتہائی مؤثر طریقہ تھا کہ ہر تین دن میں خط لکھے جاتے تھے اور ہر سات دن میں ان کا جواب بھی موصول ہوجاتا تھا- لہٰذا حجاج بن یوسف اس معاملے کی بذاتِ خود نگرانی کر رہا تھا- دیبل کا محاصرہ کچھ دن تو جاری رہا لیکن پھر ایک جاسوس کی جانب سے محمد بن قاسم کو مندر پر قبضہ کرنے کا راستہ فراہم کیا گیا- عرب فوج نے سیڑھیاں لگا کر مندر میں داخل ہوگئی- اسلامی قوانین کے مطابق وہاں کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی گئی- اور اس کے بعد مندر کو توڑ کر مسجد تعمیر کی گئی۔

محمد بن قاسم نے مسلمانوں کی رہائش کے لیے شہر میں 4 ہزار کوارٹر تعمیر کیے- محمد بن قاسم کی یہ تاریخی فتح مسلمانوں کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے- مقبوضہ قلعہ اور شہر کے باشندوں کو اسلام کی دعوت دی گئی- ارور کے مقام پر محمد بن قاسم کے لشکر کا سامنا راجہ داہر کی فوج اور جٹوں سے ہوگیا- اس جنگ میں راجہ داہر مارا گیا اور اس کی فوج کو شکست ہوئی اور محمد بن قاسم نے سندھ باگ ڈور سنبھال لی۔

محمد بن قاسم کی طلسماتی شخصیت
محمد بن قاسم کی فوج اور انتظامی کامیابی پاک و ہند کے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک سنہری باب ہے- محمد بن قاسم خداداد صلاحیتوں سے مالا مال ایک قابل لیڈر تھا- ایک شیر٬ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ایک سیاستدان اور ایک قابل منتظم تھا- اس کی کم عمری٬ متاثر کن شخصیت٬ اس کی جرات مندی اور بہادری جس کے بل بوتے پر کئی فتوحات حاصل کیں- دشمنوں کے لیے فولاد اور دوستوں کے لیے نرم دل انسان تھا۔

ایک قابل جنرل
راجہ داہر کی فوج تکنیکی اور قائدانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے کمزور تھی- محمد بن قاسم 17 سال کا ایک بہادر اور قابل جنرل تھا- سندھ کی سرزمین پر عربوں کی فتح کا سہرا اس کی قائدانہ صلاحیتوں کے سر تھا- وہ ایک عظیم جنگجو اور ایک اچھا منتظم تھا- اس جنگ کے دوران جو مندر توڑے گئے وہ مذہبی جنونیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس لیے کیونکہ ہندوستان کا بیش قیمت مال و دولت وہاں ذخیرہ تھا۔

محمد بن قاسم نے سندھ کے باشندوں کے لیے مفاہمتی پالیسی اپنائی- برہمنوں کو اپنی مذہبی رسومات پوری کرنے کی آزادی تھی- سندھ کی عوام کو جان و مال کی حفاظت حاصل تھی بشرط کہ وہ اس کے بدلے ٹیکس ادا کریں گے

دور اندیش حکمران
محمد بن قاسم ایک دور اندیش حکمران اور سیاستدان تھا- اس نے فتح کے بعد سندھ کے موجودہ نظام کو خراب نہیں کیا- اس نے اندرونی معاملات کا نظام وہاں کے باشندوں پر چھوڑ دیا- داہر کے زمانے میں جن لوگوں نے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا وہ اس بات کی امید کر رہے تھے کہ اس زمین کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جاسکیں- محمد بن قاسم نے ان لوگوں پر مکمل اعتماد کیا اور انہیں اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز کیا۔

