Thursday, March 26, 2015

گجرات: وڈیروں نے معمولی تنازع پر 17 سالہ نوجوان زندہ دفن کر دیا



گجرات میں بااثر وڈیروں نے ظلم کی انتہاء کر دی۔ ایم پی تھری واپس مانگنے پر زمیندار کے بیٹوں نے 17 سالہ نوجوان کو پہلے چھریوں اور ڈنڈوں سے لہولہان کیا، پھر زندہ دفن کر دیا۔ ملزم گرفتار نہ ہونے پر مقتول کے ورثاء سڑکوں پر نکل آئے۔

گجرات: (دنیا نیوز) ہنجرا نامی گاؤں کے رہائشی سترہ سالہ ارسلان کا جرم صرف یہ تھا کہ اس نے اپنی ایم پی تھری واپس مانگی لیکن بااثر وڈیرے انسانیت ہی بھول گئے۔ زمیندار قیصر نے پہلے بیٹوں سے مل کر ارسلان کو تشدد کا نشانہ بنایا، چھریاں ماریں اور پھر لہولہان کرکے زندہ دفن کر دیا۔ نوجوان کے لواحقین کو اسے زندہ دفن کرنے کا علم دس گھنٹے بعد ہوا لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ گڑھے سے لاش نکالی گئی تو ہر طرف کہرام مچ گیا۔ ارسلان کے ورثاء نے احتجاج کرتے ہوئے جمال پور سیداں روڈ پر ٹریفک بلاک کر دی۔ احتجاج میں شریک خواتین نے سینہ کوبی بھی کی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے نوجوان کو زندہ دفن کرنے کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او گجرات سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور مجرموں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیا ہے۔ دنیا نیوز کی خبر پر ایکشن لیتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مجرموں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
مکمل تحریر >>

Sunday, March 22, 2015

نیند سے پہلے…

 
ہم سب سونے سے پہلے کچھ نہ کچھ ضرور سوچتے ہیں، کچھ لوگ آنے والے کل کے بارے میں اور کچھ لوگ گزرے ہوئے کل کے بارے میں اور کچھ لوگ اب تک کی کامیابیوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ولیم ورڈز ورتھ نے کہا تھا کہ اگر نیند نہ آئے تو بھیڑوں کے بڑے بڑے ریوڑ ذہن میں لاؤ اور پھر انہیں گنتے جایا کرو اور اسی گنتی میں آپ کو نیند آجائے گی۔ کوئی شاعر پھول کا تصور ذہن میں لانے کے لیے کہتا ہے اور بچپن میں دادی اماں کہا کرتی تھیں کہ بیٹا سونے سے پہلے آیت الکرسی پڑھ لیا کرو تاکہ ڈراؤنے خواب نہ آئیں۔

جن لوگوں کو نیند نہیں آتی وہ رات کو گہری نیند سوئے ہوئے لوگوں کے خراٹے سن کر رشک کرتے ہیں کہ سونے والے کتنے خوش نصیب ہیں اور انہیں اس بات کا ملال ہوتا ہے کہ سونے والوں کے خراٹوں سے ان کی نیند اڑ رہی ہوتی ہے۔ چوبیس گھنٹوں میں کم از کم آٹھ گھنٹے کی نیند ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے، لیکن زیادہ پریشان اور بے چین رہنے والے لوگوں کو نیند کم آتی ہے اور اکثر ان کو سونے کیلئے دوا کا سہارا لینا پڑتا ہے، جبکہ جسمانی مشقت کرنے والے اور ٹھنڈے دماغ کے لوگوں کو باآسانی نیند آجاتی ہے اور ان کو سونے کیلئے دوا کا سہارا بھی نہیں لینا پڑتا۔ سوال اس وقت نیند کا نہیں بلکہ نیند سے پہلے کا ہے، جب ہم بستر پر لیٹ کر سونے کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں۔

یاد رکھیے! اس وقت کی سوچ آپ کی آنے والی نیند کی بنیاد بنتی ہے اور آپ کے اگلے آٹھ گھنٹے کیسے گزریں گے اسی وقت ان کی شکل واضح ہوتی ہے۔ سونے سے پہلے آپ کے سوچنے کے انداز کا اثر آپ کی شخصیت پر بہت گہرا پڑتا ہے۔

یاد رکھیے! سونے سے پہلے آپ کا شعور جاگ رہا ہوتا ہے اور آپ کی ہر حرکت، ہر سوچ اور ہر فیصلہ شعوری طور پر کیا جا رہا ہوتا ہے لیکن جب آپ سو جاتے ہیں تو لاشعور جاگ جاتا ہے، اصل میں جاگا ہوا تو وہ پہلے سے ہی ہوتا ہے لیکن الرٹ ہوجاتا ہے اور پھر نیند کے دوران آپ کی حرکات اور سوچ وغیرہ لاشعور کے زیر اثر ہی ہوتی ہیں۔ سونے سے چند لمحے پہلے اگر آپ کا شعور یعنی آپ خود اپنے لاشعور کے ذمے کوئی کام لگادیں، مثلاً آپ کسی کشمکش میں ہیں اور فیصلہ نہیں ہورہا ہے کہ کیا کریں؟ یا اس سے ملتا جلتا کوئی اور فیصلہ، تو آپ کا لاشعور رات بھر اس مشن پر کام کرتا رہے گا اور جب آپ بیدار ہوں تو جو خیال سب سے پہلے آپ کے دماغ میں آئے گا وہ لاشعور ہی کی طرف سے بھیجا ہوا پیغام ہوگا اور یقین کیجئے کہ یہ مشورہ کبھی بھی غلط نہیں ہوتا۔

اصل میں ہمارا شعور تو صرف زمان و مکان کی حدود میں موجود چیزوں کو اپنے مشاہدے کی بنا پر جانچ سکتا ہے، لیکن لاشعور حدود و قیود سے آزاد ہوتا ہے، آپ کا لاشعور زمان و مکان سے بالا، کائناتی اور آفاقی قوانین سے آگاہ ایک ایسا علم ہے جس میں خطا کی گنجائش ہی نہیں ہوتی۔ آپ جب بھی اپنے بارے میں کوئی رائے لینا چاہیں یا کوئی فیصلہ کرنا چاہیں تو اپنے لاشعور کو سونے سے پہلے ضرور آزمائیے، ہوسکتا ہے کہ آپ کو دوسرے دن کوئی اشارہ نہ ملے، لیکن جلد ہی ٹھیک جواب ضرور ملے گا۔ اور جب آپ کو ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو تو پھر سونے سے پہلے آپ کو کیا سوچنا چاہیے؟

ہم سب کی زندگیوں میں اچھے لمحے اور خوبصورت یادیں ضرور گزری ہوتی ہیں، جن میں سے کچھ یاد گار لمحے ادھورے بھی رہ جاتے ہیں، ہماری یادوں کی کینوس پر بہت سی خوبصورت تصویریں بھی بنی ہوئی ہوتی ہیں۔ جن میں کئی ایسی بھی ہوتی ہیں جن میں ہم رنگ بھرنا بھول چکے ہوں یا چاہتے ہوئے بھی رنگ نہیں بھرسکے ہوں، کچھ ان سنی آوازیں بھی ضرور ہوتی ہیں جو شاید کسی نے کہی بھی ہوں لیکن ہم سن نہ سکے ہوں۔ رات کو سونے سے پہلے کبھی ان بے رنگ تصویروں میں رنگ بھرا کریں، کبھی ان سنی آوازوں میں لفظ تلاش کیا کریں، کبھی ان ادھورے لمحوں کو مکمل کرکے ضرور دیکھا کریں اور کبھی کبھی اپنے تخیل میں خود کو تراش لیا کریں۔

اس کے بعد جب آپ کو نیند آئے گی تو اس دوران آپ کے جسم اور روح دونوں کے لیے یہ طبی، جسمانی اور روحانی طور پر بہت مفید ہوگی۔ آپ کے دل کی دھڑکن سے لے کر سانسوں کی رفتار اور خون کا فشار آپ کے جسم کو بہتر اور تندرست بنائے گا۔

اگر کبھی آپ واقعی بہت پریشان ہوں، ظاہر ہے دنیا میں ہرآدمی کبھی نہ کبھی پریشان تو ہوتا ہے اور ایسی حالت میں نیند ہی نہیں آتی اور انسان صرف انہی پریشانیوں کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسی صورت حال میں ہوں تو جب تک آپ کو بہت زیادہ گہری نیند نہ آئے تب تک آپ باقاعدہ جاگتے رہیں، بستر پر لیٹ کر کروٹیں بدلنے کا کوئی فائدہ نہیں بلکہ کسی اپنے سے اپنی اس پریشانی کا ذکر (Discuss) کریں اور اس مسئلے پر باتیں کرتے رہیں۔ یا خود کو اپنی اس پریشانی کا حل نکالنے میں مصروف رکھیں، یہاں تک کہ آپ اس قدر تھک جائیں کہ بستر پر لیٹتے ہی نیند آجائے۔ طبی نقطہ نظر میں ایسی پریشانی کی حالت میں بے خوابی سے بہت بہتر ہے کہ آپ کچھ دنوں کے لیے نیند کی دوا لے لیں، یاد رکھیں جب تک آپ کی نیند پوری نہیں ہوگی آپ کا اگلا دن اچھا نہیں گزرے گا۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, March 11, 2015

برطانوی جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد کیوں زیادہ ہے؟

برطانیہ کی جیل

یہ ایک راز ہے۔
کیوں جیلوں میں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے؟
سنہ 2002 میں انگلینڈ اور ویلز قید 5,502 قیدیوں نے کہا تھا کہ وہ مسلمان ہیں۔
تین سال بعد یہ تعداد بڑھ کر 7,246 ہو گئی اور اب دسمبر 2014 میں یہ 12,225 بتائی جا رہی ہے۔
ٹھیک ہے قیدیوں کی مجموعی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یہ تعداد 2002 میں 70,778 تھی جو کہ گزشتہ دسمبر تک بڑھ کر 84,691 ہو گئی تھی۔
لیکن جیلوں میں قیدیوں کی 20 فیصد بڑھنے والی تعداد مسلمان قیدیوں کی تعداد سے کہیں کم ہے جو کہ 122 فیصد بڑھی ہے۔
اس کی ایک ممکنہ وضاحت تو یہ ہو سکتی ہے کہ مسلمانوں کی مجموعی آبادی بھی بڑھی ہے۔ سنہ 2001 کی مردم شماری میں انگلینڈ اور ویلز میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا تین فیصد تھی جو کہ تقریباً 1.5 ملین بنتی تھی۔
سنہ 2011 میں یہ تعداد بڑھ کر 4.8 فیصد یعنی 2.7 ملین ہو گئی۔ سو آپ کہیں گے کہ اسی تناسب سے جیلوں میں بھی قیدیوں کی تعداد بڑھی۔
لیکن اگر دیکھا جائے تو جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے۔ اب جیلوں میں مسلمان قیدیوں کا تناسب 14.4 فیصد ہے جو کہ 2002 میں 7.7 فیصد تھا۔
دہشت گردی پر میڈیا کی توجہ سے لگے گا کہ جیلوں میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کا تعلق اسلامی دہشت گردوں کو دی جانے والی سزاؤں سے ہے۔
لیکن اعداد و شمار یہ نہیں بتاتے۔
وزارتِ انصاف کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ اکتوبر 2012 سے لے کر جنوری 2015 تک 178 قیدیوں میں سے 104 مسلمان قیدی دہشت گردی جیسے جرائم کی وجہ سے قید ہیں جن کا محرک انتہا پسندانہ نظریات ہیں۔ یہ تعداد مسلمانوں کی کل آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔
ایک اور عنصر جو بتایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ غیر ملکی قیدیوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ جو کہ گزشتہ برس 10,500 تھی۔

وزارتِ انصاف کے 2013 کے ایک تجزیے کے مطابق مسلمان قیدیوں میں سے 30 فیصد برطانوی شہری نہیں۔ گزشتہ برس 10 غیر ملکی قیدیوں میں سب سے نمایاں دو مسلمان ممالک میں سے تھے: پاکستانی (522) اور صومالی (417) تھے۔
اس سے اس نظریے کو تقویت ملتی ہے کہ برطانیہ کی نسلی گروہ اور آبادی کی ہییت بدل چکی ہے جس کی وجہ امیگریشن میں اضافہ، بیرون ممالک سے سفر، اور غیر ملکی ماؤں کے بچے ہیں۔ اس لیے جیل کی آْبادی بھی بدل چکی ہے جس میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔
لیکن اس کے کچھ پسِ پردہ پہلو بھی ہیں۔
سنہ 2010 میں اس وقت کی چیف انسپکٹر آف پرزن ڈیم این نے جیل میں مسلمانوں پر ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں انھوں نے جیل میں مسلمانوں کی تعداد کا تعلق عمر اور معاشی اور اقتصادی پروفائل سے جوڑا تھا۔
انھوں نے کہا تھا کہ ’برطانیہ میں زیادہ تر مسلمان قیدیوں کی عمریں غیر مسلموں سے کم ہیں اور زیادہ تر نچلے درجے کے سماجی اور اقتصادی گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
گزشتہ برس 58 فیصد مسلمان قیدی 30 سال یا اس سے کم عمر کے تھے۔
گزشتہ برس ایک اہم رپورٹ میں ہورنسے ریچڈ کی لیڈی لولا ینگ نے بھی رپورٹ میں کہا تھا کہ اس بات کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ انھیں روکا جائے اور ان کی تلاشی لی جائے، اور اس کے بھی زیادہ امکانات ہیں کہ وہ رحم کی اپیل نہ کریں اور ان پر مقدمہ چلے۔
’یہ عدم مساوات ملازمت، صحت اور سماجی برابری نہ ہونے کے ایک پیچدہ مرکب کا حصہ ہے جو ان کی زندگیوں پر اثر کرتا ہے۔‘
لیکن ان کی تحقیق سے ایک اور پریشان کن بات بھی سامنے آتی ہے اور وہ امتیازی سلوک ہے۔ اس کے مطابق پالیسی بنانے والے اور سیاستدانوں کو ابھی منفی سٹیریوٹائپنگ اور ثقافتی فرق کا اثر صحیح طرح سمجھ نہیں آیا۔
لیڈی ینگ نے کہا کہ ’ہم جن قیدیوں کو ملے ان میں سے سبھی نے کہا کہ ان کی نسل، قومیت اور عقیدے کی وجہ سے ان سے امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔‘
’سیاہ فام قیدی محسوس کرتے ہیں کہ انھیں منشیات فروش سمجھا جاتا ہے اور مسلمانوں کو دہشت گرد۔‘
یہ بھی قابلِ ذکر بات ہے کہ جیل میں ایک مرتبہ رہا ہو کر دوبارہ جرم کر کے سزا پانے والے مسلمان قیدیوں کا تناسب دوسرے قیدیوں سے بہت کم ہے