المناک موت
محمد بن قاسم کی زندگی کا دردناک اختتام 715 میں ہوا- خلیفہ سلیمان اور حجاج بن یوسف کے درمیان دشمنی تھی- محمد بن قاسم اس دشمنی کا شکار ہوگیا- حجاج کا داماد ہونے کے ناطے اس کو سنگین نتائج بھگتنے پڑے- محمد بن قاسم کو گرفتار کر کے میسوپوٹامیا میں قید کردیا گیا تھا جہاں اس پر کیے جانے والا تشدد اس کی موت کا باعث بن گیا-بالآخر مسلمانوں کی تاریخ کا یہ عظیم ہیرو دنیا سے رخصت ہوگیا۔-
مکمل تحریر >>

ایک گمشدہ طیارہ جس کے مسافر انسانی گوشت کھا کر زندہ رہے

 


بیونس آئرس (اردو وائیٹ)آج ہم آپ کو ایک ایسے گمشدہ طیارے کے بارے میں بتاتے ہیں جس کے مسافروں کو دنیا نے مردہ قرار دے دیا تھا لیکن یہ مسافر زندہ تھے لیکن خوراک نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مردہ دوستوں اور ساتھیوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہوئے۔

جی ہاں یہ سچا واقعہ 1972ءمیں پیش آیا تھا۔ جنوبی امریکہ کا ایک ملک یوراگوئے کے کالج کے لڑکے رگبی کامیج کھیلنے اپنے رشتے داروں اور عزیزوں کے ساتھ ہمسایہ ملک چلی جارہے تھے۔ 13 اکتوبر 1972ءکی شام کو جہاز نے ارجنٹائن کے ایک مقامی ایئرپورٹ سے پرواز شروع کی، جہاز کی منزل چلی کا دارالحکومت سینڈی ایگو تھی اور اس میں 45 مسافر سوار تھے۔ جہاز کو ایک پہاڑی سلسلے ”اینڈیز“ کے اوپر سے گزرنا تھا یہ پہاڑی سلسلہ 23ہزار فٹ تک بلند ہے لیکن موسم کی خرابی اور پائلٹ کی غلطی کے باعث جہاز ایک چٹان سے ٹکرانے کے بعد انتہائی برفانی چوٹی پر کریش کرگیا۔ شدید برفانی طوفان کے باعث پائلٹ کو چوٹی نظر نہ آئی تھی اور یہ حادثہ پیش آیا۔ خوش قسمتی سے پہاڑوں پر 15فٹ سے زیادہ برف ہونے کے باعث جہاز کے پرخچے نہ اڑے اور جہاز پھسلتا ہوا چوٹی سے ٹکرانے کے بعد نیچے کی جانب آیا،جہازمیں بیٹھے زیادہ تر مسافر محفوظ رہے۔

کنٹرول ٹاور سے جہاز کا رابطہ منقطع ہوچکا تھا اور یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ جہاز کو حادثہ پیش آچکا ہے لیکن جہاز کی جائے حادثہ کا کسی کو معلوم نہ تھا۔ جہاز کی تلاش شروع کی گئی اور آٹھ دس دن تک ریسکیو ٹیمیں جہاز کی تلاش کرتی رہیں لیکن شدید برفانی طوفان کے باعث یہ سمجھ لیا گیا کہ جہاز میں بیٹھے تمام مسافر مرچکے ہیں اور بالآخر جہاز کو گمشدہ کہہ کر تمام مسافروں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ دوسری جانب جہاز پر سوار مسافروں کے پاس کھانے کے لئے کچھ بھی نہ تھا۔ حادثے کے باعث 45 میں سے 16 افراد ہلاک ہوچکے تھے۔ ہلاک شدہ افراد کو جہاز میں سے نکال کر باہر برف میں دفن کردیا گیا۔ 29 مسافر زندہ بچے تھے لیکن 5 کی حالت نازک تھی۔ بچ جانے والے مسافروں کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ خوراک کا درپیش تھا، اس کے علاوہ جہاز کے باہر 15 سے 20 فٹ گہری برف تھی سب سے بڑھ کر 15 ہزار فٹ کی بلندی پر شدید برفانی طوفانتھا۔ جہاز میں صرف 10 سے 12چاکلیٹس موجود تھیں اور کھانے والے 29 لوگ یہ 12 چاکلیٹس 8 دن تک کھائیں گئیں۔ ٹرانزسٹر کے ذریعے باقی مسافروں کو نویں دن علم ہوا کہ انہیں مردہ قرار دے دیا گیا ہے اور ریسکیو ٹیموں نے ان کی تلاش بند کردی ہے۔ بھوک کی وجہ سے ان مسافروں کا برا حال تھا اور جب یہ علم ہوا کہ اب ان کی امداد کو کوئی نہ آئے گا تو تمام مسافر شدید پریشانی کا شکار ہوگئے۔ مزید 3 دن تک مسافروں نے انتظار کیا لیکن اب بھوک کے باعث ان کا برا حال تھا۔ آخر کار ان مسافروں نے فیصلہ کیا کہ جو لوگ مرچکے ہیں ان کا گوشت کھا لیا جائے۔ ان مسافروں نے ایک دوسرے سے یہ بھی وعدہ کیا کہ اگر ان میں سے کوئی مرجائے گا تو باقی لوگ اس کا گوشت کھا سکتے ہیں۔ یہ مفلوک الحال مسافر شدید بے چارگی کے عالم میں 72 دن یعنی اڑھائی ماہ تک اس ”برفانی جہنم“ میں رہے۔