مکمل تحریر >>

17 لاکھ کی گھڑی جو ’رولیکس نہیں ہے‘

 
 
ایپل کے سربراہ ٹم کک نے گذشتہ برس ایپل کی سمارٹ واچ کی جھلکیاں دکھائی تھیں، لیکن اس کے باوجود اس گھڑی کے بارے میں کئی سوال جواب طلب تھے۔
سب سے بڑا یہ سوال تھا کہ آخر یہ کرے گی کیا؟
پیر کو ایک تقریب میں ٹم کک نے اسی بنیادی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی، تاہم کچھ لوگ اس سے مطمئن ہوئے، کچھ نہیں ہوئے۔ جب کہ اسی دوران انٹرنیٹ پر مختلف ویب سائٹوں پر لوگوں نے رنگارنگ ردِعمل کا اظہار کیا۔
ذیل میں اسی کا انتخاب پیش کیا جا رہا ہے:
اداکارہ اینا کینڈرک:
ہمیں ایپل کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اس نے دس ہزار ڈالر کی گھڑی متعارف کروائی ہے۔ اس سے ہمیں ذلیل انسانوں کو پہچاننے میں مدد ملے گی۔
معیشت دان جوزف بروسوئلس:
ایپل واچ سٹیو جاب کے لیزا کمپیوٹر کی مانند ہے۔ اس کا خیال برا ہے، پیش کش بری ہے، اور یہ اسی راستے پر جائے گی جس پر گوگل گلاس گیا ہے۔
صارف جے ڈی فلین (ریڈ اٹ پر):
دس ہزار ڈالر کی گھڑی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن ایپل واچ مختلف ہے۔ یہ رولیکس نہیں ہے۔ ایک سال بعد یہ متروک ہو جائے گی، اور دس سال بعد یہ آن تک نہیں ہو گی کیوں کہ اس کی بیٹری مر چکی ہو گی۔
ایپل واچ کے درجنوں ڈیزائن دستیاب ہیں
صارف لیورلاف لو ریوینج (ریڈ اٹ پر):
مجھے امید تھی کہ ایپل کوئی اچھی چیز پیش کرے گی، کوئی ایسی چیز کو ٹیکنالوجی کو آگے بڑھائے۔ لیکن نہیں۔ اس کی بجائے انھوں نے اسے سٹیٹس سمبل بنانے کی کوشش کی ہے۔
صارف ڈین کولاسینٹی (ٹوئٹر پر):
جو لوگ 18 قیراط سونے کی 17 ہزار ڈالر والی گھڑی کا رونا رو رہے ہیں، ان کے لیے پیغام: یہ گھڑی تمھارے لیے نہیں ہے۔ اس لیے یہ برداشت کرو۔
صارف آئی پیڈرو (میک رومرز):
18 گھنٹے کی بیٹری مناسب ہے۔ آپ دن میں کتنے گھنٹے جاگتے ہیں؟
مصنف میتھیو انگریم:
17 ہزار ڈالر والی گھڑی زیادہ توجہ کا مرکز بن رہی ہے لیکن میرے خیال سے 349 ڈالر والی گھڑی خاصی مناسب ہے۔
بزنس انسائیڈر:
میں نے جب یہ ڈیمو دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ بالکل آئی فون کی طرح ہے۔ اس میں کوئی واحد ایسی چیز نہیں تھی جو مجھے قائل کر سکے۔ لیکن چھوٹی چھوٹی مختلف چیزیں جمع ہوتی گئیں۔
مکمل تحریر >>

تین افراد کو قتل کرنے والے گارڈ کو پھانسی دے دی گئی

 
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ڈسٹرکٹ جیل میں تین افراد کے قتل کے مجرم محمد صدیق کو پھانسی دے دی گئی۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ڈسٹرکٹ جیل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ محمد صدیق کو بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے پھانسی دی گئی اور ان کی لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی ہے۔

محمد صدیق ایک ریٹائرڈ فوجی تھے اور مقامی سینما میں سکیورٹی گارڈ کی ڈیوٹی دیتے تھے۔ انھوں نے 2004 میں سینما کی حدود میں تین افراد کو قتل کیا تھا۔

تھانہ کمالیہ میں نائب محرر محمد الیاس کے مطابق محمد صدیق نے مقامی سینما میں سٹیج ڈرامے کے دوران گانے پر رقص کرتے ہوئے افراد پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ فائرنگ کی زد میں آنے والے متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے تین افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

بعد ازاں محمد صدیق نے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ انھوں نے لڑکوں کو اس لیے قتل کیا کیونکہ وہ وہاں موجود ایک لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے۔

محمد صدیق ساڑھے دس سال سے قید میں تھے اور ان پر اقدام قتل کی دفعہ 324/ 302 اور دہشت گردی کی دفعہ سیون اے ٹی اے کے تحت مقدمہ چلایا گیاتھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیلیں مسترد ہوئی جس کے بعد پاکستان کے صدر نے ان کی رحم کی اپیل بھی مسترد کر دی تھی۔

یاد رہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت نےدو روز قبل ہی ملک بھر میں سزائے موت پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی ہے کہ اس سزا پر عمل کیا جائے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے چاروں صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ وہ تمام مقدمات جن میں سزائے موت پانے والے مجرموں کی تمام اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں ان کی سزاؤں پر قانون کے مطابق عمل کیا جائے۔
مکمل تحریر >>

Sunday, March 1, 2015

InPage 2014 Khattat Professional

 urdu InPage 2014 Khattat Professional
ان پیج اردو، فارسی، پشتو، سندھی، عربی اور دیگر عربی رسم الخط کی حامل زبانیں لکھنے اور صفحات کی تزئین و آرائش کا ایک مصنح لطیف (سافٹ وئیر) ہے جس کا پہلا نسخہ 1994ء میں جاری ہوا۔ اسے بھارت کے کانسپٹ سافٹ وئیر نے تخلیق کیا ہے اور یہ صرف مائکروسافٹ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لیے جاری کیا جاتا ہے۔ ان پیج خاص طور پر اردو زبان کے نستعلیق رسم الخط لکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے نیچے ڈاؤن لوڈ  پر کلک کریں
http://www.mediafire.com/download/k99lqmcrkzylcv1/InPage2014+Khattat+Professional%282%29.rar
مکمل تحریر >>

حیرت انگیز سائیکل جو کار کی رفتار سے چلے…!