شدید برفانی طوفان، بھوک، کمزوری اور بیماریوں کے باعث 29 لوگوں میں سے صرف 16 لوگ زندہ بچے جبکہ 13لوگ حادثے کے بعد ہلاک ہوئے۔ ان 16 لوگوں میں سے 2 بہادر نوجوانوں نے 20 ہزار فٹ سے زائد اونچا پہاڑ عام جوتوں اورکپڑوں میں عبور کیا اور نزدیک ترین قصبہ جو کہ 60کلومیٹر دور تھا میں جاکر مدد حاصل کی اور یوں ان لوگوں کو 24 دسمبر 1972ءکو نئی زندگی ملی۔ یہ 16 لوگ آج بھی دنیا بھر میں بہت مشہور ہیں۔ دنیا بھر میں اس واقع کو انسانی تاریخ کی سب سے بڑی بقاءکی کہانی کہا جاتا ہے۔ آج بھی جب کوہ پیما اس پہاڑ پر جاتے ہیں اور یہ دیکھ کر کہ کس طرح دو نوجوانوں نے ان پہاڑوں کو عام لباس میں عبور کیا حیران ہوتے ہیں۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر انسان کی قوت ارادی مضبوط اور اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہو تو انسان سب کچھ کرسکتا ہے۔ ہمیں بھی دعا کرنی چاہیے کہ ملائیشین طیارہ میں سوار لوگ خیریت سے ہوں۔


مکمل تحریر >>

Saturday, December 27, 2014

وہ جلاد جس نے ایک ماہ میں سات ہزار قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا







ماسکو (اردو وائیٹ) دنیا میں ناقابل یقین کام کرنے والوں کے نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں لکھے جاتے ہیں اور انہیں میں ایک نام واصیلی بلوفن کا بھی ہے جو ایک روسی جلاد تھا اور اس کا ریکارڈ کچھ زیادہ ہی ناقابل یقین ہے۔
اس شخص نے 1939ءمیں محض 28 دن کے دوران 7000 سے زائد لوگوں کی سزائے موت کو عملی جامہ پہنایا۔ بلوفن 1895ءمیں پیدا ہوا اور اس وقت کے روسی ڈکٹیٹر سٹالن کی فوج میں بھرتی ہوکر بہت تیزی سے اس کے قریبی لوگوں میں شمار ہونے لگا۔


جب سٹالن نے 1939ءمیں پولینڈ کے قیدی بنائے گئے 20,000 سے زائد فوجیوں کے قتل کا حکم دیا تو بلوفن اس قتل عام کو سرانجام دینے والوں میں سر فہرست تھا۔ ان فوجیوں کو سزائے موت دینے کیلئے بنائے گئے ایک خصوصی کمرے میں لایا جاتا جہاں ان کے سر کے پچھلی طرف گولی مار ان کی زندگی کا خاتمہ کیا جاتاتھا۔ بلوفن سر شام قیدیوں کا قتل شروع کرتا اور عام طور پر صبح کے وقت تک یہ سلسلہ چلتا رہتا۔ وہ ہر رات تقریباً 300 قیدیوں کو اپنے ہاتھ سے گولی مارتا رہا۔ روسی خفیہ دستاویزات کے مطابق وہ 7.65mm Wather PIK پستول استعمال کرتا تھا کیونکہ یہ پستول جرمن فوجی استعمال کرتے تھے اور اسے استعمال کرنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر کبھی مارے گئے قیدیوں کی لاشیں دریافت ہوں تو الزام جرمن فوج پر لگایا جاسکے اور پھر یہی ہوا کہ جب 1943ءمیں پولینڈ کے فوجیوں کی اجتماعی خبروں کا انکشاف تو روس نے جرمنی پر الزام لگادیا۔ بالآخر 1990ءمیں میخائل گوریا چوف کے دور میں اصل حقائق دنیا کے سامنے آگئے اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ سٹالن نے بلوفن کو خفیہ طور پر روس کے اعلیٰ فوجی اعزاز ”آرڈرآف دی ریڈ بینر“ سے بھی نوازا تھا اور یہ ہزاروں قیدیوں کے قتل کا انعام تھا۔ بلوفن نے اس قتل عام کے بعد کئی سال مجنونانہ زندگی گزاری اور بالآخر پاگل ہوگیا اور 1995ءمیں خود کشی کرلی۔

مکمل تحریر >>

بھارت میں انوکھا ترین واقعہ ،خاندان والے مردہ دادا کو آگ لگانے لگےتومردہ اٹھ کھڑا ہوا


نیو دہلی (اردو وائیٹ) بھارتی ریاست راجستھان میں ایک دیہاتی خاندان چند گھنٹے پہلے مرنے والے اپنے دادا جی کو ہندو رسوم کے مطابق جلانے کی تیاری مکمل کر چکا تھا مگر ماچس جلانے سے عین پہلے دادا جی نے آنکھیں کھول دیں اور لکڑیوں سے اٹھ کر سب کے دل جیت لئے۔


بہتر سالہ دیپک سنگھ سے شدید محبت کرنے والے ان کے پوتے باندہ نالوا نے بتایا کہ دادا جی صبح اچھے بھلے اٹھے تھے اور معمول کے مطابق جانوروں کی دیکھ بھال کیلئے روانہ ہو رہے تھے کہ اچانک گر گئے۔ ان کی نبض اور دل کی دھڑکن بند تھی اور مقامی ڈاکٹر نے بھی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔ چونکہ سارا خاندان بلکہ سارا گاﺅں ہی دادا جان کو بہت پسند کرتا تھا اس لئے ہر کوئی غمزدہ ہو گیا اور ان کی لاش جلانے کا اہتمام شروع ہو گیا۔ باندہ کہتے ہیں کہ جب الوداعی دعاﺅں کا شور بہت بلند ہوا تو دادا جان اچانک ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے اور پھر ہلکا سا سہارا لے کر لڑکھڑاتے ہوئے کھڑے ہو گئے۔ ان کی دنیا میں واپسی پر ہر طرف خوشی کی لہر دوڑ گئی اور جہاں چند لمحے قبل ماتم ہو رہا تھا وہاں زبردست جشن کا آغاز ہو گیا۔