سائیکل کے پیڈل اگر درمیانی رفتار سے بھی گھما ئیں تو 48کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہےفوٹو : فائل

واشنگٹن: سائیکل ایسی شاندار سواری ہے کہ کوئی دوسری سواری قیمت اور استعمال کی آسانی میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

اس کا ایک ہی مسئلہ اس کی کم رفتار ہے مگر اب امریکی موجد نے یہ مسئلہ بھی حل کر دیا ہے اور رفتار میں بھی اس سواری کو کار کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔ منی آپلس سے تعلق رکھنے والے رچ کرو نفیلڈ نی ایک ایسی سائیکل تیار کر لی ہے کہ جس کی رفتار 160کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ اس حیرت انگیز سائیکل کا نام Raht Racerہے اور اس میں پیڈل ہائبرڈ ٹیکنالوجی استعمال کی گئی ہے۔ اس کے پیڈل ایک چھوٹے جنریٹر سے جڑے ہیں اور یہ جنریٹر 20KWhکی ایک موٹر کو چلاتا ہے۔ موٹر کو کرنٹ ایک لیتھیم آئن بیٹری کے ڈریعے فراہم ہوتا ہے جسے جنریٹر چارج کرتا ہے۔
سائیکل سوار کو محض پیڈل گھمانے ہوں گے اور یہ آسامان سے باتیں کرے گی۔ اس انقلابی سائیکل کے موجد کا کہنا ہے کہ اگر درمیانی رفتار سے بھی پیڈل گھمائے جائیں تو بھی رفتار 48کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتی ہے۔ سائیکل کی شکل خلائی گاڑی جیسی ہے اور اس کے تین پہیے ہیں۔ سوار کو مکمل طور پر کاربن فائبر کے بنے خول کے اندر ہو گا۔ اس میں دو سیٹیں ہیں اور کْل وزن تقریباً 260کلو گرام ہے۔ اس کی قیمت تقریباً 35ہزار ڈالر (تقریباً 35لاکھ پاکستانی روپے ) ہے۔
مکمل تحریر >>

کارگل جنگ میں پہلا راکٹ میں نے اپنے ہاتھوں سے فائر کیا:حافظ سعید

 
؎؎لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) جماعت الدعوة کے امیر حافظ محمد سعید نے انکشاف کیا ہے کہ کارگل کی جنگ میں بھارت کے زیر قبضہ چوٹیوں پر سب سے پہلا راکٹ انہوں نے چلایا تھا اور وہ پہلی بار یہ بات منظر عام پر لا رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایک مقامی ہوٹل میں سینئر کالم نگار اسد اللہ غالب کے کالموں کے مجموعے ”اے وطن کے سجیلے جوانوں“ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں سابق گورنر پنجاب لیفٹیننٹ جنرل(ر) خالد مقبول، میجر جنرل (ر) غلام مصطفی اور رکن قومی اسمبلی اعجاز الحق نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید کا کہنا تھا کہ وہ بھارت کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں اور کشمیر کو آزاد کرائے بغیر پاکستانی قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف دونوں شریف ہے اور ایک ہو کر قومی بقاءکی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ ان کا ایک ہونا کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں اور دہشت گردی کی شدید مذمت بھی کی۔
مکمل تحریر >>

لولی لنگڑی ہی سہی لیکن پیشرفت تو ہوئی

 
پاکستان اپنی تمام تر ناکامیوں، خامیوں، کمزوریوں، کوتاہیوں اور غلطیوں کے باوجود کسی نہ کسی طرح زمبابوے کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے، ایک ایسے مرحلے سے کہ جہاں خود اس کے پرستاروں کو یقین نہیں آ رہا۔

مقابلے کے آغاز ہی میں صرف چار رنز پر دو وکٹوں سےمحروم ہوجانا ہی ظاہر کرنے کے لیے کافی تھا کہ کھلاڑی سخت دباؤ میں کھیل رہے ہیں، بے جا توقعات کا دباؤ کہ جو ٹیم 13 میں سے صرف دو مقابلے جیتی ہو، اس سے ورلڈ کپ جیتنے کی توقع کرنا ایسا ہی ہے جیسے سیب کے درخت سے کیلا اگنے کی امیدیں۔ بہرحال، اس نازک مرحلے پر کچھ کام مصباح الحق کی 73 رنز کی دفاعی اننگز نے دکھایا اور کچھ  وہاب ریاض کی 54 رنز کی تیز رفتار باری نے، پاکستان گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح 235 رنز تک پہنچ گیا۔
اگر عالمی کپ 2015ء میں زمبابوے کی اب تک کی کارکردگی دیکھیں تو 236 رنز کا ہدف کچھ بھی نہیں تھا۔ جنوبی افریقہ کے بہترین باؤلنگ اٹیک کے خلاف 277 رنز بنانے کے بعد زمبابوے نے ویسٹ انڈیز کے مقابلے میں 289 رنز بنائے تھے۔ لیکن پاکستان کے گیند بازوں نے آج اپنی صلاحیت و اہلیت سے بڑھ کر کارکردگی دکھائی۔
جب زمبابوے اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد تیسری اور چوتھی وکٹ پر 100 سے زیادہ رنز بنا چکا تھا تو امید کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگا تھا۔ جب وہاب ریاض نے برینڈن ٹیلر کو آؤٹ کیا تو کچھ کچھ اور کچھ دیر بعد راحت علی کے ہاتھوں شان ولیمز کی وکٹ گرنے سے امیدیں مضبوط تر ہوتی چلی گئیں۔ یہاں تک کہ پاکستان نے زمبابوے کو 215 رنز پر ڈھیر کردیا اور عالمی کپ میں پہلی کامیابی حاصل کرلی۔
گزشتہ مقابلوں میں بھارت اور پھر ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں مایوس کن شکست کے بعد کیا یہ جیت پاکستان کے عالمی کپ میں سفر کو دوبارہ پٹری پر لے آئے گی؟ ہاں، اگر پاکستان متحدہ عرب امارا ت کے خلاف اپنا اگلا مقابلہ اچھی طرح جیتے تو جنوبی افریقہ کے خلاف اہم مقابلے سے پہلے ٹوٹے پھوٹے حوصلے مجتمع ہوسکتے ہیں۔
دراصل پاکستان کی عالمی کپ مہم شاید اتنی مشکل نہ ہوتی اگر پاکستان ویسٹ انڈیز کے ہاتھوں شکست نہ کھاتا۔ یہ مقابلہ پاکستان کو ہر گز نہیں ہارنا چاہیے تھا۔ وہ ویسٹ انڈیز جو آئرلینڈ کے خلاف اپنا پہلا مقابلہ ہار گیا تھا، پاکستان نے اس سے 310 رنز کھائے اور پھر خود 160 رنز پر ڈھیر ہوگیا یعنی اپنی موت کا سامان آپ کیا۔ اب عالمی کپ کے کوارٹر فائنل تک رسائی کے لیے پاکستان کے پاس سیدھا سا نسخہ یہ ہے کہ وہ آنے والے مقابلوں میں متحدہ عرب امارات اور آئرلینڈ کے ساتھ ساتھ جنوبی افریقہ کو بھی شکست دے۔ تبھی اس کے پوائنٹس کی تعداد 8 ہوجائے گی اور وہ کوارٹر فائنل تک پہنچ جائے گا، بصورت دیگر ایک مرتبہ پھر دیگر ٹیموں کی فتوحات اور شکستوں کی دعائیں ہوں گی، نیٹ رن ریٹ کے حساب کتاب کے لیے کیلکولیٹرز نکلیں گے اور تب کہیں جا کر کوئی سبیل پیدا ہوگی۔
ویسے جنوبی افریقہ کی حالیہ کارکردگی دیکھیں تو اس کا پاکستان کے ہاتھوں شکست کھانا تقریباً ناممکنات میں سے دکھائی دیتا ہے۔ ویسٹ انڈیز کے خلاف گزشتہ مقابلے میں جس طرح جنوبی افریقہ نے 408 رنز بنائے ہیں، ان کے کپتان ڈی ولیئرز نے دھواں دار بیٹنگ کی ہے اور 257 رنز کے ریکارڈ مارجن سے کامیابی حاصل کی ہے، اس سے ایسا نہیں لگتا کہ وہ پاکستان کو جیت کا موقع دے گا لیکن پھر بھی پاکستان کے بارے میں پیش گوئی کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ 7 مارچ کو آکلینڈ میں جیت پاکستان کے نام ہو۔ ہاں، اگر ایسا نہیں ہوسکا تو اپنی جائے نمازیں تیار رکھیں۔
مکمل تحریر >>

بندہ ٹھوکریں کھا کھا کر ہی ٹھاکُر بنتا ہے

 
دو مبارکبادیں، پہلے تو قوم کو فتح مبارک ہو کہ بلآخر کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے اور پاکستان جیت گیا جبکہ دوسری مبارکباد اِس بات پر کہ اِس میچ میں پاکستان کی پوری ٹیم آوٹ نہیں ہوئی۔
اگرچہ گزشتہ دو میچوں کی شکست کی وجہ سے اِس جیت کا مزہ کچھ کِرکِرا سا ہورہا ہے لیکن یہی بہت ہے کہ کم ازکم ورلڈ کپ میں ہم وائٹ واش ہونے سے تو بچ گئے۔ آج کے دن شاہد آفریدی کی سالگرہ بھی تھی جس پر شاہد بھائی نے صفر پر آوٹ پوری قوم کو انڈے کا تحفہ دینے کا شاندر مظاہرہ کیا۔ یہ بات الگ ہے کہ ہمارے اوپنرز نے اِس میچ میں بھی پاکستان کی کمر توڑنے کی بھرپور کوشش کی تھی لیکن کپتان مصباح الحق اور وہاب رہاض نے بالترتیب سب سے زیادہ 73 اور 54 رنز بناکر ٹیم کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔
ٹیم کی گزشتہ کارکردگی کی وجہ سے قوم کو اس میچ میں فتح کی کوئی بہت اُمید نہیں تھی لیکن بہرحال وہ کہنے ہیں نا کہ ’’ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے‘‘ کے مصداق مایوسیوں اور ناامیدوں کے اندھیروں میں چراغ جلانا ہم پاکستانیوں کا پرانا وطیرہ ہے۔ جب دنیا کو لگتا ہے کہ ہم گرنے والے ہیں تب ہم ایسے سنبھلتے ہیں کہ ہواوں کے رُخ موڑ دیا کرتے ہیں۔ کیا ہوا ہم پہلے دو میچ ہار گئے کیونکہ بندہ ٹھوکریں کھا کھا کر ہی ٹھاکُر بنتا ہے۔
لیکن سوال یہ بھی ہے کہ آج کا میچ جیتنے کے بعد پاکستانی قوم ماضی کے سارے رونے چھوڑ کر پھر سے کھلاڑیوں کی پوجا شروع کردے گی؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہمارا میڈیا اور خاص طور پر مختلف چینلز پر بیٹھے کرکٹ کے نجومی پھر سے اس ٹیم کی تعریفوں میں زمین و آسمان کے وہ قلابے ملائیں گے کہ پوری قوم ایک ہیجان میں مبتلا ہوکر اگلے میچز دیکھے گی اور پھر خدانخواستہ میچ ہار گئے تو دوبارہ اپنی اصلیت پر آجائینگے؟
آخر ہم کب حقائق سے نظریں ملانا سیکھیں گے؟ آج کی جیت کے باوجود میں یہ کہنا چاہوں گا کہ اسوقت پاکستانی کرکٹ میں انقلابی تبدیلیاں ناگزیر ہوچکی ہیں۔ جن میں سب سے پہلے تو ہمیں بزرگ کھلاڑیوں سے جان چھڑانی ہوگی۔ درحقیقت کھیل تو نوجوانوں کا کام ہوتا ہے لیکن ہم نے کرکٹ کو نہ صرف بزرگوں کا کھیل بنادیا ہے بلکہ سیاست کی بھی نذر کردیا ہے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے ہم ایک نئی ٹیم تلاش کریں جو محض خود کے لیے پیسہ کمانے کے بجائے اور ملک کے لیے کچھ کرگزرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو اشتہارات میں کام کرنے سے زیادہ اپنے کھیل پر توجہ دیں۔ ہمارے شاہد آفریدی آپکو بیسیوں ٹی وی کمرشلز میں تو جگمگاتے نظر آئیں گے مگر انہوں نے ورلڈ کپ کے لیے کتنی تیاری کی اور پریکٹس میں کتنا وقت گزارا؟ ورلڈ کپ میں شامل ٹیموں میں موجود نئے کھلاڑیوں اور اُنکے کھیلنے کے اسٹائل پر کتنی تحقیق کی؟ اِس بارے میں کوئی خبر نہیں ملے گی۔ ہمارے ہاں چھوٹے معصوم بچوں سے لے کر بوڑھے تک کتنے ارمانوں سے سب کام چھوڑ کر میچ دیکھتے ہیں لیکن جب شرمناک نتائج نکلتے ہیں تو بہت سے نازک دل ٹوٹ جاتے ہیں۔ اسوقت پاکستان کو بھی ’’ڈی ویلئر‘‘ جیسے کھلاڑیوں اور جذبے کی ضرورت ہے۔ اُسکے پروفیشنلزم کا یہ حال ہے کہ مسلسل آٹھ ڈبل رنز لے کر اُس کی حالت غیر ہوتی محسوس بھی ہوئی تو اُس نے صرف پانی منگوایا اور پھر اپنے کام میں لگ گیا جبکہ ہمارے ہاں ایڑھی پر معمولی چوٹ بھی لگ جائے تو میچ چھوڑ دیتے ہیں۔
ویسٹ انڈیز کے خلاف ڈی ویلئر نے 66 گیندوں پر 162 رنز کی طوفانی اننگ کھیلی ہے جبکہ ہمارا کپتان 91 بالز پر 50 اسکور بناتا ہے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک ٹیم کی تیاری پر قوم کا کڑوڑوں روپیہ سالانہ خرچ ہوتا ہے تو یہ سب اس لیے نہیں کیا جاتا کہ کھلاڑی پوری قوم کی ناک کٹوا کر واپس آجائیں۔ ٹھیک ہے آپ ہار بھی گئے ہیں تو کم ازکم لگے تو سہی کہ محنت کرکے ہارے ہیں ۔
اب ہونا تو یہ چائیے کہ آج کی فتح کے بعد ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے لیکن میں اس لیے نہیں کررہا کیونکہ میں حقیقت پسند ہوں میں نہیں چاہتا کہ آج ٹیم کی تعریفوں میں زمین و آسمان ایک کردوں اور کل پھر اسے گالیاں دے رہا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ ٹیم پاکستان ایک دو میچ جیت کر کواٹر فائنل میں پہنچ جائے اور پھر وہاں سے جب ٹیم ہار کر واپس آئے تو پاکستان کی کرکٹ کو تباہی کے دہانے پر پہنچانے والی کالی بھیڑوں کو ایک بار پھر اپنی نوکریاں بچانے کا موقع مل جائے۔
ایک آدھ میچ معجزے سے جیت جانا کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ معجزے بھی روز نہیں ہوتے۔ لہذا کھیل ہو یا جنگ جیت ہمیشہ اسکی کی ہوتی ہے جو تیاری کرتا ہے، اپنا ہوم ورک مکمل کرتا ہے، دشمن کی صلاحیتوں اور طریقہ کار کو سمجھتا ہے اور پھر پوری لگن اور ہمت سے لڑائی لڑتا ہے۔ ہم ٹیم پاکستان سے یہی کہیں گے ہماری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں اور آپ سے بھی اپیل ہے کہ خدا کے لیے قوم کو مایوس نہ کرنا، جیت کے آو گے تو تمھیں سر پر بٹھائیں گے اور ہار گے بھی آئے تو ایسے ہارنا کہ واپس آکر قوم سے نظریں ملا سکو۔ اللہ پاک تمھارا حامی و ناصر ہو۔
مکمل تحریر >>