 
مکمل تحریر >>

Sunday, December 21, 2014

ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت پر مودی بھی بھڑک اٹھا


نئی دہلی(ویب ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ پشاور حملے میں چند روز بعد پاکستانی عدالت کی طرف سے ممبئی حملوں کے ملزم ذکی الرحمن کی ضمانت پر رہائی قابل مذمت ہے۔تفصیلات کے مطابق مودی نے پاکستان کو سخت اور مناسب الفاظ میں اپنی تشویش سے آگاہ کر گیا ہے ۔پشاورحملے میں معصوم بچوں کی ہلاکت پر پورے بھار ت کے بچوں کی آنکھون میں آنسو ہیں ۔بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ممبئی حملوں کے ملزم ذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت پر رہائی پرپاکستان کوسخت اورمناسب الفاظ الفاظ بھارتی تشویش کے بارے میںآگاہ کردیا گیا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ پشاورکے سکول پردہشت گردوں کے حملے میں معصوم بچوں کی جانیں ضائع ہونے کے ایک روز بعدذکی الرحمن لکھوی کی ضمانت سے متعلق پاکستا نی عدالت کا فیصلہ قابل مذمت ہے ۔میں اس بارے میں فکرمند ہوں پاکستان میں کیا ہوا؟نریندر مودی نے کہا پشاور حملے میں بچوں کی ہلاکت پر پورے بھارت کے بچوں کی آنکھوں میں آنسو ہیں ۔بھارت وزیرخارنہ سشما سوراج نے بھی اپنے بیان میں ذکی الرحمن الکھوی کی رہائی سے متعلق پاکستانی عدالت کے فیصلے کو مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو واضح الفاظ میں بتا دیا ہے کہ ہم ممبئی حملوں کے انتہائی مطلوب ملزم کی ضمانت پررہائی جیسی حقیقت کو قبول نہیں کرسکتے ۔ہم پاکستان کی اس دلیک کو مسترد کرتے ہیں کہ ذکی الرحمن کے خلا ف ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا ۔انہوں نے کہا کہ بھارت اس معاملے میںپاکستان کے موقف پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہے ۔ذکی الرحمن لکھوی کو ضمانت پر رہا کر کے پاکستان نے دہشت گری کیخلاف لڑنے کے اپنے عزم کا مذاق بنا دیا ہے۔
مکمل تحریر >>

کبڈی لورز کے لیئے خوشخبری



امرتسر:
کبڈی ورلڈ کپ فائنل میں پاکستانی کبڈی ٹیم کے کپتان نے ریفری کے جانبدرانہ فیصلوں پر احتجاج کیا تھا جس کے بعد بھارتی وزیراعلیٰ پنجاب نے میچ کی تحقیقات کروانے کے لیے ریویو کمیٹی قائم کر دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارت اور پاکستان کے درمیان کھیلے جانے والے کبڈی ورلڈ کپ فائنل میں ریفری کے جانبدرانہ فیصلوں پر پاکستانی ٹیم کے کپتان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے الزام لگایا تھاکہ بھارتی ریفری نے جانبدرانہ فیصلے کیے ہیں اورقومی ٹیم نے میڈ لز لینے سے بھی انکار کر دیا تھا جس کے بعد بھارتی وزیراعلی پنجاب نے پاکستانی ٹیم کو انعامات لینے کے لیے واپس بلایا اور یقین دلایا کہ میچ کی تحقیقات کی جائیں گی۔ بھارتی وزیراعلیٰ نے میچ کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کردی ہے جو آج کے دن ہی میچ کو دوبار ہ دیکھ کر فیصلہ کرگی اور جلد از جلد رپورٹ وزیراعلیٰ کو پیش کرے گی۔ قومی کبڈی ٹیم نے آج واپس آنا تھا لیکن میچ کی تحقیقات کی وجہ سے قومی ٹیم کی واپسی ملتوی کر دی گئی ہے۔
مکمل تحریر >>

Saturday, December 20, 2014

بھارت نے دو نمبری کر کے اپنی ریت قائم رکھی


امرتسر: کبڈی ورلڈ کپ کے فائنل میں بھارت نے پاکستان کو 42 کے مقابلے میں 45 پوائنٹس سے شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا جبکہ پاکستانی کپتان کا کہنا ہے کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی اور جانبدارانہ امپائرنگ کرکے ہمیں جان بوجھ کر ہرایا گیا۔

بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں کھیلے گئے فائنل میں قومی پہلوانوں نے عمدہ کھیل کا مظاہرہ کیا جس کے باعث پاکستان کو تیسرے کوارٹر تک برتری حاصل تھی لیکن بھارتی ٹیم نے چوتھے کوارٹر کے آخری لمحات میں 3 پوائنٹس کی برتری حاصل کرلی اور یوں بھارت نے فائنل انتہائی سنسنی خیز مقابلے کے بعد 42 کے مقابلے میں 45 پوائنٹس سے جیت لیا۔