Friday, January 30, 2015

پاک چین دوستی کی یادگار کے طور پر 20 روپے کا سکہ جاری


اسلام آباد: حکومت پاکستان نے پاک چین دوستی کی یادگار کے طور پر 20 روپے کا سکہ جاری کر دیا۔

سکے کے فرنٹ پر اسلامی جمہوریہ پاکستان لکھا گیا ہے جبکہ درمیان میں چاند تارا بنایا گیا ہے جبکہ پشت پر پاکستان اور چین کے جھنڈے بنائے گئے ہیں، یہ سکہ آج سے ملک بھر میں استعمال ہوسکے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی لازوال تصور کی جاتی ہے اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حالیہ دورہ چین کے موقع پر چینی حکام نے پاکستان کی تشویش کو اپنی تشویش قرار دیا تھا جب کہ مارچ میں چین کے صدر پاکستان کا دورہ بھی کریں گے۔
مکمل تحریر >>

Monday, January 26, 2015

موسمیاتی تبدیلیاں اور ایٹمی ہتھیار دنیا کو قیامت کے قریب لا رہے ہیں


واشنگٹن: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور ایٹمی ہتھیا دنیا کو قیامت کے قریب لارہے ہیں۔

بلیٹن آف اٹامک سائنٹسٹس نامی گروپ نے قیامت کی گھڑی کو 2 منٹ آگے بڑھادیا ہے جس کے بعد یہ آدھی رات سے صرف 3 منٹ دور رہ گئی ہے، قیامت کی گھڑی 1947 میں بنائی گئی تھی، اسے 18 مرتبہ تبدیلی کیا جاچکا ہے۔ 1953 میں یہ گھڑی آدھی رات سے 2منٹ دوری پر تھی جبکہ 1991 میں یہ 17 منٹ دور کردی گئی تھی، یہ گھڑی 2012 سے آدھی رات سے 5 منٹ کے فاصلے پر تھی تاہم اب اسے2 منٹ آگے کردیا گیا ہے اور اب یہ 3 منٹ کی دوری پر رہ گئی ہے، آخری مرتبہ یہ 1983 میں اس پوزیشن پر آئی تھی جب امریکا اور سوویت یونین کے درمیان سرد جنگ چل رہی تھی۔

گروپ کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کینٹ بینیڈکٹ کا کہنا ہے موسمیاتی تبدیلی اور نیوکلیئر ہتھیاروں کی دوڑ اور بڑی تعداد میں موجود ان کے اثاثوں کی وجہ سے انسانی تہذیب کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ایسے اقدامات کرنے ہونگے جن سے گرین ہاؤس گیسز کا اخراج محدود بنایا جاسکے تاکہ درجہ حرارت تیزی سے نہ بڑھے، گروپ کے ایک اور رکن رچرڈ سومرویل نے بتایا کہ 2014 اب تک کے ریکارڈ کے مطابق گرم ترین سال تھا۔

سائنسدانوں نے نیوکلیئر ہتھیاروں پر خرچ کی جانے والی رقم میں ڈرامائی کمی کا بھی مطالبہ کیا۔بینیڈکٹ نے کہا کہ دنیا میں اس وقت 16300 نیوکلیئر ہتھیار موجود ہیں جو ان کے مطابق بہت زیادہ ہیں۔ روس اور امریکا کے پاس سرد جنگ کے مقابلے میں اب کافی کم نیوکلیئر ہتھیار ہیں تاہم انہیں ختم کرنے کا عمل تقریباً رک چکا ہے۔
مکمل تحریر >>

Sunday, January 25, 2015

سابق سعودی بادشاہ نے نواز شریف کو اپنی گھڑی دے کر بھائی کا درجہ دیا


لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف اور سعودی شاہی خاندان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی اچھے رہے ہیں اور سابق سعودی بادشاہ فہد بن عبدالعزیز نے نواز شریف کو اپنا بھائی قرار دے رکھا تھا۔ حال ہی میں لکھے گئے کالم میں سینئر صحافی نذیر ناجی نے لکھا ہے کہ شاہ عبداللہ کے پیش رو، شاہ فہد نے وزیراعظم پاکستان نواز شریف کو اپنا بھائی بنا رکھا تھا۔ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب نواز شریف سعودی عرب گئے، تو وہاں ان کا تاریخی خیر مقدم کیا گیا۔ سعودی عرب میں جلسہ عام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی، لیکن نواز شریف کےلئے ساری پابندیاں ختم کردی گئیں اور انہوں نے جدہ میں، ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا۔


سعودی عرب کا سارا شاہی خاندان، پاکستان کے ایٹمی قوت بننے پر انتہائی خوش تھا۔ شاہ فہد نے نواز شریف کے اعزاز میں ایک خصوصی دعوت دی، جس میں انہوں نے نواز شریف کو اپنا بھائی قرار دیتے ہوئے، اپنی کلائی پر بندھی گھڑی اتار کے نواز شریف کو پیش کردی۔ اس پر نواز شریف بہت خوش تھے۔ شاہ فہد نے قبائلی انداز میں اس رشتے کو زندگی بھر نبھایا۔ جب نواز شریف کو انتہائی تکلیف دہ حالات میں قید کیا گیا، تو شاہ فہد اور پرنس عبداللہ دونوں ہی فکر مند ہوئے اور انہوں نے امریکہ میں اپنے سفیر شہزادہ بندربن سلطان کو یہ ذمہ داری دی کہ وہ نواز شریف کی رہائی کے لئے کوشش کریں۔
مکمل تحریر >>

Friday, January 23, 2015

سستا اور فوری انصاف

کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن سے کوئی سبق حاصل کرے نہ کرے، لیکن پھر بھی وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک پر ایک عادل بادشاہ کی حکومت قائم ہو گئی۔ بادشاہ عدل و انصاف کا دلدادہ تھا اور رعایا کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے کا شوقین بھی۔ رعایا ان باتوں کی عادی نہ تھی لہٰذا اس کو اکثر بد ہضمی کی شکایت رہنے لگی لیکن بادشاہ وقت انصاف کرنے سے باز نہ آیا۔

اس کے عدل کا ایک قصہ بڑا مشہور ہے۔ ایک دن بادشاہ کو ایک پرانا دوست ملنے کے لیے آیا (جس کے ساتھ مل کر بادشاہ کبھی وارداتیں کیا کرتا تھا) اور اپنے میٹرک پاس بیٹے کے لیے نوکری کی درخواست کی۔ بادشاہ نے وزیرِ خاص (جس کی ڈگری بعد میں جعلی ثابت ہوئی ) کو حکم دیا کہ ’’بچے کو سول ہسپتال میں سرجن لگا دو‘‘۔

وزیرِ خاص ہکا بکا رہ گیا۔ ’’عالی جاہ! تو پھر پہلے سے موجود سرجن کا کیا کروں؟‘‘۔ حکم ہوا، ’’اسے تھانیدارلگا دو۔ ‘‘ وزیر نے پھر دہائی دی، ’’تھانیدار کو کہاں بھیجوں؟‘‘۔ ’’اسے جیل میں ڈال دو‘‘، بادشاہ نے زچ ہو کر کہا۔ درباری نورتن (جنہیں مخالفین کفن چور ٹولہ کہتے تھے) اس فیصلے پر عش عش کر اٹھے۔ بادشاہ اس مقولے کا قائل تھا کہ اختیارات سنبھال کر رکھنے کی چیز نہیں ہوتے بلکہ خوب استعمال کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ چنانچہ وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں اختیارات استعمال کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرتا۔

ایک دن بادشاہ دربار لگائے بیٹھا تھا۔ ایک خوش الحان مغنیہ دربار میں نغمہ سرا تھی کہ اس دوران انصاف کا وقت ہو گیا۔ وزیر انصاف (جو تازہ تازہ جیل سے رہا ہو کر آیا تھا) نے بادشاہ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی۔ بادشاہ نے گانا عارضی طور پر روک دیا اور ملزمان کو پیش کرنے کا حکم دیا۔ ملزمان کا ریوڑ دربار میں پیش ہوا تو بادشاہ نے چھڑی کے اشارے سے انہیں دو حصوں میں بٹ جانے کا حکم دیا۔ چنانچہ نصف ملزمان دائیں اور باقی بائیں طرف ہو کر کھڑے ہو گئے۔ بادشاہ نے تمام مقدمات کا مختصرمگر عقل شکن فیصلہ سنایا کہ ’’دائیں طرف والے سارے بری جبکہ بائیں طرف والے تمام ملزم سزائے موت‘‘۔ درباری بیربلوں اور ملا دو پیازوں نے اس سستے اور فوری انصاف پر داد کے ڈونگرے برسائے اور گانے کا سلسلہ وہیں سے شروع ہو گیا، جہاں سے ٹوٹا تھا۔

سبق: سستا اور فوری انصاف ہی قوموں کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔
مکمل تحریر >>

چالاک کوا


کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن سے کوئی سبق حاصل کرے نہ کرے، لیکن پھر بھی وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک کوا بہت پیاسا تھا۔ وہ پانی کی تلاش میں اِدھر اُدھر اڑ رہا تھا۔ اس دوران اس کو کئی گھڑے نظر آئے مگر وہ گھڑے کا پانی پینے والا کوا نہیں تھا۔ وہ جدید دور کا کوا تھا، اس کو تو کسی ریفریجریٹر کی تلاش تھی۔ آخر اسے ایک فریج نظر آ گیا۔ وہ لپک کر اس کے پاس پہنچا مگر بجلی نہیں تھی اور ریفریجریٹر بند پڑا تھا۔

کوا بجلی گھرگیا اور بجلی ٹھیک کرنے کی درخواست دی۔ اس کی درخواست میز در میز رسوا ہوتی رہی لیکن کوے کی شنوائی نہ ہوئی۔ کوا بڑا چالاک تھا۔ وہ سارا دن منڈیروں پر بیٹھ کر انسانوں کے کرتوت دیکھتا تھا اور ان کی خصلتوں اور خباثتوں سے خوب واقف تھا۔ لہٰذا وہ اڑ کر گیا اور لال، نیلے نوٹ لا لا کر لائن مین کی جیب میں ڈالنے لگا، یہاں تک کہ اس کی جیب بھر گئی۔ لائن مین فوراً گیا اور بجلی ٹھیک کر دی۔ چالاک کوے نے فریج سے ٹھنڈا پانی پیا اور طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ اڑ گیا۔

سبق: رشوت ہر کام کی ماں ہے۔
مکمل تحریر >>

جلد بازی کا انجام

کچھ کہانیاں ایسی بھی ہوتی ہیں، جن سے کوئی سبق حاصل کرے نہ کرے، لیکن پھر بھی وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی رہتی ہیں۔
 
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی گاؤں میں ایک چوہدری رہتا تھا۔ اس کے ساتھ حویلی میں ایک ملازم خاص (میراثی) بھی رہائش پذیر تھا۔ مالک اور نوکر ایک ایسی سست الوجود قوم سے تعلق رکھتے تھے جو ٹھہرے ہوئے، پر سکون مزاج کی مالک تھی اور آج کا کام کل پر چھوڑنے کی عادی تھی۔

ایک دن چوہدری پکوڑے کھانے کے بعد اخبار سے بنے لفافے کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ اس نے خبر پڑھی کہ محکمہ زراعت نے جدید پیوند کاری کے ذریعے گندم کا ایسا بیج ایجاد کیا ہے جو دگنی فصل دیتا ہے۔ چوہدری نے ملازمین کو اکٹھا کر کے نئے بیج کے متعلق صلاح مشورہ شروع کیا۔ صلاح مشورے کی مختلف نشستیں جاری رہیں اورآخر ایک سال بعد گندم کا بیج مذکورہ بونے کا فیصلہ ہو گیا۔

فصل بونے کا موسم قریب آیا تو چوہدری نے ملازم خاص کو بیج لانے کے لیے شہر بھیجا۔ میراثی لاری پر طویل سفر طے کر کے شہر پہنچا تو تھکاوٹ سے چوُر تھا۔ وہ شہر میں اپنے ایک عزیز کے گھر گیا تاکہ چند دن آرام کر کے سفر کی تھکاوٹ دور کرے اور بیج خرید کر واپسی کا قصد کرے۔ میراثی کو شہر میں مختلف عزیزوں اور دوستوں کے ہاں آرام کرتے اور ’’بتیاں شتیاں‘‘ دیکھتے ایک سال کا عرصہ گزر گیا۔

آخر جب دوبارہ فصل کاشت کرنے کا موسم آیا تو چوہدری کو میراثی کی یاد آئی۔ اس نے ایک اور نوکر کو شہر بھیجا تاکہ میراثی کو ڈھونڈ کر لائے۔ در اصل چوہدری کو روایت سے ہٹ کر فصل بونے کی جلدی پڑگئی تھی (جیسے کچھ لوگوں کوبجلی چوروں کے خلاف کارروائی کرنے کی جلدی ہوتی ہے)۔

نوکر نے بڑی مشکل سے میراثی کو شہر میں تلاش کیا اور چوہدری کا پیغام پہنچایا۔ میراثی جب بیج کی بوری کمر پر اٹھائے گاؤں پہنچا تو بارش کے باعث ہر طرف کیچڑ ہی کیچڑ تھا۔ وہ حویلی کے گیٹ سے داخل ہوا تو اس کا پاؤں پھسلا اور وہ دھڑام سے بوری سمیت گر گیا۔ بوری پھٹ گئی اور سارا بیج کیچڑ میں بکھر گیا۔ چوہدری نے آگے بڑھ کر میراثی کو اٹھانا چاہا تو وہ کیچڑ میں لیٹے لیٹے ہاتھ کھڑا کر کے بولا ’’بس رہنے دیں چوہدری صاحب! آپ کی جلد بازیوں نے ہمیں ما رڈالا ہے‘‘۔ چوہدری پر گھڑوں پانی پڑ گیا اور اسے اپنی غیر حکیمانہ عجلت پر سخت ندامت ہوئی۔

سبق: جلد بازی شیطان کا کام ہے، چاہے وہ فصل بونے میں کی جائے یا ڈیمز وغیرہ بنانے میں۔ دہشت گردی ختم کرنے کے سلسلے میں کی جائے یا لوڈ شیڈ نگ اور مہنگائی پر قابو پانے میں۔
مکمل تحریر >>