میچ کے بعد پاکستانی کپتان شفیق چشتی نے کہا کہ ہمارے ساتھ ناانصافی ہوئی اور جانبدارانہ امپائرنگ کرکے ہمیں جان بوجھ کر ہرایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو جتوانے کے لئے میچ وقت سے پہلے ختم کردیا گیا، میچ کے دوران ہمیں پینے کے لئے پانی بھی نہیں دیا اور بھارتی ٹیم کو جتوانے کے لئے امپائرز نے پاکستانی کھلاڑیوں کو پوائنٹ نہ دینے کی دھمکیاں دیں جبکہ تھرڈ امپائر کی جانب سے بھی دھمکیاں دی گئیں۔ شفیق چشتی کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی ٹیم کو جتوانے کے لئے ایونٹ کراتا ہے اور جانبدارانہ فیصلے ہوئے تو آئندہ کبھی بھارت نہیں آئیں گے۔
مکمل تحریر >>

Thursday, December 18, 2014

دھرتی کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کا وقت آ پہنچا، شہبازشریف

پشاور میں پیش آنے والے دہشت گردی کے بدترین واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے، شہبازشریف

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کا کہنا ہے کہ وطن عزیز کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔

ایوان وزیر اعلیٰ لاہور میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی زیرصدارت صوبے میں امن و امان سے متعلق اجلاس ہوا جس میں صوبے میں امن عامہ کی مجموعی صورتحال اور تعلیمی اداروں میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کرنے کے حوالے سے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران سانحہ پشاورمیں شہید ہونے والے معصوم بچوں اور اساتذہ کے درجات کی بلندی کے لئے خصوصی دعا کی گئی ،اجلاس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان نے بھی شرکت کی جب کہ سیکرٹری داخلہ اور انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب نے وزیر اعلیٰ پنجاب کو امن وامان کی صورت حال کے حوالے سے بریفنگ دی۔

اس موقع پر شہبازشریف کا کہنا تھا کہ پشاور میں پیش آنے والے دہشت گردی کے بدترین واقعے پر ہر آنکھ اشکبار ہے، سفاک درندے اور ان کے سرپرست عبرتناک سزا کے مستحق ہیں، ملک کے 18 کروڑ عوام دہشت گردوں کا سر کچلنے کے لئے پرعزم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھرتی کو دہشت گردوں کے ناپاک وجود سے پاک کرنے کا وقت آ پہنچا ہے، صوبائی حکومت نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے پہلے بھی وسائل فراہم کئے اور آئندہ بھی دیں گے۔
مکمل تحریر >>

یکم جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 12 روپے تک کمی کا امکان


 یکم جنوری سے پیٹرول 10 روپے 15 پیسے ، ہائی اوکٹین 12 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے فی لیٹرمزید سستا ہوجائے گا.

اسلام آباد: عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی کے باعث یکم جنوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیتموں میں 12 روپے تک کمی کا امکان ہے۔

نیوز کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کے باعث حکومت نے بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت یکم جنوری سے پیٹرول 10 روپے 15 پیسے ، ہائی اوکٹین 12 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 6 روپے فی لیٹرمزید سستا ہوجائے گا جب کہ لائٹ ڈیزل اورمٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 5 روپے فی لیٹر کمی کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مسلسل کمی کے باعث موجودہ قیمت گزشتہ 5 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جس کے باعث حکومت کی جانب سے بھی گزشتہ 2 ماہ کے دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کی گئی جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 2008 کی سطح پر پہنچ گئی۔
مکمل تحریر >>

Ads

Google Translator

Blogger Tips And Tricks|Latest Tips For BloggersFree BacklinksBlogger Tips And Tricks
English French German Spain Italian Dutch Russian Portuguese Japanese Korean Arabic Chinese Simplified
Powered By google

BidVertiser