Thursday, January 22, 2015

آلو کے باریک چپس پہلی دفعہ کس نے بنائے


اگر آپ چپس کھائے بغیر رہ نہیں سکتے تو اس کا الزام" جارج کَرَم " نامی باورچی کو دیجیے۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1853ء میں اتفاقاً آلو کے چپس ایجاد کیے تھے۔ ہوا یہ کہ امریکہ کی ریاست نیویارک کے شہرساراٹوگا سپرنگز میں مونز لیک ہاؤس نامی ایک ریستوران میں کام کرتے تھے۔ ان کا ایک گاہک تلے ہوئے آلو منگواتا تھا مگر ہمیشہ یہ کہہ کر واپس بھیج دیتا تھا کہ وہ زیادہ کرارے نہیں بلکہ ڈھیلے ڈھالے ہیں۔ ایک دن تنگ آ کر جارج نے آلوؤں کے جتنے پتلے قتلے بنانا ممکن تھا، اتنے پتلے قتلے بنا لیے۔اس کے بعد انہوں نے آلوؤں کے ان قتلوں کو تیل میں تل لیا۔ آلوؤں کے تلے ہوئے قتلوں پر جارج نے نمک چھڑک دیا۔ آلوؤں کے یہ قتلے نہ صرف ان کے نازک مزاج گاہک کو بہت پسند آئے بلکہ اس ریستوران میں آنے والے تمام گاہکوں نے بھی انہیں پسند کیا۔ رفتہ رفتہ پورے نیو یارک میں ’’ساراٹوگا چپس‘‘ مقبول ہو گئے۔ لوگ آلو کے چپس گھروں میں بنانے لگے۔
اب ایک مسئلہ یہ تھا کہ بیرلوں یا ڈبوں میں محفوظ کیے جانے والے چپس جلد باسی ہو کر خراب ہو جاتے تھے۔1920ء کے عشرے میں لاورا سکڈر نے ہوا بند تھیلی ایجاد کر لی۔ وہ تھیلی اس طرح بنائی جاتی کہ دو مومی کاغذوں پر گرم استری پھیر کر انہیں جوڑ لیا جاتا تھا۔ اب مختلف ذائقوں والے آلو کے چپس مختلف قسم کی پیکنگ میں فروخت کیے جاتے ہیں اور ہر عمر اور طبقے کے لوگ انہیں شوق سے کھاتے ہیں۔
مکمل تحریر >>

سعودی فرماں رواشاہ عبداللہ علالت کے بعد انتقال کرگئے



ریاض (خصوصی رپورٹ ) سعودی فرماں رواشاہ عبداللہ علالت کے بعد انتقال کرگئے ہیں ، اُن کی عمر 91برس تھی ۔سرکاری حکام نے الرمین الشریفین شا ہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی موت کی تصدیق کردی ۔

شاہی خاندان کے ذرائع کے مطابق شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ عصر کے بعد ہوگی ۔

عرب میڈیا کے مطابق شاہ عبداللہ کو مہروں کی تکلیف بھی تھی جبکہ تین ہفتےقبل اُنہیں نمونیا کی شکایت پر ہسپتال داخل کرایاگیاتھا، دل ، گردوں اور پھیپھڑوں نے کام کرناچھوڑدیاتھا۔ اُنہوں نے سوگواران میں چار بیویاں ، سات بیٹے اور 15 بیٹیاں چھوڑی ہیں ، شاہ عبداللہ یگم اگست 1924ء کو پیدا ہوئے تھے ۔

عرب میڈیا کے مطابق شاہ عبداللہ کے انتقال کے بعد شہزادہ سلمان بن نئے فرماں روا بن گئے ہیں او ر وہ نماز عشاء کے بعد حلف اُٹھائیں گے جبکہ شہزادہ مقرن کو سعودی سلطنت کا ولی عہد مقررکردیاگیا۔

شاہ عبداللہ کو خواتین کے حقوق کے سلسلے میں بہترسربراہ مملکت تصور کیاجاتاہے ، اُنہوں نے خواتین کو ووٹ ڈالنے اور اولمپکس کھیلنے کا حق دیاتھا۔

یادرہے کہ وہ اٹھارہ ارب ڈالر کے ساتھ دنیا بھر میں چوتھے امیر ترین سربراہ مملکت تھے اور اُنہوں نے 2005ء میں شاہ فہد کے انتقال پر عہدہ سنبھالا تھا جبکہ وہ 1962ء میں سعودی نیشنل گارڈ کے کمانڈز منتخب ہوئے تھے ۔
مکمل تحریر >>

Wednesday, January 14, 2015

باتھ روم میں سانپ ،معمہ حل ہو گیا


نیویارک (نیوز ڈیسک) چند روز قبل امریکی ریاست کیلیفورنیا میں ایک ”پی آر“ ایجنسی میں کام کرنے والی خاتون ” ہونی ویلز“ کمپنی کے باتھ روم میں گئی تو وہاں کا منظر دیکھ کر خوف سے قریباً اس کی جان ہی نکل گئی۔ اس نے دیکھا کہ ٹوائلٹ سیٹ کے ساتھ 5 فٹ لمبا ہٹا کٹا ”بوا کنٹرکٹر“ سانپ موجود تھا۔

ہونی نے الٹے پیر واپس دوڑ لگا دی اور فیس بک پر بھی یہ واقعہ سنا ڈالا۔ بس پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کے اخبارات نے بھی یہ خبر شائع کر دی اور طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ یہ سانپ آخر ٹوائلٹ میں پہنچا کس طرح۔ عمارت کے مکینوں کا بھی کہنا تھا کہ اب انہیں باتھ روم استعمال کرنے سے ہی ڈر لگ رہا ہے کہیں اور بھی سانپ تو عمارت میں موجود نہیں تاہم اب یہ معمہ حل ہو گیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ سانپ کا مالک اسی عمارت میں دو منزل اوپر رہتا ہے۔ سانپ کا ٹینک اس نے کھڑکی کے نزدیک رکھا تھا اور جب اس کو غائب پایا تو اس نے سمجھا کہ شائد وہ کھڑکی سے نکل کر باہر چلا گیا ہے۔ اب اس واقعہ پر ہنگامہ ہوا تو مالک بھی اپنا سانپ واپس لینے پہنچ گیا تاہم اب عمارت کے مالک کا کہنا ہے کہ وہ ضابطے میں تبدیلی کرنے جا رہا ہے جس کے بعد عمارت میں خطرناک جانوروں کو پال نہیں سکیں گے۔
مکمل تحریر >>

ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف اغواءکیس کا پہلا چالان مکمل ، کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے


اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک ) ممبئی حملہ کیس میں نامزد ملزم ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف اغواءکیس کا پہلا عبوری چالان مکمل کر لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق عدالتی احکامات کے بعد ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف اغواءکیس کا پہلا عبوری چالان مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ اس عبوری چالان کو پراسیکیوشن برانچ کو بھی بھجوا دیا گیا ہے۔

اس کاروائی کے بعد پراسیکیوشن برانچ اس چالان کا جائزہ لے گی جس کے بعد اس چالان کو عدالت بھجوایا جائے گا۔ا س چالان میں ذکی الرحمان لکھوی کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے، تاہم ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ تفتیش کے دوران ذکی الرحمان لکھوی کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے ہیں۔
مکمل تحریر >>

Ads

Google Translator

Blogger Tips And Tricks|Latest Tips For BloggersFree BacklinksBlogger Tips And Tricks
English French German Spain Italian Dutch Russian Portuguese Japanese Korean Arabic Chinese Simplified
Powered By google

BidVertiser